شاعری

پاس آنے پہ وہ انساں بھی نہیں لگتے ہیں (ردیف .. ے)

پاس آنے پہ وہ انساں بھی نہیں لگتے ہیں دور سے لوگ جو لگتے ہیں خداؤں جیسے سانحے لاکھ سہی ہم پہ گزرنے والے راستو ہم بھی نہیں ڈر کے ٹھہرنے والے مارنے والے کوئی اور سبب ڈھونڈ کہ ہم مارے جانے کے تو ڈر سے نہیں مرنے والے کتنی جلدی میں ہوا ختم ملاقات کا وقت ورنہ کیا کیا نہ سوالات تھے ...

مزید پڑھیے

ہمیشہ دور رہ کر بھی ہمیشہ پاس ہوتا ہے

ہمیشہ دور رہ کر بھی ہمیشہ پاس ہوتا ہے محبت میں کوئی اک شخص کتنا خاص ہوتا ہے کسی سے دل ہی دل میں روٹھنا پھر خود ہی من جانا گماں اس پر کہ شاید اس کو بھی احساس ہوتا ہے کسی کے ساتھ رہنا اور وہ بھی اجنبی بن کر کسی کو کیا پتا کتنا بڑا بن باس ہوتا ہے بکھرتا جاتا ہے ہر سو مہکتا مشک بو ...

مزید پڑھیے

کتاب ہجر میں اک حرف نارسا کی طرح

کتاب ہجر میں اک حرف نارسا کی طرح مجھے بھی لکھے کوئی جان فارہہ کی طرح بھلے یہ ہاتھ بندھے ہیں مگر یہ کاجل ہے سو پھیل جاتا ہے اک کاسۂ گدا کی طرح وہ مجھ سے ملتا تھا ہر بار اپنی شرطوں پر کبھی خطا کی طرح اور کبھی سزا کی طرح مجھے ستاتی رہیں تتلیاں شرارت سے گلوں کی بات وہ کرتا رہا صبا کی ...

مزید پڑھیے

پڑ گئے کیوں میرے پیچھے ہیں عجب استاد جی

پڑ گئے کیوں میرے پیچھے ہیں عجب استاد جی آ گئے تصحیح کرنے بے سبب استاد جی چاند چہرے کو گھٹا زلفوں کو کہتے ہیں مری سارے ٹھرکی عاشقوں میں ہیں غضب استاد جی مطلع سے مقطع تلک ساری غزل تھرا اٹھے آئیں جب مجھ کو سکھانے شعری ڈھب استاد جی ان کو بتلا دو جلانا پڑتا ہے خون جگر یوں ہی بن جاتے ...

مزید پڑھیے

نظم لکھنے کو استعارے بہت

نظم لکھنے کو استعارے بہت ہیں سمجھ دار کو اشارے بہت گہرے پانی میں خودکشی کیسی ڈوبنے کو یہاں کنارے بہت پھول جگنو صبا دھنک تتلی آئینے پار تھے نظارے بہت ٹھہریے آپ چل دئے ہیں کہاں ہیں سوال اور بھی ہمارے بہت ہار جائے نہ کھیل کھیل میں چاند وہ اکیلا ہے اور ستارے بہت کوئی سنتا نہ ...

مزید پڑھیے

گو کم سخن ہے بھری محفلوں میں تنہا ہے

گو کم سخن ہے بھری محفلوں میں تنہا ہے وہ اپنے آپ سے ملتا ہے بات کرتا ہے جو بات دونوں میں ہونی تھی ہو نہ پائی کبھی سو گھر میں آج بھی تنہائیوں کا ڈیرا ہے ہر ایک حال میں رہتے ہیں عشق والے خوش وصال و ہجر کے مابین ایسا رشتہ ہے کھڑا ہے صحن میں تنہا جو ٹنڈمنڈ درخت نہ جانے اس کو پرندوں پہ ...

مزید پڑھیے

ہجر جب طے ہے تو بے کار نہ حجت کرنا

ہجر جب طے ہے تو بے کار نہ حجت کرنا جانے والے کو بہت پیار سے رخصت کرنا وہ جو بھیجے تھے تری مست نگاہوں نے پیام ایک بار اور ذرا ان کی وضاحت کرنا سب کے ہاتھوں میں یہ اعجاز مسیحائی کہاں ایک ہی لمس کا منصب ہے کرامت کرنا یہ تو ایسا ہے کہ اس راہ میں چل پڑیے عشق کرنا تو بغیر اذن و اجازت ...

مزید پڑھیے

بے خبر کچھ نہ جیتے جی سمجھے

بے خبر کچھ نہ جیتے جی سمجھے جاں سے گزری تو زندگی سمجھے اب بہت دیر ہو چکی چھوڑو مرتے مرتے بھی کیا کوئی سمجھے اک ذرا آئینہ دکھایا تھا آپ جس کو کھری کھری سمجھے دھن کے پکے ہیں کر ہی جائیں گے جو بھی اس دل نے ٹھان لی سمجھیں ہم تھے خوف فساد خلق سے چپ لوگ احساس برتری سمجھے او میرا حال ...

مزید پڑھیے

دیکھتے ہیں نہ ٹھہر جاتے ہیں

دیکھتے ہیں نہ ٹھہر جاتے ہیں لوگ رستے سے گزر جاتے ہیں کتنے دریا ہیں مگر آخر میں اک سمندر میں اتر جاتے ہیں دیکھنے کون ہمیں آتا ہے ڈھونڈنے کس کو ادھر جاتے ہیں دل کی وحشت بھی عجب وحشت ہے ساتھ رہتی ہے جدھر جاتے ہیں منزلیں گرد میں کھو جاتی ہیں راستے دھوپ سے بھر جاتے ہیں دن نکلتا ہے ...

مزید پڑھیے

سرخ سنہری سبز اور دھانی ہوتی ہے

سرخ سنہری سبز اور دھانی ہوتی ہے جھیل کنارے شام سہانی ہوتی ہے خود سے جب بھی آنکھ ملانی ہوتی ہے آنکھ تو جیسے پانی پانی ہوتی ہے رقص کرے اور آنکھ میں پانی بھر آئے ہر لڑکی تھوڑی دیوانی ہوتی ہے کتنی بوجھل ہے خفت کی گٹھری بھی جو مجھ کو ہر روز اٹھانی ہوتی ہے وہ کب بنا بتائے وعدہ توڑ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 833 سے 4657