شاعری

بے دلی میں بھی دل بڑا رکھنا

بے دلی میں بھی دل بڑا رکھنا یہ دریچہ سدا کھلا رکھنا رات کے سحر میں ہے سارا نگر اپنے گھر کا دیا جلا رکھنا یہ گھڑی صبر آزما ہوگی زندہ رہنے کا حوصلہ رکھنا ساری خوشیاں وفا نہیں کرتیں درد سے دل کو آشنا رکھنا بھول کر بھی نہ دل پہ میل آئے آئنہ یہ سدا دھلا رکھنا سینچ کر خوں سے ایک اک ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے پرے نیند کی رفتار میں رہنا

آنکھوں سے پرے نیند کی رفتار میں رہنا ہر پل کسی نادید کے دیدار میں رہنا کھو جانا اسے دیکھ کے عریاں کے سفر میں چھوتے ہی اسے ھجلہ اسرار میں رہنا اک خواب دریدہ کو رگ حرف سے سینا پھر لے کے اسے کوچہ و بازار میں رہنا خود اپنے کو ہی دیکھ کے حیران سا ہونا نرگس کی طرح موسم بیمار میں ...

مزید پڑھیے

مرنے کا پتہ دے مرے جینے کا پتہ دے

مرنے کا پتہ دے مرے جینے کا پتہ دے اے بے خبری کچھ مرے ہونے کا پتہ دے اک دوسرے کی آہٹوں پہ چلتے ہیں سب لوگ ہے کوئی یہاں جو مجھے رستے کا پتہ دے خود آپ سے بچھڑا ہوں میں اس اندھے سفر میں اے تیرگی شب مرے سائے کا پتہ دے اس آس پہ ہر آئینے کو جوڑ رہا ہوں شاید کوئی ریزہ مرے چہرے کا پتہ ...

مزید پڑھیے

دشت میں ہے ایک نقش رہ گزر سب سے الگ

دشت میں ہے ایک نقش رہ گزر سب سے الگ ہم میں ہے شاید کوئی محو سفر سب سے الگ چلتے چلتے وہ بھی آخر بھیڑ میں گم ہو گیا وہ جو ہر صورت میں آتا تھا نظر سب سے الگ سب کی اپنی منزلیں تھیں سب کے اپنے راستے ایک آوارہ پھرے ہم در بدر سب سے الگ ہے رہ و رسم زمانہ پردۂ بیگانگی درمیاں رہتا ہوں میں سب ...

مزید پڑھیے

کس شخص کی تلاش میں سر پھوڑتی رہی

کس شخص کی تلاش میں سر پھوڑتی رہی سنسان جنگلوں میں ہوا چیختی رہی ماتھے پہ دھول ہاتھ میں کانٹے لیے حیات صحرا سے خوشبوؤں کا پتہ پوچھتی رہی دل بجھ گیا تو رات کی صورت تھی زندگی جب تک یہ اک چراغ رہا روشنی رہی میں آج بھی نہ اس سے کوئی بات کر سکا لفظوں کے پتھروں میں تمنا دبی رہی سنسان ...

مزید پڑھیے

ہر سفر کے بعد ویسا ہی سفر رکھا گیا

ہر سفر کے بعد ویسا ہی سفر رکھا گیا اور پھر مقسوم میرا در بدر رکھا گیا عرصۂ دشت طلب کو انتہا بخشی گئی مہلت عمر رواں کو مختصر رکھا گیا ہم کہاں سینے کی تہ میں یہ سمندر تھامتے ایک اس خاطر تجھے اے چشم تر رکھا گیا حاصل جاں پر خس و خاشاک حسرت کھینچ کر درمیاں اس دل کے خواہش کا شرر رکھا ...

مزید پڑھیے

روشنی رنگوں میں سمٹا ہوا دھوکا ہی نہ ہو

روشنی رنگوں میں سمٹا ہوا دھوکا ہی نہ ہو میں جسے جسم سمجھتا ہوں وہ سایا ہی نہ ہو آئینہ ٹوٹ گیا چنتا ہوں ریزہ ریزہ اسی آئینے میں میرا کہیں چہرہ ہی نہ ہو میں تو دیوار کے اس پار رواں ہوں کب سے کوئی دیوار کے اس پار بھی چلتا ہی نہ ہو وہ جو سنتا ہے مری بات بڑے غور کے ساتھ بعد جانے کے مرے ...

مزید پڑھیے

حصار ہوش میں خوابوں کے در رکھے گئے ہیں

حصار ہوش میں خوابوں کے در رکھے گئے ہیں کوئی رستہ نہیں ہے اور سفر رکھے گئے ہیں گہر آتا ہے آغوش صدف میں بوند بن کر زمین و آسماں میں نامہ بر رکھے گئے ہیں بسنتی دھوپ آنگن میں سمٹ کر سو رہی ہے ہوا کے دوش پر پیڑوں کے سر رکھے گئے ہیں ازل سے بھاگتا ہوں اپنے ہی سائے کے پیچھے تعاقب میں مرے ...

مزید پڑھیے

شہر غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں

شہر غفلت کے مکیں ویسے تو کب جاگتے ہیں ایک اندیشۂ شبخوں ہے کہ سب جاگتے ہیں شاید اب ختم ہوا چاہتا ہے عہد سکوت حرف اعجاز کی تاثیر سے لب جاگتے ہیں راہ گم کردۂ منزل ہیں کہ منزل کا سراغ کچھ ستارے جو سر قریۂ شب جاگتے ہیں عکس ان آنکھوں سے وہ محو ہوئے جو اب تک خواب کی مثل پس چشم طلب ...

مزید پڑھیے

چمکے دوری میں کچھ عکس نشانوں کے

چمکے دوری میں کچھ عکس نشانوں کے تیری آنکھ میں خواب جمیل جہانوں کے اترے آنکھ میں حرف سنہرے منظر کے جاگے دل میں شوق بسیط اڑانوں کے کھلے ہوئے دروازے شہر کی آنکھیں ہیں جن میں بھید کئی مہجور زمانوں کے کب بن باس کٹے اس شہر کے لوگوں کا قفل کھلیں کب جانے بند مکانوں کے ایک فصیل کھنچی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 886 سے 4657