شاعری

بوئے گل باد صبا لائی بہت دیر کے بعد

بوئے گل باد صبا لائی بہت دیر کے بعد میرے گلشن میں بہار آئی بہت دیر کے بعد چھپ گیا چاند تو جلووں کی تمنا ابھری آرزوؤں نے لی انگڑائی بہت دیر کے بعد نرگسی آنکھوں میں یہ اشک ندامت توبہ موج مے شیشوں میں لہرائی بہت دیر کے بعد صحن گلشن میں حسیں پھول کھلے تھے کب سے ہم ہوئے خود ہی ...

مزید پڑھیے

اک آن میں ہی یوں ترا پیکر بدل گیا

اک آن میں ہی یوں ترا پیکر بدل گیا جیسے اسٹیج پر کوئی منظر بدل گیا سنتا نہیں ہے کوئی بھی میری پکار کو دستک بدل گئی کہ مرا گھر بدل گیا اک آن میں ہی سب در و دیوار دھل گئے بارش سے شہر بھر کا مقدر بدل گیا خلوت میں جس کے لب پہ تھے میری وفا کے گیت وہ شخص میرے سامنے آ کر بدل گیا بیتابؔ اب ...

مزید پڑھیے

خود اپنے عکس کو حیرت سے دیکھتا ہوں میں

خود اپنے عکس کو حیرت سے دیکھتا ہوں میں کنار آب بڑی دیر سے کھڑا ہوں میں سوانگ بھرتا پھروں کب تلک محبت کے میں کیوں نہ صاف ہی کہہ دوں کہ بے وفا ہوں میں سنا نہ قصے مجھے دامنوں کی عصمت کے کہ تیرے شہر کے لوگوں کو جانتا ہوں میں وہ کون ہے جو مرے ساتھ ساتھ چلتا ہے یہ دیکھنے کو کئی بار رک ...

مزید پڑھیے

خوشبو مرے بدن میں رچی ہے خلاؤں کی

خوشبو مرے بدن میں رچی ہے خلاؤں کی میں سیر کر رہا ہوں ابھی تک فضاؤں کی مت روک اپنے لب پہ نظر کی حقیقتیں تیری ہر اک صدا ہے امانت ہواؤں کی ہے کون جو کرے گا صداقت سے مول تول قیمت طلب کروں بھی تو کس سے وفاؤں کی اٹھی ہیں اس طرح سے حوادث کی آندھیاں مٹی میں تاب مل گئی رنگیں قباؤں ...

مزید پڑھیے

کل تلک قانع رہا جو گردش تقدیر پر

کل تلک قانع رہا جو گردش تقدیر پر مستعد ہے آج وہ آفاق کی تسخیر پر شور و غل میں شہر کے اس کی صدا بھی کھو گئی ناز تھا جس کو کہ اپنے نطق کی تاثیر پر جو بھری محفل کے دل میں روشنی پھیلا گئی وہ خفا ہے آج تک میری اسی تقریر پر اور جب وہ لے سکا مجھ سے نہ کوئی انتقام ڈال دی اک خاک کی مٹھی مری ...

مزید پڑھیے

پھر سرخ پھول شہر کے پیڑوں میں آ گئے

پھر سرخ پھول شہر کے پیڑوں میں آ گئے روحوں میں جتنے زخم تھے چہروں میں آ گئے ہر اک دریچہ پھول سے چہروں سے بھر گیا اب تو چمن بھی شہر کی گلیوں میں آ گئے دل میں ترے خلوص کے دریا تھے گر رواں شعلے کہاں سے پھر تری آنکھوں میں آ گئے اب دیکھئے گا کس طرح اڑتی ہیں کرچیاں پتھر سے لوگ آئنہ ...

مزید پڑھیے

آنکھ کے کنج میں اک دشت تمنا لے کر

آنکھ کے کنج میں اک دشت تمنا لے کر اجنبی دیس کو نکلے دل تنہا لے کر دیکھ تو کھول کے تاریک مکاں کی کھڑکی ہم ترے شہر میں آئے ہیں اجالا لے کر ہم بھی پہنچے تھے گلستاں میں سکوں کی خاطر آ گئے ذہن میں تپتا ہوا صحرا لے کر اب نگاہوں کی جراحت کو لیے سوچتے ہیں کیوں گئے بزم میں ہم ذوق تماشا ...

مزید پڑھیے

کسی کی نبض پہ اس طرح انگلیاں رکھ دے

کسی کی نبض پہ اس طرح انگلیاں رکھ دے کہ تیرے سامنے وہ دل کی داستاں رکھ دے میں زخم زخم بدن کو چھپاؤں کس کس سے خدا کے واسطے تو ہاتھ سے کماں رکھ دے تو ایک بار مجھے دھرنے دے زمیں پہ قدم پھر اس کے بعد مرے سر پہ آسماں رکھ دے جو دیکھنا ہے مری روح کی توانائی تو میرے جسم کو شعلوں کے درمیاں ...

مزید پڑھیے

پڑا ہوا میں کسی آئنے کے گھر میں ہوں

پڑا ہوا میں کسی آئنے کے گھر میں ہوں یہ تیرا شہر ہے یا خواب کے نگر میں ہوں اڑائے پھرتی ہے ان دیکھے ساحلوں کی ہوا میں ایک عمر سے اک بے کراں سفر میں ہوں تجھے یہ وہم کہ میں تجھ سے بے تعلق ہوں مجھے یہ دکھ کہ ترے حلقۂ اثر میں ہوں مری تلاش میں گرداں ہیں تیر کرنوں کے چھپا ہوا میں خنک ...

مزید پڑھیے

زندگی نے بخشا ہے زہر آگہی مجھ کو

زندگی نے بخشا ہے زہر آگہی مجھ کو کر دیا گیا اندھا دے کے روشنی مجھ کو خواب کا ہر اک شیشہ سو جگہ سے ٹوٹا ہے کس قدر پڑی مہنگی آئینہ گری مجھ کو دوسروں سے نفرت کا خواب تک نہ دیکھوں گا دوستو خود اپنے سے عشق ہی سہی مجھ کو میں جہاں بھی ہوں لیکن مطمئن تو بیٹھا ہوں تیرے رشد سے بہتر میری ...

مزید پڑھیے
صفحہ 990 سے 4657