قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں
قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی کس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھول اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل ...