شاعری

دوسروں کے واسطے بد حال رہ کر کیا ملا

دوسروں کے واسطے بد حال رہ کر کیا ملا غم چھپا کر عمر بھر خوش حال رہ کر کیا ملا صرف لوگوں کو ہنسی آئی مرے حالات پر کیا بتائیں بے سبب کنگال رہ کر کیا ملا بے سہارا ان پرندوں کا ٹھکانہ پیٹھ پر آپ کیا سمجھیں گے مجھ کو ڈال رہ کر کیا ملا نیہ کی پچکاریوں کے ساتھ میں آشیش بھی میں سمجھ ...

مزید پڑھیے

زخم گہرے تھے بھلا کیسے مداوا کرتے

زخم گہرے تھے بھلا کیسے مداوا کرتے کچھ نہ ہوتا جو اگر خود کا تماشا کرتے جھوٹ ہی ہوتا مگر خواب تو ہوتا کوئی وہ ہمارا ہے سر راہ دکھاوا کرتے بات بے بات وہ رکھے تو بھرم چاہت کا ہم بھی خاموش کوئی ترک تمنا کرتے میری ان آنکھوں میں جگنو سے چمکتے ہیں کئی خواب آتے ہیں مرا نیند میں پیچھا ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں خود کو کیوں برباد کرتے رہ گئے

کیا بتائیں خود کو کیوں برباد کرتے رہ گئے عمر بھر اک شخص کی امداد کرتے رہ گئے چند غزلیں لکھ کے ان کو شہرتیں حاصل ہوئیں اور ہم بس درد کا انوواد کرتے رہ گئے راستے بالکل غلط پھر بھی انہیں منزل ملی ہم سہی رستوں کو ہی ایجاد کرتے رہ گئے دیکھیے مالی نے پھولوں کو مسل کر رکھ دیا اور ہم اک ...

مزید پڑھیے

میری خواہش کا بستر سلگتا رہا

میری خواہش کا بستر سلگتا رہا ہجر میں وقت اکثر سلگتا رہا پھول مقتول کے ہاتھ میں دیکھ کر دست قاتل پہ خنجر سلگتا رہا مہرباں تھے تماشائیوں کی طرح میرے خوابوں کا دفتر سلگتا رہا تیز کرنوں کی زد میں تھا ہر ایک شعر یوں تخیل کا خاور سلگتا رہا میکدہ تھا بغیر ان کے ویران سا یاد میں ان ...

مزید پڑھیے

ان کی سنجیدگی سے کبر جہاں ٹوٹ گیا

ان کی سنجیدگی سے کبر جہاں ٹوٹ گیا شر کی پسپائی ہوئی زور سناں ٹوٹ گیا باغ میں چھاتے ہی تاریک خزاں کا موسم چہرۂ گل سے تبسم کا سماں ٹوٹ گیا ان کے جلوے کی ذرا دیکھو اثر انگیزی ان کی آمد ہوئی اور شہر بتاں ٹوٹ گیا تم تو ایقان کی سیڑھی پہ چڑھانے سے رہے کیسے کہتے ہو کہ امکان گماں ٹوٹ ...

مزید پڑھیے

کون ہے کس نے پکارا ہے صدا کیسے ہوئی

کون ہے کس نے پکارا ہے صدا کیسے ہوئی یہ کرن تاریکئ شب سے رہا کیسے ہوئی ایک اک پل میں اتر کر سوچتا رہتا ہوں میں نور کس کا ہے مرے خوں میں ضیا کیسے ہوئی خواہشیں آئیں کہاں سے کیوں اچھلتا ہے لہو رت ہری کیونکر ہوئی پاگل ہوا کیسے ہوئی اس کے جانے کا یقیں تو ہے مگر الجھن میں ہوں پھول کے ...

مزید پڑھیے

دم جنوں کی حد انتہا پہ ٹھہرا ہے

دم جنوں کی حد انتہا پہ ٹھہرا ہے یہ میرا دل ہے ابھی ابتدا پہ ٹھہرا ہے اسی کے لمس سے آب و ہوا بدلتی ہے تمام منظر جاں اک ادا پہ ٹھہرا ہے کنار کن سے پرے ہے کہیں وجود اپنا یہ کارواں تو غبار صدا پہ ٹھہرا ہے کچھ اور دیر نمائش ہے شور و شر کی یہاں یہ اک حباب ہے موج فنا پہ ٹھہرا ہے شعاع صبح ...

مزید پڑھیے

نیند سے جاگی ہوئی آنکھوں کو اندھا کر دیا

نیند سے جاگی ہوئی آنکھوں کو اندھا کر دیا دھند نے شفاف آئینوں کو دھندلا کر دیا جوڑتا رہتا ہوں ٹوٹے رابطوں کا فاصلہ مجھ کو لمحوں کے سرابوں نے اکیلا کر دیا چیختا پھرتا ہے سڑکوں پر صداؤں کا ہجوم کس خموشی نے گلی کوچوں کو بہرا کر دیا ہر صدا ٹکرا کے بے حس خامشی سے گر پڑی ہر صدا نے ...

مزید پڑھیے

سر جھکا لیتا تھا پہلے جس کو اکثر دیکھ کر

سر جھکا لیتا تھا پہلے جس کو اکثر دیکھ کر آج پاگل ہو گیا اس کو برابر دیکھ کر خواہشوں میں بہہ گیا کمزور مٹی کا حصار جسم قطرے میں سمٹ آیا سمندر دیکھ کر سوچتا ہوں رات کے اندھے سفر کے موڑ پر چاند گھبرایا تو ہوگا خالی بستر دیکھ کر آنکھ کھلتے ہی ہر اک لمحے میں میرا عکس تھا میں بکھر ...

مزید پڑھیے

وہی زمین وہی سر پہ آسماں نکلا

وہی زمین وہی سر پہ آسماں نکلا سفر کے پار بھی اک دشت رائیگاں نکلا جو اس کو دیکھا تو تصویر بن گئیں آنکھیں یہ جاگتا ہوا پل خواب بے کراں نکلا رواں تھے ہم تو سفر پر چراغ ہوش لیے مگر ثبات جہاں کار ناگہاں نکلا اڑی قبائے سکندر غبار نسیاں میں طلوع ساغر جم شعلۂ گماں نکلا کہیں تھا شور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 885 سے 4657