اس دل کو تہ تیغ سلا کیوں نہیں دیتے
اس دل کو تہ تیغ سلا کیوں نہیں دیتے ہر روز کا جھگڑا ہے مٹا کیوں نہیں دیتے چہرے سے نقاب آپ اٹھا کیوں نہیں دیتے ہلکی سی جھلک ایک دکھا کیوں نہیں دیتے حیراں ہوں کہ یہ شوخ و حسیں ماہ جبیں لوگ بدلے میں وفاؤں کے وفا کیوں نہیں دیتے رہزن ہو تو پھر ساتھ چلے آتے ہو کیونکر رہبر ہو تو منزل کا ...