ہمارے دل میں مچلے گی کسی کی آرزو کب تک
ہمارے دل میں مچلے گی کسی کی آرزو کب تک جنون عشق میں بھٹکیں گے ہم یوں کو بہ کو کب تک یہ کیا منزل نہ آئے گی ہمارے رو بہ رو کب تک رہیں گے دشت غربت میں اسیر جستجو کب تک غم ہستی کا بھی کچھ تو مداوا ڈھونڈھنا ہوگا غم ہستی مٹائیں گے بھلا جام و سبو کب تک بہاروں کی ہے آمد کا جنہیں دعویٰ وہ ...