شاعری

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں

قربتیں ہوتے ہوئے بھی فاصلوں میں قید ہیں کتنی آزادی سے ہم اپنی حدوں میں قید ہیں کون سی آنکھوں میں میرے خواب روشن ہیں ابھی کس کی نیندیں ہیں جو میرے رتجگوں میں قید ہیں شہر آبادی سے خالی ہو گئے خوشبو سے پھول اور کتنی خواہشیں ہیں جو دلوں میں قید ہیں پاؤں میں رشتوں کی زنجیریں ہیں دل ...

مزید پڑھیے

کوئی سچے خواب دکھاتا ہے پر جانے کون دکھاتا ہے

کوئی سچے خواب دکھاتا ہے پر جانے کون دکھاتا ہے مجھے ساری رات جگاتا ہے پر جانے کون جگاتا ہے کوئی دریا ہے جس کی لہریں مجھے کھینچ رہی ہیں اور کوئی مری جانب ہاتھ بڑھاتا ہے پر جانے کون بڑھاتا ہے کبھی جائے نماز کی بانہوں میں کبھی حمد درود کی چھاؤں میں کوئی زار و زار رلاتا ہے پر جانے ...

مزید پڑھیے

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ...

مزید پڑھیے

پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں

پھر جی اٹھے ہیں جس سے وہ امکان تم نہیں اب جو بھی کر رہا ہے یہ احسان تم نہیں مجھ میں بدل رہا ہے جو اک عالم خیال اس لمحۂ جنوں کے نگہبان تم نہیں بجھتے ہوئے چراغ کی لو جس نے تیز کی وہ اور ہی ہوا ہے مری جان تم نہیں پھر یوں ہوا کہ جیسے گرہ کھل گئی کوئی مشکل تو بس یہی تھی کہ آسان تم ...

مزید پڑھیے

کبھی ستارے کبھی کہکشاں بلاتا ہے

کبھی ستارے کبھی کہکشاں بلاتا ہے ہمیں وہ بزم میں اپنی کہاں بلاتا ہے نہ جانے کون سی افتاد آ پڑی ہے کہ جو ہم اہل عشق کو کار جہاں بلاتا ہے یہ کیسا دام رہائی بچھا دیا اس نے زمیں پکڑتی ہے اور آسماں بلاتا ہے گلی گلی میں عقیدوں بھری دکانیں ہیں قدم قدم پہ نیا آستاں بلاتا ہے بھٹک گئے ...

مزید پڑھیے

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں

اجنبی حیران مت ہونا کہ در کھلتا نہیں جو یہاں آباد ہیں ان پر بھی گھر کھلتا نہیں راستے کب گرد ہو جاتے ہیں اور منزل سراب ہر مسافر پر طلسم رہ گزر کھلتا نہیں دیکھنے والے تغافل کار فرما ہے ابھی وہ دریچہ کھل گیا حسن نظر کھلتا نہیں جانے کیوں تیری طرف سے دل کو دھڑکا ہی رہا اس تکلف سے تو ...

مزید پڑھیے

جی میں آتا ہے کہ اک روز یہ منظر دیکھیں

جی میں آتا ہے کہ اک روز یہ منظر دیکھیں سامنے تجھ کو بٹھائیں تجھے شب بھر دیکھیں بند ہے شام سے ہی شہر کا ہر دروازہ آ شب ہجر کہ اب اور کوئی گھر دیکھیں ایسے ہم دیکھتے ہیں دل کے اجڑنے کا سماں جس طرح داسیاں جلتا ہوا مندر دیکھیں میرے جنگل میں ہی منگل کا سماں ہے پیدا شہر کے لوگ مرے ...

مزید پڑھیے

صحراؤں میں جا پہنچی ہے شہروں سے نکل کر

صحراؤں میں جا پہنچی ہے شہروں سے نکل کر الفاظ کی خوشبو مرے ہونٹوں سے نکل کر سینے کو مرے کر گیا اک آن میں روشن اک نور کا کوندا تری آنکھوں سے نکل کر میں قطرۂ شبنم تھا مگر آج ہوں سورج آ بیٹھا ہوں میں صدیوں میں لمحوں سے نکل کر ہو جائیں گے بستی کے در و بام منور سورج ابھی چمکے گا ...

مزید پڑھیے

تابانیٔ رخ لے کر تم سامنے جب آئے

تابانیٔ رخ لے کر تم سامنے جب آئے محسوس ہوا ایسا ہم چاند سے ٹکرائے برکھا کا یہ موسم بھی کس درجہ سہانا ہے آہوں کی ادھر بدلی زلفوں کے ادھر سائے آگاہ نہ تھے پہلے ہم عشق کی راہوں سے پھولوں کے اشاروں پر کانٹوں میں چلے آئے ہونٹوں کے تبسم پر سو بجلیاں رقصاں ہیں بکھراتے ہیں وہ شعلے ...

مزید پڑھیے

طرب‌ آفریں ہے کتنا سر شام یہ نظارا

طرب‌ آفریں ہے کتنا سر شام یہ نظارا ترے ہونٹ پر شفق ہے مری آنکھ میں ستارا کیا میں نے جب کسی کے رخ و زلف سے کنارا کبھی صبح نے صدا دی کبھی شام نے پکارا گل و غنچہ اصل میں ہیں تری گفتگو کی شکلیں کبھی کھل کے بات کہہ دی کبھی کر دیا اشارا ترا نام لے کے جاگے تجھے یاد کر کے سوئے یوں ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 989 سے 4657