شاعری مظہر احوال دروں ہے یوں ہے
شاعری مظہر احوال دروں ہے یوں ہے ایک اک شعر بتا دیتا ہے یوں ہے یوں ہے اک تری یاد ہی دیتی ہے مرے دل کو قرار اک ترا نام ہی اب وجہ سکوں ہے یوں ہے خشک صحرا بھی نظر آتا ہے گلزار ارم ہم رہی کا یہ تری سارا فسوں ہے یوں ہے عشق ہر اک سے غلامی کی ادا مانگتا ہے اس کے دربار میں جو سر ہے نگوں ہے ...