شاعری

جینا مرنا دونوں محال

جینا مرنا دونوں محال عشق بھی ہے کیا جی کا وبال مال و منال و جاہ و جلال اپنی نظر میں وہم و خیال ہم نہ سمجھ پائے اب تک دنیا کی شطرنجی چال کچھ تو شہ بھی تمہاری تھی ورنہ دل کی اور یہ مجال کس کس سے ہم نبٹیں گے ایک ہے جان اور سو جنجال مست کو گرنے دے ساقی ہاں اس کے شاعر کو سنبھال ہم ...

مزید پڑھیے

کہیں یہ تسکین دل نہ دیکھی کہیں یہ آرام جاں نہ دیکھا

کہیں یہ تسکین دل نہ دیکھی کہیں یہ آرام جاں نہ دیکھا تمہارے در کی جو خاک پائی تو ہم نے سوئے جناں نہ دیکھا بڑی چمک آفتاب میں تھی عجب دمک ماہتاب میں تھی اچھال دی خاک دل جو ہم نے کسی کو پھر ضو فشاں نہ دیکھا اگر مقدر کرے نہ یاری تو فرق کیا ہے کوئی جگہ ہو چلو وہ قید قفس ہی دیکھی پھنکا ...

مزید پڑھیے

کھاتے ہیں ہم ہچکولے اس پاگل سنسار کے بیچ

کھاتے ہیں ہم ہچکولے اس پاگل سنسار کے بیچ جیسے کوئی ٹوٹی کشتی پھنس جائے منجدھار کے بیچ ان کے آگے گھنٹوں کی عرض وفا اور کیا پایا ایک تبسم مبہم سا اقرار اور انکار کے بیچ دونوں ہی اندھے ہیں مگر اپنے اپنے ڈھب کے ہیں ہم تو فرق نہ کر پائے کافر اور دیں دار کے بیچ عشق پہ بو الہوسی کا طعن ...

مزید پڑھیے

ایک نازک دل کے اندر حشر برپا کر دیا

ایک نازک دل کے اندر حشر برپا کر دیا ہائے ہم نے کیوں یہ اظہار تمنا کر دیا اب نہیں ہے خشک آنکھوں میں سوا وحشت کے کچھ انتہائے غم نے کیا دریا کو صحرا کر دیا ان کے در کو چھوڑ کر در در بھٹکتے ہم رہے وحشت دل نے عجب انجام الٹا کر دیا وسوسے امید کے دم سے جو تھے سب مٹ گئے انتہائے درد نے غم ...

مزید پڑھیے

چلے گی نہ اے دل کوئی گھات ہرگز

چلے گی نہ اے دل کوئی گھات ہرگز نہیں ان سے ہوگی ملاقات ہرگز بہت کوشش ضبط کی ہم نے لیکن ٹھہرتے نہیں دل میں جذبات ہرگز تو بقراط دوراں ہے ناصح مگر ہم سنیں گے نہ تیرے مقالات ہرگز جو جاں بازیوں کی چلے چال اس کو بساط وفا پر نہ ہو مات ہرگز امیدوں کے جگنو چمکتے ہیں لیکن نہ ٹھہریں گے دم ...

مزید پڑھیے

دیکھوں تو وہ سامنے بیٹھا ہوا ہے

دیکھوں تو وہ سامنے بیٹھا ہوا ہے سوچوں تو اک میلوں لمبا فاصلہ ہے نام تنہائی نے تیرا لکھ دیا ہے ہر کوئی چہرے کو میرے پڑھ رہا ہے چھو لیا تھا خواب میں تم کو کسی نے آج تک وہ خود کو مجرم مانتا ہے مدتوں پہلے میں اس کا ہو گیا پر وہ ابھی مجھ کو خدا سے مانگتا ہے یاد تیری دل پہ چھائی ہے ...

مزید پڑھیے

نہ تو تارے بجھیں پل بھر نہ دن میں چاند چھپتا ہے

نہ تو تارے بجھیں پل بھر نہ دن میں چاند چھپتا ہے عجب دنیا ہے دل کی رات بھر سورج بھی چمکا ہے زمیں اشکوں سے دل کی بھیگتی ہے تب کہیں جا کر لبوں پہ مسکراہٹ کا بسنتی پھول کھلتا ہے لئے یہ فرصتوں کی ریشمی چھتری مجھے ملنے جھجکتی بوندا باندی سا چھتوں پہ کون آیا ہے بدن کی وادیوں میں گم ...

مزید پڑھیے

عبارت جو اداسی نے لکھی ہے

عبارت جو اداسی نے لکھی ہے بدن اس کا غزل سا ریشمی ہے کسی کی پاس آتی آہٹوں سے اداسی اور گہری ہو چلی ہے اچھل پڑتی ہیں لہریں چاند تک جب سمندر کی اداسی ٹوٹتی ہے اداسی کے پرندو تم کہاں ہو مری تنہائی تم کو ڈھونڈھتی ہے مرے گھر کی گھنی تاریکیوں میں اداسی بلب سی جلتی رہی ہے اداسی اوڑھے ...

مزید پڑھیے

اس کی آنکھیں غزالوں سی تھیں

اس کی آنکھیں غزالوں سی تھیں میرے خوابوں خیالوں سی تھیں اس کی باتوں سے گھر بھر گیا اس کی باتیں اجالوں سی تھیں راہ تکتی ہوئی شام کی چند گھڑیاں بھی سالوں سی تھیں دل کی ویران دیوار پہ آپ کی یادیں جالوں سی تھیں اوس ایسے جھڑی پھول پہ بوند شبنم کی چھالوں سی تھیں جو دلیلیں وفاؤں کی ...

مزید پڑھیے

تشکیل بدر کی ہے کبھی ہے ہلال کی

تشکیل بدر کی ہے کبھی ہے ہلال کی دنیا ہے اک شبیہ عروج و زوال کی پھولوں سے ہے لدی ہوئی ہر شاخ گلستاں رکھ لی خدا نے آبرو دست زوال کی جنت فروش حوروں کے دلال خرقہ پوش کیا پوچھتے ہو واعظ فرخندہ فال کی ان مہ وشوں کو پردے سے باہر نکال کے دنیا مٹائی جاتی ہے حسن و جمال کی مجھ کو ملا ہے وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 934 سے 4657