شاعری

جو چپ رہیں تو کسک ہو ہنسیں تو خوں ٹپکے (ردیف .. ح)

جو چپ رہیں تو کسک ہو ہنسیں تو خوں ٹپکے تری نظر نے دیا زخم بھی رفو کی طرح سکھا رہے ہیں وہ آداب میکشی ہم کو جو میکدے میں چھلکتے رہے سبو کی طرح سراغ قتل ملا خود ادائے قاتل سے وہ رنگ رخ بھی پکارا مرے لہو کی طرح سکوت پر بھی وہ شاید بٹھائیں گے پہرے سکوت بھی تو ہے اک جرم گفتگو کی ...

مزید پڑھیے

حبس طاری ہے مسلسل کیسا

حبس طاری ہے مسلسل کیسا اب کے برسا ہے یہ بادل کیسا جس سے احساس کی صدیاں گزریں تھا جدائی کا وہ اک پل کیسا لے کے نذرانۂ جاں کون آیا جشن سا ہے سر مقتل کیسا تیری توصیف سے خالی ہو اگر لفظ ہو جاتا ہے مہمل کیسا وہی دن رات محبت کا جنوں دل بھی کم بخت ہے پاگل کیسا اس نے تو لب ابھی کھولے ...

مزید پڑھیے

صحرا کی بے آب زمیں پر ایک چمن تیار کیا

صحرا کی بے آب زمیں پر ایک چمن تیار کیا اپنے لہو سے سینچ کے ہم نے مٹی کو گل زار کیا یوں ہم اپنے گھر سے نکلے گھر ہم کو تکتا ہی رہا ہم نے ادا بھیگی آنکھوں سے قرض در و دیوار کیا کتنی آنکھیں شوق سراپا کتنے چہرے حرف سوال جانے پھر کیا سوچ کے ہم نے خود کو ترا بیمار کیا تم نہ کہو تاریخ کہے ...

مزید پڑھیے

جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں

جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں لوگ سائے کو بھی دیوار سمجھ لیتے ہیں چھیڑ کر جب بھی کسی زلف کو تو آتی ہے اے صبا ہم تری رفتار سمجھ لیتے ہیں تو فقط جام کا مفہوم سمجھ اے ساقی تشنگی کیا ہے یہ مے خوار سمجھ لیتے ہیں ہم کہ ہیں جنبش ابرو کی زباں سے واقف تیرے کھنچنے کو بھی تلوار سمجھ ...

مزید پڑھیے

نیند سے آنکھ وہ مل کر جاگے

نیند سے آنکھ وہ مل کر جاگے کتنے سوئے ہوئے منظر جاگے کس کی خاطر ہے پریشاں تری زلف ہم اسی فکر میں شب بھر جاگے ضرب تیشہ کی صدا تھی کیسی آنکھ ملتے ہوئے پتھر جاگے یوں بھی گزرے ہیں شب و روز کہ ہم نیند کی فکر میں اکثر جاگے تشنگی نے جو نچوڑا دامن کروٹیں لے کے سمندر جاگے سیکڑوں رنگ ہیں ...

مزید پڑھیے

آنسو شعلوں میں ڈھل رہے ہیں

آنسو شعلوں میں ڈھل رہے ہیں غم دل کی فضا بدل رہے ہیں گلشن ہے انہیں کا گل انہیں کے کانٹوں پہ جو ہنس کے چل رہے ہیں ایک ایک نفس میں روشنی ہے یادوں کے چراغ جل رہے ہیں چپ چپ سی ہے تلخیٔ زمانہ غم جام و سبو میں ڈھل رہے ہیں مٹ مٹ کے ابھر رہی ہے دنیا بجھ بجھ کے چراغ جل رہے ہیں اللہ رے ...

مزید پڑھیے

اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک

اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک تشنہ لبی کا اک دریا ہے شیشے سے پیمانے تک حسن و عشق کا سوز تعلق سمتوں کا پابند نہیں اکثر تو خود شمع کا شعلہ بڑھ کے گیا پروانے تک راہ طلب کے پیچ و خم کا اندازہ آسان نہیں اہل خرد کیا چیز ہیں رستہ بھول گئے دیوانے تک ساقی کو یہ خوش فہمی تھی ...

مزید پڑھیے

جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے

جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے جو غم حبیب کو پا گئے وہ غموں سے ہنس کے نکل گئے جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے جو نظر نظر سے گلے ملی تو بجھے چراغ بھی جل گئے نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں کوئی روشنی یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل ...

مزید پڑھیے

جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا

جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا سماعت کا صدا سے فاصلہ کیا خود اپنے عالم حیرت کو دیکھے ترا منہ تک رہا ہے آئنا کیا اندھیرا ہو گیا ہے شہر بھر میں کوئی دل جلتے جلتے بجھ گیا کیا لہو کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے ترے رنگ حنا کا خوں بہا کیا چراغوں کی صفیں سونی پڑی ہیں ہمارے بعد محفل میں رہا ...

مزید پڑھیے

ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ

ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ چراغ لے کے نہ جانے کدھر گئے ہیں لوگ سفر کے شوق میں اتنے عذاب جھیلے ہیں کہ اب تو قصد سفر ہی سے ڈر گئے ہیں لوگ دھواں دھواں نظر آتی ہیں شہر کی گلیاں سنا ہے آج سر شام گھر گئے ہیں لوگ جہاں سے نکلے ہیں رستے مسافروں کے لئے مکان ایسے بھی تعمیر کر گئے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 849 سے 4657