شاعری

کیسی ہے یہ بہار مقدر کی بات ہے

کیسی ہے یہ بہار مقدر کی بات ہے دامن ہے تار تار مقدر کی بات ہے کیا قہر ہے کہ رنگ ہے پھولوں کا زرد زرد کانٹوں پہ ہے نکھار مقدر کی بات ہے اس مختصر حیات میں اتنی مصیبتیں کس کو ہے اختیار مقدر کی بات ہے اے دوست آگہی ہمیں کوشش کے باوجود آئی نہ سازگار مقدر کی بات ہے ہر گام پر فریب دئے ...

مزید پڑھیے

آنکھ اٹھے گی تو دیوانہ گرے گا

آنکھ اٹھے گی تو دیوانہ گرے گا جھیل دیکھے سے کوئی پیاسا گرے گا آج عریانی کھلے گی شاخ گل کی آج کی شب آخری پتا گرے گا رات بھر ٹھٹھرے کسی کے عہد پر ہم کیا خبر تھی اس قدر پارہ گرے گا ٹوٹتے رشتے نہ شائع ہوں کہیں سو کھڑکیوں پر بے وجہ پردہ گرے گا آج جو کچلا گیا بوٹوں کے نیچے آنکھ میں اک ...

مزید پڑھیے

سب گھروں میں تو چراغوں کا اجالا ہوگا

سب گھروں میں تو چراغوں کا اجالا ہوگا لیکن افسردہ فقط رات کا چہرا ہوگا ساری پرچھائیاں گوشوں میں دبک جائیں گی سورج ابھرے گا تو یہ گاؤں اکیلا ہوگا ہم تو وابستہ رہے غم سے وفا کے مارے غم نے کیا جانئے کیوں کر ہمیں چاہا ہوگا جب کھلی ہوں گی تمنا کے شجر پر کلیاں دشت امید میں طوفان سا ...

مزید پڑھیے

آیا تھا کوئی ذہن تک آ کر پلٹ گیا

آیا تھا کوئی ذہن تک آ کر پلٹ گیا لیکن بساط دل تو ہماری الٹ گیا ہائے وہ سیل اشک جو پلکوں پہ تھم گیا آنکھوں میں اپنی آج سمندر سمٹ گیا پھیلائے ہم کھڑے رہے پلکوں کی جھولیاں آیا امڈ کے ابر مگر وہ بھی چھٹ گیا تیری گلی میں تیرا تصور کیے ہوئے اک شخص آپ سائے سے اپنے لپٹ گیا دشت حیات سے ...

مزید پڑھیے

کہاں کہاں سے نگہ اس کو ڈھونڈ لائے ہے

کہاں کہاں سے نگہ اس کو ڈھونڈ لائے ہے کسی کے ساتھ سہی وہ نظر تو آئے ہے فلک سے جیسے ستارہ زمین پر اترے مری گلی میں وہ محشر خرام آئے ہے فضائے فکر میں وہ چاند بن کے چمکا ہے شب فراق کی رنگت بدلتی جائے ہے خدا گواہ خدا تو نہیں وہ شخص مگر اسی کا نام مکرر لبوں پہ آئے ہے کہاں کہاں نہ جلائے ...

مزید پڑھیے

درد دل کے لیے کچھ ایسی دوا لی ہم نے

درد دل کے لیے کچھ ایسی دوا لی ہم نے ٹیس گر کم بھی ہوئی اور بڑھا لی ہم نے اپنے اشکوں کو تبسم سے چھپایا جیسے جسم عریاں تھا تو پارینہ قبا لی ہم نے عمر بھر شہر نگاراں میں وفا کو ترسے اپنی ناکردہ گناہی کی سزا لی ہم نے چیختے لمحوں سے اندر کا نہ رشتہ ٹوٹا ورنہ باہر کی تو خاموش فضا لی ہم ...

مزید پڑھیے

جو دور سے ہمیں اکثر خدا سا لگتا ہے

جو دور سے ہمیں اکثر خدا سا لگتا ہے وہی قریب سے کچھ آشنا سا لگتا ہے کبھی ہماری نگاہوں سے دیکھ لے اس کو پھر اس کے بعد بتا تجھ کو کیسا لگتا ہے تمام رات جلے دن کو سرد مہر بنے بدن کا شہر بھی شہر انا سا لگتا ہے وہ اس کی سہمی سی چاہت جفا کی چلمن میں وہ بے وفا بھی ہمیں با وفا سا لگتا ...

مزید پڑھیے

اٹھ کر اس کے در سے اپنے گھر جانا

اٹھ کر اس کے در سے اپنے گھر جانا ہائے کتنا آساں ہوتا مر جانا جس رستے ہر پتھر تک سے یاری تھی مشکل ہے اب اس رستے اکثر جانا دل شاہد ہے ان چارہ گر نظروں کا ان کا اٹھنا ان گھاؤں کا بھر جانا عشق کیا تو جانا کیوں ہوتا ہے یہ ہونٹوں کا مسکانا آنکھیں بھر جانا مرنے کی فرصت ملنے تک ہے ہم ...

مزید پڑھیے

انت سمے بس یہ ہی جھگڑا رہتا ہے

انت سمے بس یہ ہی جھگڑا رہتا ہے دس من لکڑی دو گز کپڑا رہتا ہے دیکھو آگے سوچ سمجھ کر ہی جانا آگے رستہ بے حد سکڑا رہتا ہے اب تو اس کو دیکھے بھی عرصہ گزرا جانے کیوں جی اکھڑا اکھڑا رہتا ہے پنچھی اڑ جاتے ہیں سورج اگتے ہی پیپل گٹا دن بھر اجڑا رہتا ہے چاہت الفت عشق وفا توبہ توبہ چھوڑو ...

مزید پڑھیے

کچھ بیاں کر دی حقیقت کچھ چھپائی ساتھ میں

کچھ بیاں کر دی حقیقت کچھ چھپائی ساتھ میں شاعری اور نوکری دونوں نبھائی ساتھ میں میں اسی دن سے سخنور نام سے جانا گیا اک غزل اس نے بھی میری گنگنائی ساتھ میں ایک دوجے کی نظر کا سامنا نہ کر سکے سامنے آئے تو پھر نظریں جھکائی ساتھ میں دیکھنا سوکھی ہوئی کلیاں کتابوں میں چھپی اور پھر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 875 سے 4657