شاعری

فکر و احساس کے تپتے ہوئے منظر تک آ

فکر و احساس کے تپتے ہوئے منظر تک آ میرے لفظوں میں اتر کر مرے اندر تک آ کہیں ایسا نہ ہو رک جائیں قلم کی سانسیں اے مری جان غزل اپنے سخن ور تک آ ورنہ خوابوں کی تپش تجھ کو جلا ڈالے گی میری جاگی ہوئی نیندوں کے سمندر تک آ سرد کمرے کی سلگتی ہوئی تنہائی میں میری سانسوں سے نکل کر مرے بستر ...

مزید پڑھیے

آج دیوانے کا ذوق دید پورا ہو گیا

آج دیوانے کا ذوق دید پورا ہو گیا تجھ کو دیکھا اور اس کے بعد اندھا ہو گیا دھوپ کے ہاتھوں پہ بیعت کر چکی ہیں ٹہنیاں رنگ سارے سبز پتوں کا سنہرا ہو گیا کان دھرتا ہی نہیں کوئی مری آواز پر ایسا لگتا ہے کہ سارا شہر مردہ ہو گیا سایۂ دیوار کو اوڑھے ہوئے تھے سب کے سب گر گئی دیوار گھر کا ...

مزید پڑھیے

سر خوشی میرے لئے اسباب غم میرے لئے

سر خوشی میرے لئے اسباب غم میرے لئے موجزن ہے جیسے دریائے کرم میرے لئے ہر ستم میرے لئے ہے ہر کرم میرے لئے حسن کے جلوے ہیں سارے بیش و کم میرے لئے کیا حقیقت ہے غم ہستی کی میرے سامنے آئے دن ہی گردن مینا ہے خم میرے لئے عشق کی بے تابیاں ہیں حسن کی رعنائیاں ہو گئے ہیں زیست کے ساماں بہم ...

مزید پڑھیے

کبھی سرخی سے لکھتا ہوں کبھی کاجل سے لکھتا ہوں

کبھی سرخی سے لکھتا ہوں کبھی کاجل سے لکھتا ہوں میں دل کی بات جذبوں کی ہری کونپل سے لکھتا ہوں میں تیرا نام جب لکھتا ہوں اپنے دل کی تختی پر گلاب و مشک سے زمزم سے گنگا جل سے لکھتا ہوں بجھا کر زہر سے رکھے ہیں یاروں نے قلم اپنے مگر میں تو وہی کیوڑے سے اور صندل سے لکھتا ہوں خوشی کی ...

مزید پڑھیے

بڑھ رہے ہیں شام کے موہوم سائے چل پڑو

بڑھ رہے ہیں شام کے موہوم سائے چل پڑو زندگی کی لاش کاندھوں پر اٹھائے چل پڑو خیر مقدم کر رہی ہیں ٹھوکریں کس شان سے پاؤں کے چھالے یہ کہہ کر مسکرائے چل پڑو اوڑھ لو سر پر دکانوں دفتروں کے سائباں جان لیوا ہیں مکانوں کے کرائے چل پڑو پھر قدوم شوق کو چھونے لگی آوارگی پھر بلاوے کوچۂ ...

مزید پڑھیے

موجۂ ریگ روان غم میں بہہ کے دیکھنا

موجۂ ریگ روان غم میں بہہ کے دیکھنا مفلسی میں دوستوں کے ساتھ رہ کے دیکھنا دامن اظہار میں جذبے سما سکتے ہیں نہیں بات پھر بھی بات ہے اک بار کہہ کے دیکھنا خود کو مٹی کا گھروندا فرض ہی کرنا نہیں آندھیوں کی زد میں رہنا اور ڈھہ کے دیکھنا دل کے سناٹے میں خوشبو کے دریچے کھل گئے دستکوں ...

مزید پڑھیے

بنا دے گی زمیں کو آج شاید آسماں بارش

بنا دے گی زمیں کو آج شاید آسماں بارش کہ دھوئے جا رہی ہیں گھر کی ساری کھڑکیاں بارش نئے صدمات کا سیلاب آیا دل کی بستی میں نگل جائے نہ تیری یاد کی یہ کشتیاں بارش کھلی جو آنکھ تو چہرے پہ جگ مگ تھی پھواروں کی کہ ملنے آئی تھی کل رات مجھ سے ناگہاں بارش بدن سے جب الگ کرتی ہو تم بھیگے ...

مزید پڑھیے

خموشی میں چھپے لفظوں کے حلیے یاد آئیں گے

خموشی میں چھپے لفظوں کے حلیے یاد آئیں گے تری آنکھوں کے بے آواز لہجے یاد آئیں گے تصور ٹھوکریں کھاتے ہوئے قدموں سے الجھے گا ابھرتی ڈوبتی منزل کے رستے یاد آئیں گے مجھے معلوم ہے دم توڑ دے گی آگہی میری جو لمحے بھولنے کے ہیں وہ لمحے یاد آئیں گے کبھی اپنے اکیلے پن کے بارے میں جو سوچو ...

مزید پڑھیے

ہم سوز دل بیاں کریں تم سے کہاں تلک

ہم سوز دل بیاں کریں تم سے کہاں تلک جلنے لگی ہے اب تو ہماری زباں تلک کچھ بے کسیٔ راہرو غم نہ پوچھئے ملتی نہیں ہے گرد رہ کارواں تلک شرما کے لوٹ آئے نہ جب کچھ اثر ہوا نالے ہمارے پہنچے تو تھے آسماں تلک امید بادہ کس کو ہے خون جگر پیو ہے محتسب کے روپ میں پیر مغاں تلک راز و نیاز عشق کی ...

مزید پڑھیے

ستم گر تجھ سے ہم کب شکوۂ بیداد کرتے ہیں

ستم گر تجھ سے ہم کب شکوۂ بیداد کرتے ہیں ہمیں فریاد کی عادت ہے ہم فریاد کرتے ہیں متاع زندگانی اور بھی برباد کرتے ہیں ہم اس صورت سے تسکین دل ناشاد کرتے ہیں ہواؤ ایک پل کے واسطے للہ رک جاؤ وہ میری عرض پر دھیمے سے کچھ ارشاد کرتے ہیں نہ جانے کیوں یہ دنیا چین سے جینے نہیں دیتی کوئی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 933 سے 4657