شاعری

شاعری مظہر احوال دروں ہے یوں ہے

شاعری مظہر احوال دروں ہے یوں ہے ایک اک شعر بتا دیتا ہے یوں ہے یوں ہے اک تری یاد ہی دیتی ہے مرے دل کو قرار اک ترا نام ہی اب وجہ سکوں ہے یوں ہے خشک صحرا بھی نظر آتا ہے گلزار ارم ہم رہی کا یہ تری سارا فسوں ہے یوں ہے عشق ہر اک سے غلامی کی ادا مانگتا ہے اس کے دربار میں جو سر ہے نگوں ہے ...

مزید پڑھیے

جب تو مجھ سے روٹھ گیا تھا

جب تو مجھ سے روٹھ گیا تھا دل آنگن میں سناٹا تھا تو کیا جانے تجھ سے بچھڑ کر میں کتنے دن تک رویا تھا ساری خوشیاں روٹھ گئی تھیں ارمانوں نے دم توڑا تھا رستہ رستہ نگری نگری دل تجھ کو ہی ڈھونڈھ رہا تھا تنہائی کی فصل اگی تھی یادوں کا جنگل پھیلا تھا فکر کے ہونٹوں پر تالے تھے غزلوں کا ...

مزید پڑھیے

کچھ نہیں ہے تو یہ اندیشہ یہ ڈر کیسا ہے

کچھ نہیں ہے تو یہ اندیشہ یہ ڈر کیسا ہے اک اندھیرا سا بہ ہنگام سحر کیسا ہے کیوں ہر اک راہ میں وحشت سی برستی ہے یہاں ایک اک موڑ پہ یہ خوف و خطر کیسا ہے پھر یہ سوچوں میں ہیں مایوسی کی لہریں کیسی پھر یہ ہر دل میں اداسی کا گزر کیسا ہے اس سے ہم چھانو کی امید بھلا کیا رکھیں دھوپ دیتا ہے ...

مزید پڑھیے

رہ جاناں پہ بڑھتی جا رہی ہوں

رہ جاناں پہ بڑھتی جا رہی ہوں مگر خود سے بچھڑتی جا رہی ہوں انوکھے شہر مجھ پر وا ہوئے ہیں کتاب ذات پڑھتی جا رہی ہوں مرے مولا اسے آباد رکھنا مرا کیا ہے اجڑتی جا رہی ہوں مری نشو و نما جس سے ہوئی ہے اسی جڑ سے اکھڑتی جا رہی ہوں ہوا معلوم مجھ کو آخر شب کہ میں بے سمت بڑھتی جا رہی ...

مزید پڑھیے

شوق بتان انجمن آرا لیے ہوئے

شوق بتان انجمن آرا لیے ہوئے پھرتا ہوں حشر میں وہی دنیا لیے ہوئے آتی ہے کس دماغ سے اک اک نگاہ حسن دل میں ہزار فتنۂ برپا لیے ہوئے یاد آ رہی ہے ان کی وہ تجدید التفات پہلوئے صد ندامت ایفا لیے ہوئے کس کی تلاش ہے کہ سر طور اس طرح آئے ہو مشعل رخ زیبا لیے ہوئے بیباک ہیں کہ جان کے ...

مزید پڑھیے

اسی عاشقی میں پیہم ہوئی خانماں خرابی

اسی عاشقی میں پیہم ہوئی خانماں خرابی دل مبتلا کی اب تک ہے وہی جنوں مآبی رہے سوز عشق لیکن گئے ہوش پھر نہ آئیں وہ تجلیوں سے پر ہے تری چشم کی گلابی ہمیں تم اب اپنی محفل میں بلا کے کیا کروگے نہ وہ جوش باریابی نہ وہ ہوش کامیابی جو سنے تو داد ممکن ہے مگر بھلا سنے کیوں میری بے بسی کے ...

مزید پڑھیے

دو عالم کے آفات سے دور کر دے

دو عالم کے آفات سے دور کر دے اک ایسی نظر چشم مخمور کر دے نصیب محبت ہے اب وہ تمنا انہیں جو تغافل سے معذور کر دے ترے قرب کی ہائے یہ شان کیا ہے جو ادراک ہستی سے بھی دور کر دے کوئی کس طرح پائے اس ہم نشیں کو جسے جستجو منزلوں دور کر دے جمال اس کو کہئے کہ پرتو ہی جس کا حجابوں کو نور علیٰ ...

مزید پڑھیے

خراب دید کو یوں ہی خراب رہنے دے

خراب دید کو یوں ہی خراب رہنے دے کوئی حجاب اٹھا دے نقاب رہنے دے زمان ہجر سہی پھر بھی اے جنون امید دماغ میں یہی رنگین خواب رہنے دے نوازشیں نہ بدل دیں کہیں مزاج وفا نگاہ لطف میں موج عتاب رہنے دے بدل نہ ہوش پرستش سے مستی الفت تجلیوں پہ فریب نقاب رہنے دے وفور حسن کو اسرار دلنواز ...

مزید پڑھیے

اٹھئے تو کہاں جائیے جو کچھ ہے یہیں ہے

اٹھئے تو کہاں جائیے جو کچھ ہے یہیں ہے باہر ترے گھر کے تو نہ دنیا ہے نہ دیں ہے ہم ہیں کہ سر نقش قدم سیکڑوں سجدے وہ ہے کہ جہاں دیکھیے بس چیں بہ جبیں ہے صحرا میں پھراتی ہے مجھے خانہ خرابی یہ ڈھونڈ رہا ہوں کہ مرا گھر بھی یہیں ہے آتی نہیں نزدیک خیالوں کے یہ دنیا وہ بزم بھی یا رب کوئی ...

مزید پڑھیے

پر خار رہ گزر پہ ہی چلنا نہیں سدا

پر خار رہ گزر پہ ہی چلنا نہیں سدا خوشیوں کو پاؤں پاؤں مسلنا نہیں سدا وہ دن کبھی تو آئیں گے جو میرے نام ہوں تیرے ہی روز و شب کو بدلنا نہیں سدا ملنا ہے عمر بھر کے لئے ہم کو ایک دن جاتی رتوں کے طور بچھڑنا نہیں سدا ترک تعلقات سے پہلے یہ سوچ لے دل کو ترے ہی دم سے مچلنا نہیں سدا قسمت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 94 سے 4657