شاعری

بارہا دل توڑنا اچھا نہیں

بارہا دل توڑنا اچھا نہیں مان جاؤ روٹھنا اچھا نہیں زندگی ہر موڑ پر غم دے چکی اب ترا منہ پھیرنا اچھا نہیں ہاتھ کو ہاتھوں میں لینا ٹھیک پر چوڑیوں کو توڑنا اچھا نہیں غیر سے ملنا گوارا ہے تمہیں بس ہمارا سامنا اچھا نہیں عشق کو سنجیدگی سے لو میاں عشق میں یہ بچپنا اچھا نہیں جیتنا ...

مزید پڑھیے

مجھے کہانی کے کردار سے محبت تھی

مجھے کہانی کے کردار سے محبت تھی کہ جس میں سائے کو دیوار سے محبت تھی وہ اس لئے بھی نہیں چھوڑتا تھا ساتھ مرا اسے بھی اپنے عزادار سے محبت تھی کچھ اس لئے بھی میں صحرا سے آ گئی جنگل مری سرشت میں اشجار سے محبت تھی عزیز تر مجھے چادر تھی جس طرح اپنی اسے بھی ویسے ہی دستار سے محبت ...

مزید پڑھیے

عبرت دہر ہو گیا جب سے چھپا مزار میں

عبرت دہر ہو گیا جب سے چھپا مزار میں خیر جگہ تو مل گئی دیدۂ اعتبار میں توڑ رہا ہے باغباں پنکھڑیاں بہار میں کوئی تو ہو فدائے گل ایک نہیں مزار میں محو ہوں یاد چہرۂ شاہد گل عذار میں اب یہ خزاں نصیب دل جا کے ملا بہار میں اوج نہاد طبع کی مٹ کے بھی شان رہ گئی مر کے میں سوئے آسماں مل کے ...

مزید پڑھیے

کٹ گیا رشتۂ الفت جو ترا نام آیا

کٹ گیا رشتۂ الفت جو ترا نام آیا دل وفادار تھا لیکن نہ مرے کام آیا عشق کے ہاتھوں چراغ ایک سر شام آیا تیرہ بختی میں مرا دل ہی مرے کام آیا طلب ملک عدم سے نہ جہاں دیکھ سکا ابھی منزل پہ نہ اترا تھا کہ پیغام آیا نازش دہر نہ تھا میں تو پس مردن کیوں محفل غیر میں سو بار مرا نام آیا شمع ...

مزید پڑھیے

کب آئے گا وہ شہزادہ توبہ ہے

کب آئے گا وہ شہزادہ توبہ ہے کھول کے بیٹھی ہوں دروازہ توبہ ہے اب تجھ سے ملنے کی خاطر سجتی ہوں ناک میں موتی منہ پر غازہ توبہ ہے چائے میرے ہاتھ سے گرنے والی تھی اس نے اس انداز سے گھورا توبہ ہے ہونٹوں پر وہ آنکھیں جیسے ٹھہری ہیں تتلی پر اک بھنورا چھوڑا توبہ ہے شرم سے پانی ہو جانے ...

مزید پڑھیے

تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہے

تیز مجھ پر جو ستم گر کی چھری ہوتی ہے کیجیے کیا کہ لگی دل کی بری ہوتی ہے منع کرتا ہے تڑپنے سے قفس میں صیاد نالے کرتا ہوں تو گردن پہ چھری ہوتی ہے ہر بدی کرتی ہے انسان کو دنیا میں ہلاک سم قاتل ہے وہ عادت جو بری ہوتی ہے اہل دل عشق میں دم مار سکیں کیا ممکن رگ جاں کے لئے ہر سانس چھری ...

مزید پڑھیے

خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیں

خود فراموش قفس ہم ہیں چمن یاد نہیں غیر کے ہو گئے ایسے کہ وطن یاد نہیں چاندنی حسن کی اچھی ہے مگر ناز نہ کر تجھ کو اس چاند کا تاریک گہن یاد نہیں اس کی محفل میں ہوا تھا کبھی اپنا بھی گزر باتیں کچھ کی تھیں مگر مجھ کو دہن یاد نہیں شکوۂ ہجر کی خواہش نہ کر اے دل کہ تجھے سامنا ہو تو کوئی ...

مزید پڑھیے

حسن کی وہ صورتیں خواب پریشاں ہو گئیں

حسن کی وہ صورتیں خواب پریشاں ہو گئیں پردۂ دل میں لگا کر آگ پنہاں ہو گئیں مٹ کے بھی آئینۂ رخسار خوباں ہو گئیں خون اہل عشق کی بوندیں گلستاں ہو گئیں چھپ گئیں آنکھوں سے ذروں میں نمایاں ہو گئیں بستیاں اجڑی ہوئی مل کر بیاباں ہو گئیں دیکھتا کون اور بجھاتا کون اس دل کی لگی ہڈیاں جل ...

مزید پڑھیے

ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میں

ملتا جو کوئی ٹکڑا اس چرخ زبرجد میں پیوند لگا دیتا میں نفس مجرد میں بیداری فرقت میں تھا رمز قیامت کا جاگا ہوں کہ نیند آئے تاریکئ مرقد میں اس دفتر ہستی میں تعلیم بہت کم ہے دو حرف نظر آئے دیباچۂ ابجد میں گو خاک کا پتلا ہوں لیکن کوئی کیا سمجھے میں بھی کوئی شے ہوں جو گردوں ہے مری کد ...

مزید پڑھیے

یوں اکیلا دشت غربت میں دل ناکام تھا

یوں اکیلا دشت غربت میں دل ناکام تھا پیچھے پیچھے موت تھی آگے خدا کا نام تھا بنتے ہی گھر ابتدا میں رو کش انجام تھا تنکے چن کر جب نظر کی آشیاں اک دام تھا بے محل دل کے بجھانے سے انہیں کیا مل گیا جس کو شمع صبح سمجھے وہ چراغ شام تھا حال منعم خود غرض کیا جانیں مے خانہ میں کل رند تھے بے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 940 سے 4657