ہے آرزو کہ اپنا سراپا دکھائی دے
ہے آرزو کہ اپنا سراپا دکھائی دے آئینہ دیکھتا ہوں کہ چہرہ دکھائی دے مصروف اس قدر تھے کہ ساون گزر گیا حسرت رہی کہ ابر برستا دکھائی دے خاموش ہوں کہ بولنا تہمت ہے اس جگہ جب دیکھنا نہیں ہے تو پھر کیا دکھائی دے سوچا تھا بس کہ ذہن میں تصویر بن گئی اب آنکھ کہہ رہی ہے کہ چہرہ دکھائی ...