شاعری

عادتاً مایوس اب تو شام ہے

عادتاً مایوس اب تو شام ہے ہجر تو بس مفت ہی بدنام ہے آج پھر دھندلا گیا میرا خیال آج پھر الفاظ میں کہرام ہے الگنی پر ٹانگ کر دن کا لباس رات کو اب چین ہے آرام ہے نقص تعبیروں میں کیوں کرنا رہے خواب ہی جب کے ہمارا خام ہے مختلف شکلیں بنانا وقت کا بس یہی تو گردش ایام ہے اس فراق نا ...

مزید پڑھیے

جب فرط غم میں آنکھ سے آنسو نکل گئے

جب فرط غم میں آنکھ سے آنسو نکل گئے حالات مرے دیکھ کے پتھر پگھل گئے مجھ سے بچھڑ کے وہ تو بہت شاد تھے مگر میرے قریب آئے تو چہرے بدل گئے اب کیا سنائیں داستاں اپنوں کی بھی تمہیں غم کو ہمارے دیکھ کے جب تم مچل گئے برسوں کے بعد آیا جو موسم بہار کا میری خوشی کو دیکھ کے اپنے ہی جل ...

مزید پڑھیے

لہو لہو ہر منظر دیکھ

لہو لہو ہر منظر دیکھ گلشن گلشن بنجر دیکھ گھر نہ بنانا شیشے کا ہاتھ میں سب کے پتھر دیکھ کون بھلا ہے کون برا جھانک کے دل کے اندر دیکھ جو کرتا تھا پیار کی بات ہاتھ میں اس کے خنجر دیکھ لاکھ ہوں خطرے راہوں میں رک مت جانا ڈر کر دیکھ آنکھیں ان سے چار ہوئیں کیا گزری ہے دل پر ...

مزید پڑھیے

ہمارا دل کچھ بہک رہا ہے

ہمارا دل کچھ بہک رہا ہے گلاب جیسا مہک رہا ہے تمہیں کچھ اپنے قریب پا کر ہمارا دل بھی دھڑک رہا ہے جو ایک مدت پہ تم ملے ہو خوشی سے آنسو چھلک رہا ہے ہمارا دل بھی خوشی سے اب تو مثال بلبل چہک رہا ہے تمہاری صورت میں اس کا نقشہ ذرا شباہتؔ جھلک رہا ہے

مزید پڑھیے

تم ہو تصویر وفا میں نے کب انکار کیا

تم ہو تصویر وفا میں نے کب انکار کیا مجھ سے ہوتی ہے خطا میں نے کب انکار کیا ایسا ہوتا ہی نہیں بسمل حسرت کا لہو یہ تو ہے رنگ حنا میں نے کب انکار کیا ہر زمانے میں رہی اہل محبت کے لئے ہاں یہی رسم جفا میں نے کب انکار کیا خنجر ابروئے خم دار کی خاطر منظور میرا حاضر ہے گلا میں نے کب انکار ...

مزید پڑھیے

حیات درد مسلسل بھی انتشار بھی ہے

حیات درد مسلسل بھی انتشار بھی ہے قرار ڈھونڈنے والو کہیں قرار بھی ہے شمیم گل سے سلگتا ہے دامن احساس کہ تیری نکہت پوشاک شعلہ بار بھی ہے زمانہ خود نظر آتا نہیں زمانے کو کہ دل کا آئنہ آلودۂ غبار بھی ہے زباں سے کہئے تو کیوں کہئے اس کی محفل میں وہ دل کا حال جو صورت سے آشکار بھی ہے یہ ...

مزید پڑھیے

وفا میں پیکر ایثار بننا کتنا مشکل ہے

وفا میں پیکر ایثار بننا کتنا مشکل ہے کسی کے پیار کا حق دار بننا کتنا مشکل ہے مسائل ہر قبیلے کے سمجھ لینا تو ہے آساں قبیلے کا مگر سردار بننا کتنا مشکل ہے تصادم ہے یہاں باہم مفادات خصوصی ہیں یہاں پر غیر جانب دار بننا کتنا مشکل ہے جہاں پر جبر حاکم سے سبھی کی گردنیں خم ہوں وہاں پر ...

مزید پڑھیے

صبح ازل سے شام ابد تک آنا جانا ہوتا ہے

صبح ازل سے شام ابد تک آنا جانا ہوتا ہے منزل تک جانے کا رستہ کس نے پانا ہوتا ہے میں اک عورت ہوں گھر بھر کی ذمہ داری ہے میری مردوں کو تو کام بڑے ہیں چاند پہ جانا ہوتا ہے میری باری میں ہی قسمت کیوں کرتی ہے من مانی ہونے کو تو جو ہوتا ہے ایک بہانہ ہوتا ہے لیلیٰ اور مجنوں کے قصے تیرے ...

مزید پڑھیے

سانحے لاکھ سہی ہم پہ گزرنے والے

سانحے لاکھ سہی ہم پہ گزرنے والے راستو ہم بھی نہیں ڈر کے ٹھہرنے والے مارنے والے کوئی اور سبب ڈھونڈ کہ ہم مارے جانے کے تو ڈر سے نہیں مرنے والے کتنی جلدی میں ہوا ختم ملاقات کا وقت ورنہ کیا کیا نہ سوالات تھے کرنے والے گفتگو خود سے ہوئی اپنے ہی حق میں ورنہ سچ سے اس بار تو ہم بھی تھے ...

مزید پڑھیے

میں تو نہیں ہوں ان کے جیسی یہ تو اڑنا جانے ہیں

میں تو نہیں ہوں ان کے جیسی یہ تو اڑنا جانے ہیں یہ جو سب خوش رنگ پرندے پنجرے کے دیوانے ہیں بیٹھ ذرا آرام سے دل کی ڈور مجھے سلجھانے دے الجھی الجھی دھڑکن کے کمزور سے تانے بانے ہیں اپنی خاک سے دور سہی پر سوندھی ہے ہجرت کی دھول کہنے دو کہنے والو کو دور کے ڈھول سہانے ہیں صرف گھڑی کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 832 سے 4657