شاعری

بیمار سا ہے جسم سحر کانپ رہا ہے

بیمار سا ہے جسم سحر کانپ رہا ہے یہ کس نے اجالوں کا لہو چوس لیا ہے اے دوست تری یاد کا مہتاب درخشاں اب یاس کی گھنگھور گھٹاؤں میں چھپا ہے اس دور میں سنسان سے ہیں بام و در زیست نغموں نے خموشی کا کفن اوڑھ لیا ہے سناٹوں کے کف پر مری تصویر بنی ہے تنہائی کے آنچل پہ مرا نام لکھا ہے میں ...

مزید پڑھیے

کل رات میرے ساتھ عجب حادثہ ہوا

کل رات میرے ساتھ عجب حادثہ ہوا سورج پگھل کے میری ہتھیلی پہ آ گرا دیکھے ہیں میری آنکھوں نے منظر عجب عجب اک پیڑ میرے شہر کا سایوں کو کھا گیا صحرا میں آب اور سمندر میں ریت ہے یارب میں آج کون سی دنیا میں آ گیا کیسا تماشہ دیکھا تھا ہم نے یہ رات بھر تارے چمک رہے تھے مگر آسماں نہ ...

مزید پڑھیے

مدت ہوئی راحت بھرا منظر نہیں اترا

مدت ہوئی راحت بھرا منظر نہیں اترا ساون کا مہینہ مری چھت پر نہیں اترا روشن رہا اک شخص کی یادوں سے ہمیشہ گرداب میں ظلمت کے مرا گھر نہیں اترا جس آنکھ نے دیکھا تمہیں دیتی ہے گواہی تم جیسا زمیں پر کوئی پیکر نہیں اترا سچائی مرے ہونٹوں سے اتری نہیں ہرگز جب تک مرے کاندھوں سے مرا سر ...

مزید پڑھیے

کچوکے دل کو لگاتا ہوا سا کچھ تو ہے

کچوکے دل کو لگاتا ہوا سا کچھ تو ہے یہ رات رات جگاتا ہوا سا کچھ تو ہے کرشمہ یہ ترے الفاظ کا نہیں پھر بھی فضا میں زہر اگاتا ہوا سا کچھ تو ہے اگر یہ موت کا سایہ نہیں تو پھر کیا ہے قدم قدم پہ بلاتا ہوا سا کچھ تو ہے نہ جاگ اٹھا ہو کہیں بیتی عمر کا لمحہ رگوں میں شور مچاتا ہوا سا کچھ تو ...

مزید پڑھیے

گزرتے لمحوں کے دل میں کیا ہے ہمیں پتہ ہے

گزرتے لمحوں کے دل میں کیا ہے ہمیں پتہ ہے ہوا کے آنچل پہ کیا لکھا ہے ہمیں پتہ ہے سلگ رہی ہے کہاں پہ چنگاری نفرتوں کی دھواں کہاں سے یہ اٹھ رہا ہے ہمیں پتہ ہے سفینہ کس طرح پار اتاریں یہ ہم سے پوچھو سمندروں کا مزاج کیا ہے ہمیں پتہ ہے کہاں کہاں حادثے چھپے ہیں خبر ہے ہم کو کہاں سے منزل ...

مزید پڑھیے

روز و شب اس سوچ میں ڈوبا رہتا ہوں

روز و شب اس سوچ میں ڈوبا رہتا ہوں غم کو پا کر بھی میں کتنا تنہا ہوں السائے ماضی کے سوکھے پیڑ تلے چھاؤں کی امید لگائے بیٹھا ہوں ابر گریزاں مجھ پر بھی بس ایک نظر راہ میں تیری صدیوں پیاسا صحرا ہوں مجھ سے روٹھ کے دور نہ جا پاؤ گے تم میں چاروں جانب ہوں افق تک پھیلا ہوں تنہائی میں جب ...

مزید پڑھیے

شناخت مٹ گئی چہرے پہ گرد اتنی تھی

شناخت مٹ گئی چہرے پہ گرد اتنی تھی ہماری زندگی صحرا نورد اتنی تھی تمام عمر اسے سینچتے رہے لیکن گلاب دے نہ سکی شاخ زرد اتنی تھی گرے نہ اشک کبھی حادثوں کے دامن پر ہماری آنکھ شناسائے درد اتنی تھی تری پکار کا چہرہ دکھائی دے نہ سکا مرے قریب صداؤں کی گرد اتنی تھی تلاش زیست میں دل ...

مزید پڑھیے

جو کچھ ہوا سو ہوا اب سوال ہی کیا ہے

جو کچھ ہوا سو ہوا اب سوال ہی کیا ہے بیان حال کروں مجھ میں حال ہی کیا ہے کچھ اور چاہتی ہے ان سے شورش الفت ہوا خیال تو ایسا خیال ہی کیا ہے زمانہ چاہئے وہ اعتراف شوق کریں ابھی یہ روز و شب و ماہ و سال ہی کیا ہے کسی خیال میں بس زندگی گزر جائے غم فراق و امید وصال ہی کیا ہے برا کیا نہ ...

مزید پڑھیے

نہ ڈھلتی شام نہ ٹھنڈی سحر میں رکھا ہے

نہ ڈھلتی شام نہ ٹھنڈی سحر میں رکھا ہے سفر کا لطف کڑی دوپہر میں رکھا ہے جدائیوں کے مناظر ہیں اب بھی یادوں میں بچھڑتے وقت کا لمحہ نظر میں رکھا ہے بچا بچا کے گھنی چھاؤں کو تری خاطر تمام عمر بدن کے شجر میں رکھا ہے تمہارے نام کو لکھا ہے پیکر گل پر تمہاری یاد کو خوشبو کے گھر میں رکھا ...

مزید پڑھیے

پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں

پہاڑوں کی بلندی پر کھڑا ہوں زمیں والوں کو چھوٹا لگ رہا ہوں ہر اک رستے پہ خود کو ڈھونڈھتا ہوں میں اپنے آپ سے بچھڑا ہوا ہوں بھرے شہروں میں دل ڈرنے لگا تھا اب آ کر جنگلوں میں بس گیا ہوں تو ہی مرکز ہے میری زندگی کا ترے اطراف مثل دائرہ ہوں اجالے جب سے کترانے لگے ہیں سیہ راتوں کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 93 سے 4657