فکر و احساس کے تپتے ہوئے منظر تک آ
فکر و احساس کے تپتے ہوئے منظر تک آ میرے لفظوں میں اتر کر مرے اندر تک آ کہیں ایسا نہ ہو رک جائیں قلم کی سانسیں اے مری جان غزل اپنے سخن ور تک آ ورنہ خوابوں کی تپش تجھ کو جلا ڈالے گی میری جاگی ہوئی نیندوں کے سمندر تک آ سرد کمرے کی سلگتی ہوئی تنہائی میں میری سانسوں سے نکل کر مرے بستر ...