شاعری

سرکشی کو جب ہم نے ہم رکاب رکھنا ہے

سرکشی کو جب ہم نے ہم رکاب رکھنا ہے ٹوٹنے بکھرنے کا کیا حساب رکھنا ہے ایک ایک ساعت میں زندگی سمونی ہے ایک ایک جذبے میں انقلاب رکھنا ہے رات کے اندھیروں سے جنگ کرنے والوں نے صبح کی ہتھیلی پر آفتاب رکھنا ہے ہم پہ اس سے واجب ہیں کوششیں بغاوت کی تم نے جس قبیلے کو کامیاب رکھنا ہے رکھ ...

مزید پڑھیے

تلخیص کے بدن میں تفسیر بولتی ہے

تلخیص کے بدن میں تفسیر بولتی ہے تکمیل آرزو میں تدبیر بولتی ہے یہ معجزہ بھی دیکھا ہم نے کمال فن کا چپ ہو اگر مصور تصویر بولتی ہے تزئین انجمن کے ہم نے جو خواب دیکھے اب کرچیوں میں ان کی تعبیر بولتی ہے وہ لب کشا ہو جس دم لگتا ہے ہر کسی کو ہر لفظ میں اسی کی تقدیر بولتی ہے بنتا ہے ...

مزید پڑھیے

جان لیوا ہے پیار کا سایہ

جان لیوا ہے پیار کا سایہ آپ کے انتظار کا سایہ اور دیتا ہے میرے غم کو ہوا ہم نشیں غم گسار کا سایہ ہو رہی ہے جو آج دل میں چبھن پڑ گیا ہوگا خار کا سایہ جنم دیتا ہے نور والوں کو تیرگی کے حصار کا سایہ درد بھر دے دلوں میں لوگوں کے ہے ستم گر کہار کا سایہ دور کر دے قریب والوں کو برتری ...

مزید پڑھیے

مثل رخسار صنم رنگ حنا

مثل رخسار صنم رنگ حنا ہاتھ میں طرفہ ستم رنگ حنا خون کے آنسو رلائے زندگی سرخ موسم درد و غم رنگ حنا پتھروں کے بیچ پس جانا پڑے جب کہیں پائے صنم رنگ حنا برف سے ہاتھوں میں کھلتا ہے بہت آپ کے سر کی قسم رنگ حنا ابر کے آنچل میں ماہ نو کھلا ہے تیرا لطف و کرم رنگ حنا جان پر میری ستم ...

مزید پڑھیے

اے مری جان غزل

اے مری جان غزل تو ہے ارمان غزل یہ ترا حسن ادا بالیقیں شان غزل یہ ترا عکس حسیں قصر و ایوان غزل زلف ہے کالی گھٹا یا ہے زندان غزل پھول سا تیرا بدن لطف عنوان غزل

مزید پڑھیے

ہم تو موجود تھے راتوں میں اجالوں کی طرح

ہم تو موجود تھے راتوں میں اجالوں کی طرح لوگ نکلے ہی نہیں ڈھونڈنے والوں کی طرح جانے کیوں وقت بھی آنکھیں بھی قلم بھی لب بھی آج خاموش ہیں گزرے ہوئے سالوں کی طرح حاجتیں زیست کو گھیرے میں لیے رکھتی ہیں خستہ دیوار سے چمٹے ہوئے جالوں کی طرح رات بھیگی تو سسکتی ہوئی خاموشی سے آسماں ...

مزید پڑھیے

اک عجب کیفیت ہوش ربا طاری تھی

اک عجب کیفیت ہوش ربا طاری تھی قریۂ جاں میں کسی جشن کی تیاری تھی سر جھکائے ہوئے مقتل میں کھڑے تھے جلاد تختۂ دار پہ لٹکی ہوئی خودداری تھی خون ہی خون تھا دربار کی دیواروں پر قابض تخت وراثت کی ریاکاری تھی ایک ساعت جو تری زلف کے سائے میں کٹی ہجر بر دوش زمانوں سے کہیں بھاری تھی اور ...

مزید پڑھیے

عرضی دی تو نکلی دھوپ

عرضی دی تو نکلی دھوپ کہرے نے ڈھک لی تھی دھوپ دو قدموں پر منزل تھی زوروں سے پھر برسی دھوپ بوڑھی اما بنتی تھی گرم سوئیٹر جیسی دھوپ دھوپ میں ترسے سائے کو سائے میں یاد آئی دھوپ بھوکی ننگی بستی نے کھائی جوٹھن پہنی دھوپ پھنگی پر آ بیٹھی دیکھ کتنی شاطر نکلی دھوپ سائے میں ہی رہتے ...

مزید پڑھیے

ہو نہ ہو منزل سفر اک مختصر میرا بھی ہے

ہو نہ ہو منزل سفر اک مختصر میرا بھی ہے وقت کی سولی پہ لٹکا ایک سر میرا بھی ہے میں کہ دریا کی طرح بہتا نہیں ہوں رات دن ہوں تو اک تالاب ہی لیکن سفر میرا بھی ہے ایک ہی موسم اداسی کا ہے صدیوں سے جہاں درد کی ان بستیوں میں ایک گھر میرا بھی ہے اے مرے مولیٰ مجھے بس اپنی رحمت سے نواز آسماں ...

مزید پڑھیے

سازشیں تھیں بپھر گیا پانی

سازشیں تھیں بپھر گیا پانی میں جو ڈوبا اتر گیا پانی نرم لہجے سے کاٹیے پتھر یہ سکھا کے ہنر گیا پانی پانیوں کو بھی کاٹ دے یہ کٹار اس سیاست سے ڈر گیا پانی ایک سہمی ہوئی سی مچھلی ہے کیسے پانی سے ڈر گیا پانی ماریے ہاتھ پیر جان بچے اب تو سر سے گزر گیا پانی دفن ساگر میں ہو گیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 895 سے 4657