شاعری

آنکھ ہی آنکھ تھی منظر بھی نہیں تھا کوئی

آنکھ ہی آنکھ تھی منظر بھی نہیں تھا کوئی تو نہیں تیرے برابر بھی نہیں تھا کوئی میرے باہر تو کسی موت کا سناٹا تھا ایسی تنہائی کہ اندر بھی نہیں تھا کوئی کیا تماشا ہے کہ پھر جسم مرا بھیگ گیا راستے میں تو سمندر بھی نہیں تھا کوئی

مزید پڑھیے

اپنی صورت کو بدلنا ہی نہیں چاہتا میں

اپنی صورت کو بدلنا ہی نہیں چاہتا میں اب کسی سانچے میں ڈھلنا ہی نہیں چاہتا میں تم اگر مجھ سے محبت نہیں کرتے نہ سہی ایسی باتوں سے بہلنا ہی نہیں چاہتا میں یا مرے پاؤں میں قوت ہی نہیں ہے اتنی یا تری راہ پہ چلنا ہی نہیں چاہتا میں سنتا رہتا ہوں صدائیں تری دستک کی مگر اپنے کمرے سے ...

مزید پڑھیے

ہر اک دل یہاں ہے محبت سے عاری

ہر اک دل یہاں ہے محبت سے عاری تمہیں کو مبارک یہ دنیا تمہاری انہیں ہم سے بڑھ کے ہے غیروں کی پروا نباہیں گے کب تک ہمیں وضع داری رہا ہے یہاں پر نہ کوئی رہے گا جو ہے آج اس کی تو کل اپنی باری ابھی تک نہ بدلی محبت کی قسمت ابھی تک محبت میں ہے بے قراری قدم رنجہ فرما رہے ہیں وہ آخر خبر لا ...

مزید پڑھیے

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں مجھے

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں مجھے افشائے راز عشق کی جرأت نہیں مجھے جلوے ہیں ان کے نو بہ نو میری نگاہ میں اب ان کو غم یہ ہے غم فرقت نہیں مجھے رکھنا ہے ان کے پاؤں پہ جا کر سر نیاز رک جا اجل کیا اتنی بھی مہلت نہیں مجھے شوریدگیٔ عشق کہاں لے کے آ گئی پھولوں سے بھی جہاں کوئی رغبت نہیں ...

مزید پڑھیے

افسوس کیا جو ہم بھی تمہارے نہیں رہے

افسوس کیا جو ہم بھی تمہارے نہیں رہے تم بھی کسی کے ہو کے ہمارے نہیں رہے اب شکوۂ فریب محبت نہ کیجیے ہم بھی کسی کی آنکھ کے تارے نہیں رہے یہ حسن اتفاق ہے پھر مل گئے ہیں وہ یہ اور بات ہے کہ ہمارے نہیں رہے تم بھی تعلقات کی حد سے گزر گئے ہم بھی کسی کو جان سے پیارے نہیں رہے جب سے چلے گئے ...

مزید پڑھیے

تصورات کی دنیا سجائے بیٹھے ہیں

تصورات کی دنیا سجائے بیٹھے ہیں کسی کی آس کو دل سے لگائے بیٹھے ہیں فریب عمر دو روزہ کا کھائے بیٹھے ہیں بتائیں کیا کہ جو صدمہ اٹھائے بیٹھے ہیں نہ جانے کس گھڑی آ جائیں ڈھونڈتے ہم کو چراغ دن میں بھی در پر جلائے بیٹھے ہیں سنا ہے جب سے دعائیں قبول ہوتی ہیں دعا کو ہاتھ ہم اپنے اٹھائے ...

مزید پڑھیے

میں فرط مسرت سے ڈر ہے کہ نہ مر جاؤں

میں فرط مسرت سے ڈر ہے کہ نہ مر جاؤں لکھا ہے مجھے اس نے میں حد سے گزر جاؤں اک بار ہی ہو جائے ہو جائے جو ہونا ہے اتروں میں ترے دل میں یا دل سے اتر جاؤں جس راہ میں بھی دیکھوں میں نقش قدم ان کا مجھ پر ہے ادب لازم اک پل تو ٹھہر جاؤں وہ بڑھ کے لگا لیں گے خود مجھ کو گلے اپنے جو سامنے میں ان ...

مزید پڑھیے

ان کو دیکھا تو طبیعت میں روانی آئی

ان کو دیکھا تو طبیعت میں روانی آئی دل کے اجڑے ہوئے گلشن پہ جوانی آئی پیاس کیا اس کی بجھائیں گے کوئی عارض و لب لب دریا نہ جسے پیاس بجھانی آئی گرمیٔ رنج و الم ہی میں بسر کی ہم نے زندگی میں تو کوئی رت نہ سہانی آئی اس کا عنوان ترا نام ہی رکھا ہم نے بھولی بسری جو کوئی یاد کہانی ...

مزید پڑھیے

وہ حراست میں جو انسان لئے جاتے ہیں

وہ حراست میں جو انسان لئے جاتے ہیں اپنی تفریح کا سامان لئے جاتے ہیں کل جسے گھر سے اٹھا لے گئی خاکی وردی آج ماں باپ اسے شمشان لئے جاتے ہیں بعد مٹھ بھیڑ کے تمغے یہ ترقی دیکھو مرنے والے ہی کا احسان لئے جاتے ہیں جسم چھلنی ہے مگر ہاتھ رہے سینے پر ہائے دل میں کوئی ارمان لئے جاتے ...

مزید پڑھیے

صبح کانٹوں پہ شام کانٹوں پر

صبح کانٹوں پہ شام کانٹوں پر عمر گزری تمام کانٹوں پر مرے اپنے قلم نے چپکے سے لکھ دیا میرا نام کانٹوں پر تیری کرنیں بھی رقص کرتی ہیں روز ماہ تمام کانٹوں پر رنگ اور بوئے گل کے عاشق سب کون بھیجے سلام کانٹوں پر روز شبنم سے غسل کرتے ہیں ہے گلوں کا حمام کانٹوں پر ابتدائے حیات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 929 سے 4657