ان گنت شاداب جسموں کی جوانی پی گیا
ان گنت شاداب جسموں کی جوانی پی گیا وہ سمندر کتنے دریاؤں کا پانی پی گیا نرم صبحیں پی گیا شامیں سہانی پی گیا ہجر کا موسم دلوں کی شادمانی پی گیا میرے ارمانوں کی فصلیں اس لیے پیاسی رہیں ایک ظالم تھا جو کل بستی کا پانی پی گیا لے گئے تم چھین کر الفاظ کا امرت کلس میں وہ شوشنکر تھا جو ...