عادتاً مایوس اب تو شام ہے
عادتاً مایوس اب تو شام ہے ہجر تو بس مفت ہی بدنام ہے آج پھر دھندلا گیا میرا خیال آج پھر الفاظ میں کہرام ہے الگنی پر ٹانگ کر دن کا لباس رات کو اب چین ہے آرام ہے نقص تعبیروں میں کیوں کرنا رہے خواب ہی جب کے ہمارا خام ہے مختلف شکلیں بنانا وقت کا بس یہی تو گردش ایام ہے اس فراق نا ...