شاعری

ندامت ہی ندامت

رات کے معدے میں کاری زہر ہے جلتا ہے جس سے تن بدن میرا میں کب سے چیختا ہوں درد سے چلاتا پھرتا ہوں تشدد خوف دہشت بربریت اور مغلظ رات کی رانوں میں شہوت ایک کالا پھول بنتی ہے شہوت جاگتی ہے گھورتی ہے سرخ آنکھوں سے وہ چہرے نوچتی کھاتی ہے اپنے تند جبڑوں سے یہ کیسا زہر ہے جو پھیلتا جاتا ہے ...

مزید پڑھیے

ایک لمبی کافر لڑکی

وادی کی سب سے لمبی لڑکی کے جسم کے سب مساموں سے ریشم سے زیادہ ملائم اور نرم خموشی میں گھنٹیوں کی آوازیں آ رہی تھیں برکھا کی اس نم زدہ رات میں جب اس کے جسم پہ قوس قزح چمکی تو گھنٹیاں تیز تیز بجنے لگیں مرے کانوں میں آہٹیں آ رہی تھیں دھند سے بھی نرم اور ملائم بادلوں کی دبے پاؤں ...

مزید پڑھیے

پچھلے جنم کی ایک نظم

مجھے لگتا ہے زمین کے کسی گمنام منطقے میں ہم کبھی ساتھ ساتھ رہتے تھے مجھے اب تمہارا نام یاد نہیں تمہاری شکل بھی یاد نہیں مگر یہ لگتا ہے کہ شاید کئی صدیاں پہلے کسی پچھلے جنم کی سیڑھیوں پر ہم ساتھ ساتھ بیٹھتے تھے وہ سیڑھیاں کہاں تھیں اور پچھلا جنم کہاں ہوا تھا مجھے تو یاد نہیں شاید ...

مزید پڑھیے

اس عہد کی بے حس ساعتوں کے نام

یہاں اب ایک تارہ زرد تارہ بھی نہیں باقی یہاں اب آسماں کے چیتھڑوں کی پھڑپھڑاہٹ بھی نہیں باقی یہاں پر سارے سورج تارے سورج تیرتے افلاک سے گر کر کسی پاتال میں گم ہیں یہاں اب سارے سیاروں کی گردش رک گئی ہے یہاں اب روشنی ہے اور نہ آوازوں کی لرزش ہے نہ جسموں میں ہی حرکت ہے یہاں پر اب ...

مزید پڑھیے

زوال کی آخری ہچکیاں

زوال کے آسمانوں میں لڑکھڑاتے اندھیرے خلاؤں کی دنیاؤں میں معلق ہوتے اندھیرے شہروں کے برجوں کی گمنام فصیلوں پر گرتے تشدد سے آباد انسانی بستیوں کے چہروں سے لپٹتے اور انسانی وجود کی دھجیاں دیکھ کر چیختے روتے کتنے ہزار سال بیت گئے ہیں کتنے ہزار سالوں سے زوال کی چیخوں کو سنتے ...

مزید پڑھیے

اے کے شیخ کے پیٹ کا کتا

رات بھر کتا اس کے پیٹ میں بھونک رہا تھا کیسی کیسی آوازیں تھیں بھوں بھوں بھوں بھوں ووں ووں ووں ووں سارا کمرہ اس کی پاگل آوازوں سے ووں ووں کرتا ہانپ رہا تھا گز بھر لمبی سرخ زباں بھی اس کے حلق سے نکل رہی تھی رالیں منہ سے ٹپک رہی تھیں ہلتے کان اور ہلتی دم سے کتا بھوں بھوں بھوں بھوں ...

مزید پڑھیے

ایک رات سفید گلابوں والے تالاب کے پاس

وہ ایک شب تھی سفید گلابوں والے تالاب کے بالکل نزدیک بادلوں کی پہلی آہٹ پر اس نے رکھ دیے ہونٹ ہونٹوں پر موسیقی کی تتلی گیت گانے لگی اس کے سانسوں کے آس پاس اس کی خوشبوؤں کے گھنگھرو بج رہے تھے اس شب ہوا کی سفید گلابی چھتوں پر وہ امڈ رہی تھی ایک تیز سمندری لہر کی طرح وہ جسم پر نقش ہو ...

مزید پڑھیے

زوال کی آخری چیخ

چھٹی بار جب میں نے دروازہ کھولا تو اک چیخ میرے بدن کے مساموں سے چمٹی بدن کے اندھیروں میں اتری مرا جسم اس چیخ کے تند پنجوں سے جھلسی ہوئی بے کراں چیخ تھا میں لرزتا ہوا کہنہ گنبد سے نکلا اور چیخ میرے بدن سے سیاہ گھاس کی طرح نکلی بدن کے کروڑوں مساموں کے منہ پر سیاہ چیخ کا سرخ جنگل اگا ...

مزید پڑھیے

جسم کے اندر جسم کے باہر

میں نے زمیں کی تپتی رگوں پہ ہاتھ دھرے ہیں میں نے زمیں کی تپتی رگوں سے تپتے لہو کو ابلتے دیکھا ہے ان رستوں پہ ان گلیوں پہ پتھر جیسی سخت ہوا کے سرخ دھماکے دیکھے ہیں رات کی متورم گھڑیوں میں زرد مکانوں کے صحنوں میں لہو کو گرتے دیکھا ہے قطرہ قطرہ قطرہ قطرہ قطرہ بنتے بنتے ایک سمندر اک ...

مزید پڑھیے

کڑوے تلخ کسیلے ذائقے

ہم شوریدہ کڑوے تلخ کسیلے ذائقے رات کی پر شہوت آنکھوں سے ٹپکے تازہ قطرے شام کے کالے سیاہ ماتھے کی ننگی مخروطی خارش دوپہروں کے جلتے گوشت کی تیز بساند رات کی کالی ران سے بہتا اندھا لاوا خلیج کی گہرائی سے باہر آتا قدم قدم پر خوف تباہی دہشت پیدا کرتا بکھر رہا ہے راتوں کی سیال ملامت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 102 سے 960