شاعری

تم ہو مجرم ہم ہیں ملزم چلو نیا انصاف کریں

تم ہو مجرم ہم ہیں ملزم چلو نیا انصاف کریں تم بھی ہمیں معافی دے دو ہم بھی تمہیں معاف کریں پھر اجلی کرسی پر بیٹھیں ملزم کا انصاف کریں پہلے منصف گنگا جل سے اپنی نیت صاف کریں جس نے جتنے قتل کئے ہیں ان کا وہ اقبال کرے میں مقتولوں سے کہہ دوں گا اب وہ اسے معاف کریں یہ بھی مرہم ہے زخموں ...

مزید پڑھیے

دن بہ دن صفحۂ ہستی سے مٹا جاتا ہوں

دن بہ دن صفحۂ ہستی سے مٹا جاتا ہوں ایک جینے کے لیے کتنا مرا جاتا ہوں اپنے پیروں پہ کھڑا بولتا پیکر ہوں مگر آہٹوں کی طرح محسوس کیا جاتا ہوں تو بھی جیسے مری آنکھوں میں کھنچا جاتا ہے میں بھی جیسے تری سانسوں سما جاتا ہوں نور کی شاخ سے ٹوٹا ہوا پتا ہوں میں وقت کی دھوپ میں معدوم ہوا ...

مزید پڑھیے

صنم کے خیالوں میں یوں کھو گیا ہوں

صنم کے خیالوں میں یوں کھو گیا ہوں کہ میں ایک پتھر کا بت ہو گیا ہوں نہیں دھو سکا داغ جو گنگا جل بھی اسے اپنے اشکوں سے میں دھو گیا ہوں بجائے شجر اگتے ہیں صرف پتھر میں زرخیز دھرتی میں کیا بو گیا ہوں نہیں آنچ آئے گی اپنی انا پر بلایا تھا اس نے تبھی تو گیا ہوں کرو گے مجھے دفن تو یوں ...

مزید پڑھیے

بہاریں رنگ لاتی ہیں چمن آباد ہوتا ہے

بہاریں رنگ لاتی ہیں چمن آباد ہوتا ہے کہ جب نازک لبوں سے حسن کا ارشاد ہوتا ہے حسینوں کی اداؤں کے اثر انداز ہوتے ہی کبھی دل شاد ہوتا ہے کبھی ناشاد ہوتا ہے اجازت جب نہیں ملتی اسے نغمہ سرائی کی تو بلبل کی خموشی سے چمن برباد ہوتا ہے وہ اپنی جان کی بازی لگائے تو لگائے کیوں کہ نخرہ ...

مزید پڑھیے

گنگنانے کی بات کرتے ہو

گنگنانے کی بات کرتے ہو کس زمانے کی بات کرتے ہو جانے جانے کی بات کرتے ہو کیوں جلانے کی بات کرتے ہو سنگ مرمر کے بیل بوٹوں پر پھول آنے کی بات کرتے ہو ہر نشانے پہ جسم ہے میرا کس نشانے کی بات کرتے ہو زخم اتہاس بن چکے ہیں جنہیں بھول جانے کی بات کرتے ہو ہائے فاقہ کشوں کی قبروں ...

مزید پڑھیے

اپنی ماں کی دعائیں پاتا ہوں

اپنی ماں کی دعائیں پاتا ہوں اس لئے ہی تو مسکراتا ہوں پیار کی بھوک جب ستاتی ہے دوستوں سے فریب کھاتا ہوں یہ بھی میرے لئے عبادت ہے راستوں میں دیے جلاتا ہوں لوگ فرہاد مجھ کو کہتے ہیں گھر میں جب جوئے شیر لاتا ہوں مجھ کو پتھر حبیب لگتا ہے جب اسے حال دل سناتا ہوں اس سے میں کچھ بھی لے ...

مزید پڑھیے

مالی اداس ہے نہ یہ گلشن اداس ہے

مالی اداس ہے نہ یہ گلشن اداس ہے آندھی میں صرف ایک نشیمن اداس ہے جمنا کے تیر بجتی ہے نیروؔ کی بانسری رانجھےؔ کا دیش ہیرؔ کا مدھوبن اداس ہے مجھ کو سکھی کا امتحاں لینا تھا لے لیا میری بلا سے گر مرا دامن اداس ہے محلوں میں رہنے والے ذرا ہوشیار باش محلوں کی سمت دیکھ کے نردھن اداس ...

مزید پڑھیے

ایک ہی زندہ بچا ہے یہ نرالا پاگل

ایک ہی زندہ بچا ہے یہ نرالا پاگل جھوٹ کے شہر میں سچ بولنے والا پاگل ہاتھوں میں پھول لیے آئے ہیں سب لوگ جہاں لے کے آیا ہے وہاں پاؤں کا چھالا پاگل اس کی آنکھوں میں عجب نور تھا دانائی کا تم نے محفل سے جسے کہہ کے نکالا پاگل دھوپ ہے پھیلی ہوئی شرق سے تا غرب مگر بانٹتا پھرتا ہے دنیا ...

مزید پڑھیے

وہم جیسی شکوک جیسی چیز

وہم جیسی شکوک جیسی چیز عمر ہے بھول چوک جیسی چیز کیسے رکھیں ضمیر کو محفوظ پیٹ میں لے کے بھوک جیسی چیز گھول دی ہے غزل کے لہجے میں میں نے کوئل کی کوک جیسی چیز درد بن کر تری جدائی کا دل میں اٹھتی ہے ہوک جیسی چیز کاش ہوتی حسین لوگوں میں کوئی حسن سلوک جیسی چیز مصلحت کی بنا پہ لوگ ...

مزید پڑھیے

عجب ہیں صورت حالات اب کے

عجب ہیں صورت حالات اب کے ہوئی برسات میں برسات اب کے بدن میں پھول بھی چبھنے لگے ہیں بہت نازک ہیں احساسات اب کے ذرا چوکنا چوکنا ہوں میں بھی ہے دنیا بھی لگائے گھات اب کے بنا دوں گا ترے چہرے کا جھومر لگا جو چاند میرے ہاتھ اب کے لگی ہے شرط میرے آنسوؤں کی سمندر کو ملے گی مات اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 932 سے 4657