سرکشی کو جب ہم نے ہم رکاب رکھنا ہے
سرکشی کو جب ہم نے ہم رکاب رکھنا ہے ٹوٹنے بکھرنے کا کیا حساب رکھنا ہے ایک ایک ساعت میں زندگی سمونی ہے ایک ایک جذبے میں انقلاب رکھنا ہے رات کے اندھیروں سے جنگ کرنے والوں نے صبح کی ہتھیلی پر آفتاب رکھنا ہے ہم پہ اس سے واجب ہیں کوششیں بغاوت کی تم نے جس قبیلے کو کامیاب رکھنا ہے رکھ ...