شاعری

اس دل میں کر گزر جو یہ تیر آہ الٹے

اس دل میں کر گزر جو یہ تیر آہ الٹے اک پل میں سب فلک کی یہ بارگاہ الٹے مفتی و شحنہ قاضی ہیں کشتہ اس نگہ کے پھرتے ہوں اس کے ہاتھوں یہ داد خواہ الٹے عشاق کے دلوں کو ٹک میں الٹ پلٹ دے مکھڑے سے گر دوپٹہ وہ رشک ماہ الٹے پھرتی ہے یوں نگاہیں اس شوخ جنگجو کی پامال کر کے جیسے کوئی سپاہ ...

مزید پڑھیے

لاکھ ہو ماضی دامن گیر

لاکھ ہو ماضی دامن گیر مستقبل کی دیکھ لکیر سب سے محبت کرنا سیکھ کہہ کے گیا کل ایک فقیر سب اللہ کے بندے ہیں کوئی نہیں دنیا میں حقیر عہد جوانی بیت گیا کر اب جینے کی تدبیر کوہ کن اب بھی زندہ ہے لا نہ سکا جو جوئے شیر کیسے میں اس کو شعر کہوں جس میں نہ ہو کوئی تاثیر دل کش ہیں کردار ...

مزید پڑھیے

بجھے چراغ جلانے میں دیر لگتی ہے

بجھے چراغ جلانے میں دیر لگتی ہے نصیب اپنا بنانے میں دیر لگتی ہے وطن سے دور مسافر چلے تو جاتے ہیں وطن کو لوٹ کے آنے میں دیر لگتی ہے تعلقات تو اک پل میں ٹوٹ جاتے ہیں کسی کو دل سے بھلانے میں دیر لگتی ہے بکھر تو جاتے ہیں پل بھر میں دل کے سب ٹکڑے مگر یہ ٹکڑے اٹھانے میں دیر لگتی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

گزرا ہوا زمانہ پھر یاد آ رہا ہے

گزرا ہوا زمانہ پھر یاد آ رہا ہے بھولا ہوا فسانہ پھر یاد آ رہا ہے جو پھول بن گیا ہے ہونٹوں پر اس کے آ کر وہ حرف محرمانہ پھر یاد آ رہا ہے جس میں تھے چاند تارے محبوب تھے ہمارے کیوں وہ نگار خانہ پھر یاد آ رہا ہے وہ دو دلوں کو جس نے ہم راز کر دیا تھا وہ راز دلبرانہ پھر یاد آ رہا ہے جس ...

مزید پڑھیے

ہنسی ہنسی میں کوئی کھیل چل رہا ہوگا

ہنسی ہنسی میں کوئی کھیل چل رہا ہوگا سڑک پہ پھر کوئی انسان جل رہا ہوگا بہت اداس ہیں حاکم اگر تو شہر مرا کسی فساد کے سانچے میں ڈھل رہا ہوگا جو گرم چھینٹے ہواؤں کے ساتھ آتے ہیں کسی کی آنکھ کا پانی ابل رہا ہوگا اندھیری رات میں ٹپکا تھا خون دل جس میں اسی چراغ سے سورج نکل رہا ...

مزید پڑھیے

جو راہوں کے پتھر تھے کیا ہو گئے ہیں

جو راہوں کے پتھر تھے کیا ہو گئے ہیں شوالوں میں جا کر خدا ہو گئے ہیں یہ کیسی ہوا چل رہی ہے چمن میں کہ شاخوں سے پتے جدا ہو گئے ہیں جو کل تک تھے قاتل وہ گنگا نہا کر سنا ہے کہ اب دیوتا ہو گئے ہیں وہ شاخیں بہائیں نہ کیوں خوں کے آنسو ہرے پتے جن سے جدا ہو گئے ہیں بتائے ہمیں باغباں کہ یہ ...

مزید پڑھیے

تڑپنے کی اجازت جذبۂ بسمل سے ملتی ہے

تڑپنے کی اجازت جذبۂ بسمل سے ملتی ہے جو دل مشتاق ہو تو پھر ذرا مشکل سے ملتی ہے وہ حق سچ کی عبارت پڑھنے سے محروم رہتے ہیں کہ جن کو روشنی کی لو رخ باطل سے ملتی ہے مجھے زندہ جلائے تجھ کو بھی زندہ ہی دفنائے مرے قاتل کی فطرت بھی ترے قاتل سے ملتی ہے چکوری دیکھ لے تو بھول جائے چاند کو ...

مزید پڑھیے

تیری آواز پا پہ لگتے کان

تیری آواز پا پہ لگتے کان خوب ہیں اس صدا پہ لگتے کان سوز نغمہ کا حظ اٹھاتے ہیں مطربہ کی نوا پہ لگتے کان شہد کی ہے مٹھاس اب ان میں خوب تیری صدا پہ لگتے کان میری فریاد غم کو کیا سنتے نغمۂ بے نوا پہ لگتے کان فیض دیدار دیکھ لے پنچھیؔ اب ہیں ان کی صدا پہ لگتے کان

مزید پڑھیے

سوچتے کیا ہیں چھلکتا جام لے کر

سوچتے کیا ہیں چھلکتا جام لے کر پیجیے اس بے وفا کا نام لے کر آئے تھے تو ہاتھ خالی تھے ہمارے جا رہے ہیں سینکڑوں الزام لے کر اک دیا گھر میں جلایا تھا اسے بھی لے گیا کوئی تمہارا نام لے کر دھوپ آ سکتی تھی وہ آتی نہیں ہے کون آئے گا یہاں پیغام لے کر کاٹ لیں دربار نے سب کی زبانیں بلبلیں ...

مزید پڑھیے

دعا کیجے وہ برگد اور بھی پھولے پھلے برسوں

دعا کیجے وہ برگد اور بھی پھولے پھلے برسوں کہ جس کی چھاؤں میں ہم آپ سے ملتے رہے برسوں کوئی جگنو بھٹکتا آ گیا تو آ گیا ورنہ چراغ قبر بن کر ہم اکیلے ہی جلے برسوں یہ سنگ میل بھی پہلے کوئی بھٹکا مسافر تھا جسے اپنی ہی منزل ڈھونڈنے میں لگ گئے برسوں یہ سر جو کاٹ کر ٹانگے گئے ہیں ان ...

مزید پڑھیے
صفحہ 930 سے 4657