شاعری

چاہ کر بھی نہ کوئی ان سے گلہ رکھتا ہوں

چاہ کر بھی نہ کوئی ان سے گلہ رکھتا ہوں اپنے جذبات کسی طرح دبا رکھتا ہوں اپنی تکلیف کا کرتا نہیں اظہار کبھی اشک آنکھوں میں تو غم دل میں چھپا رکھتا ہوں سرکشی اس کی بھلا کیسے سہوں میں ہر بار میں بھی انسان ہوں کچھ میں بھی انا رکھتا ہوں لذت درد ہے وہ جس نے مجھے روکا ہے ورنہ میں اپنے ...

مزید پڑھیے

یہ حقیقت ہے کہ وہ شخص وفادار نہ تھا

یہ حقیقت ہے کہ وہ شخص وفادار نہ تھا ہاں مگر میں بھی وفا کرنے کو تیار نہ تھا عرصۂ ہجر بڑا تھا پہ یہ دشوار نہ تھا دل تو خود ہی مرا آمادۂ دیدار نہ تھا شہر بے حس میں اسیران ہوس سب تھے مگر اے محبت ترا کوئی بھی گرفتار نہ تھا میرا گریہ مرے آنسو مری وحشت کے سوا ہجر کی رات کوئی میرا ...

مزید پڑھیے

مانگا تھا ہم نے دن وہ سیہ رات دے گیا

مانگا تھا ہم نے دن وہ سیہ رات دے گیا سورج ہمیں اندھیرے کی سوغات دے گیا سکے مرے خلوص کے لوٹا دیے مجھے اپنی سمجھ میں وہ مجھے خیرات دے گیا اس کو یہ زعم تھا کہ ہے وہ شوکت چمن جنگل کا ایک پھول اسے مات دے گیا اس کی ہنسی میں لے تھی کس جل ترنگ کی میرے لبوں کو پیار کے نغمات دے گیا مضمون ...

مزید پڑھیے

شب وصال تھی روشن فضا میں بیٹھا تھا

شب وصال تھی روشن فضا میں بیٹھا تھا میں تیرے سایۂ لطف و عطا میں بیٹھا تھا تمام عمر اسے ڈھونڈنے میں صرف ہوئی جو چھپ کے میرے بدن کی گپھا میں بیٹھا تھا نئی رتوں کی ہوا لے اڑی لباس اس کا وہ کل تلک تو حریم حیا میں بیٹھا تھا درون قافلہ آثار تھے بغاوت کے عجب سا خوف دل رہنما میں بیٹھا ...

مزید پڑھیے

آرزو ایک ندی ہو جیسے

آرزو ایک ندی ہو جیسے زندگی تشنہ لبی ہو جیسے یہ جوانی تری چاہت کے بغیر محض اک جام تہی ہو جیسے کل ہی بچھڑے تھے مگر لگتا ہے اک صدی بیت گئی ہو جیسے عمر بھر قرض چکایا اس کا زیست بننے کی بہی ہو جیسے فصل چاندی کی اگانا سر پر وقت کی جادوگری ہو جیسے ظلم سہہ کر بھی ہے خلقت خاموش مہر ...

مزید پڑھیے

ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہوگا

ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہوگا لٹ گئی دولت احساس تو پھر کیا ہوگا کون تا صبح جلائے گا تمنا کے چراغ شام سے ٹوٹ گئی آس تو پھر کیا ہوگا جن کی دوری میں وہ لذت ہے کہ بیتاب ہے دل آ گئے وہ جو کہیں پاس تو پھر کیا ہوگا تم سے زندہ ہے تمنائے مذاق احساس تم ہوئے دشمن احساس تو پھر کیا ...

مزید پڑھیے

سفر طویل ہے اور راہبر کوئی بھی نہیں

سفر طویل ہے اور راہبر کوئی بھی نہیں ہمارے ساتھ یہاں ہم سفر کوئی بھی نہیں تمہارے ہجر میں دن رات میں تڑپتا ہوں پہ میرے حال کی تم کو خبر کوئی بھی نہیں تمہارا دل ہے یا پتھر یہ مجھ کو بتلا دو کہ میری آہ کا اس پر اثر کوئی بھی نہیں یہ درد ہجر ہے اس کی وصال یار سوا زمانہ بھر میں دوا ...

مزید پڑھیے

منزل قریب راہ بھی آساں ہو ڈر نہ ہو

منزل قریب راہ بھی آساں ہو ڈر نہ ہو کیا لطف اس سفر میں کہ جو پر خطر نہ ہو میں بس یہ چاہتا ہوں کہ اس کی نگاہ میں کوئی بھی شخص میرے سوا معتبر نہ ہو میں ہوں سیاہیٔ شب ہجراں میں پر سکوں اے وقت تھم خیال رہے اب سحر نہ ہو اک سمت بے وفائی تری اک طرف ہے تو دل کشمکش میں ہے کہ کدھر ہو کدھر نہ ...

مزید پڑھیے

نہ ماننا تھا مری بات اور نہ مانی تھی

نہ ماننا تھا مری بات اور نہ مانی تھی کہ دل نے پہلے سے ہی خودکشی کی ٹھانی تھی یہ بہہ رہے تھے کسی بے وفا کی فرقت میں اے چشم یہ ترے اشکوں کی رائیگانی تھی نہ کوئی رخت سفر تھا نہ ہم سفر کوئی میان کرب سفر میری نوحہ خوانی تھی تمام وقت ہی میں شاعری کو دے دیتا شکم کی آگ بھی مجھ کو مگر ...

مزید پڑھیے

نفس نفس پہ نیا سوز آگہی رکھنا

نفس نفس پہ نیا سوز آگہی رکھنا کسی کا درد بھی ہو آنکھ میں نمی رکھنا وہ تشنہ لب ہوں کہ میری انا کا ہے معیار سمندروں سے بھی پیمان تشنگی رکھنا رفاقتوں کے تسلسل سے جی نہ بھر جائے جدائیوں کا بھی موسم کبھی کبھی رکھنا وفا کسی پہ کوئی قرض تو نہیں ہوتی جو ہو سکے تو ہمارا خیال بھی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 848 سے 4657