شاعری

ہمارے دل میں مچلے گی کسی کی آرزو کب تک

ہمارے دل میں مچلے گی کسی کی آرزو کب تک جنون عشق میں بھٹکیں گے ہم یوں کو بہ کو کب تک یہ کیا منزل نہ آئے گی ہمارے رو بہ رو کب تک رہیں گے دشت غربت میں اسیر جستجو کب تک غم ہستی کا بھی کچھ تو مداوا ڈھونڈھنا ہوگا غم ہستی مٹائیں گے بھلا جام و سبو کب تک بہاروں کی ہے آمد کا جنہیں دعویٰ وہ ...

مزید پڑھیے

تجھ کو میرے قرب میں پا کر جلتے ہیں دیوانے لوگ

تجھ کو میرے قرب میں پا کر جلتے ہیں دیوانے لوگ میرے تیرے نام سے اکثر گڑھتے ہیں افسانے لوگ آج خزاں کے ہاتھ گلستاں بیچ دئے ہیں یاروں نے فصل گل کو یاد کریں گے دیکھ کے یہ ویرانے لوگ لوگوں کی تشہیر کے ڈر سے ہم نے ملنا چھوڑ دیا بھولی بسری باتیں لے کر کہتے ہیں افسانے لوگ میں نے تجھ سے ...

مزید پڑھیے

ساقی کی ہر نگاہ میں صہبا تھی جام تھا

ساقی کی ہر نگاہ میں صہبا تھی جام تھا کل شغل مے کشی کا ہمیں اذن عام تھا ہم کشتۂ خزاں سہی اے دوستو مگر آسودۂ بہار ہمارا ہی نام تھا میرے بغیر آج وہ کتنے ہیں شادماں جن کو مرے فراق میں جینا حرام تھا دیکھا جو میکدے میں اسے اور بڑھ گیا میری نظر میں شیخ کا جو احترام تھا ہم بے نیازیوں ...

مزید پڑھیے

بہار گل سے اب دور خزاں تک

بہار گل سے اب دور خزاں تک کہاں سے بات آ پہنچی کہاں تک کہاں جائیں گے اب آخر یہاں سے جو آ پہنچے تمہارے آستاں تک ڈبو دے گا ہمیں خود ناخدا ہی نہ تھا اس کا کبھی وہم و گماں تک رفو گر آ کے بھی اب کیا سیے گا نہیں دامن کی باقی دھجیاں تک غضب ہے جل گیا دل کا نشیمن نہیں اٹھا مگر اس سے ...

مزید پڑھیے

دشت تنہائی میں ہم خاک اڑا دیتے ہیں

دشت تنہائی میں ہم خاک اڑا دیتے ہیں شب کی خاموشی میں یادوں کو صدا دیتے ہیں دن گزرتے ہیں طواف در جاناں کرتے اپنی راتوں کو بھی آنکھوں میں گنوا دیتے ہیں رات بھی بیت گئی تارے بھی سب ڈوب چلے اپنے اشکوں کو بھی پلکوں میں چھپا دیتے ہیں اپنے اطوار پہ نادم نہ ہوں محفل میں عزیز چہرے چھپ ...

مزید پڑھیے

شہر دل سلگا تو آہوں کا دھواں چھانے لگا

شہر دل سلگا تو آہوں کا دھواں چھانے لگا شبنمی آنچل مگر یادوں کا لہرانے لگا شام تنہائی میں بھی اک شخص کی یادوں کا ساتھ رنگ اپنے غم کے ویرانوں کا سنولانے لگا تھام کر بیٹھا رہا میں چاندنی کا نرم ہاتھ جب اندھیرا زلف کا ماحول پر چھانے لگا دشت تنہائی میں جی چاہا اسے آواز دوں جب پکارا ...

مزید پڑھیے

آرزوؤں کے شگوفوں کو جلا کر دیکھو

آرزوؤں کے شگوفوں کو جلا کر دیکھو کتنی خالص ہے محبت پہ تپا کر دیکھو بہر دنیا کے تلاطم میں خلوص اور وفا کچی مٹی کے گھروندے ہیں بنا کر دیکھو بات کچھ قہقہوں کچھ طعنوں میں دب جائے گی داستاں درد کی اپنوں کو سنا کر دیکھو لوگ انگارے بجھا دیں گے گزر گاہوں میں اک قدم پیار کے رستے پہ بڑھا ...

مزید پڑھیے

صلیب لاد کے کاندھے پہ چل رہا ہوں میں

صلیب لاد کے کاندھے پہ چل رہا ہوں میں حصار ذات سے باہر نکل رہا ہوں میں حیات ڈھونڈھتی پھرتی ہے مجھ کو سر گرداں ادھورا جسم لیے رخ بدل رہا ہوں میں بنا دیا ہے زمانے نے مجھ کو پتھر سا کہ ضرب تیشہ سے آتش اگل رہا ہوں میں مری نگاہ میں دنیا چتا کی راکھ سی ہے اسی خیال کے شعلوں میں جل رہا ...

مزید پڑھیے

ہمارے جسم نے جس جسم کو بلایا ہے

ہمارے جسم نے جس جسم کو بلایا ہے وہ روح بن کے کھڑا دور مسکرایا ہے پتا چلا کبھی شہر انا وہیں پر تھا جہاں کھنڈر پہ نیا شہر اب بسایا ہے حیات ناؤ ہے کاغذ کی بارہا جس پر اڑایا آندھیوں نے سیل نے بہایا ہے جس آئنہ پہ دھندلکوں نے کھینچ دی چلمن اسی نے عکس ہمارا ہمیں دکھایا ہے کوئی کھڑا ہے ...

مزید پڑھیے

زمیں کی وسعتوں سے آسماں تک

زمیں کی وسعتوں سے آسماں تک کہانی اپنی جا پہنچی کہاں تک لگی تھی آگ جو صحن چمن میں وہ آ پہنچی ہمارے آشیاں تک بتا دے ہم کو اتنا راہبر اب بھٹکنا ہے ہمیں آخر کہاں تک کسی کے حسن کا وہ رعب توبہ شکایت رہ گئی آ کر زباں تک چلی تھی بات میری داستاں سے وہ آ پہنچی تمہاری داستاں تک جو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 874 سے 4657