پاس آنے پہ وہ انساں بھی نہیں لگتے ہیں (ردیف .. ے)
پاس آنے پہ وہ انساں بھی نہیں لگتے ہیں دور سے لوگ جو لگتے ہیں خداؤں جیسے سانحے لاکھ سہی ہم پہ گزرنے والے راستو ہم بھی نہیں ڈر کے ٹھہرنے والے مارنے والے کوئی اور سبب ڈھونڈ کہ ہم مارے جانے کے تو ڈر سے نہیں مرنے والے کتنی جلدی میں ہوا ختم ملاقات کا وقت ورنہ کیا کیا نہ سوالات تھے ...