شاعری

لاکھ خشکی کھیت میں کھلیان میں موجود ہے

لاکھ خشکی کھیت میں کھلیان میں موجود ہے آس بارش کی دل دہقان میں موجود ہے بات سب کے فائدے کی ہے یہ کیسے مان لیں جب کہ دھمکی آپ کے اعلان میں موجود ہے منزل مقصود میں اس کی بدولت پاؤں گا اک عدد جو حوصلہ سامان میں موجود ہے ذکر میری ہر غزل میں چاہے اس کا ہو نہ ہو ہاں مگر اک دو جگہ دیوان ...

مزید پڑھیے

کیا بتائیں زیست میں کیا کیا ہوا

کیا بتائیں زیست میں کیا کیا ہوا جو ہوا جیسا ہوا اچھا ہوا جب لگا سب مشکلیں حل ہو گئیں تب نیا اک مسئلہ پیدا ہوا ہم سے جب پوچھا گیا کوئی سوال کہہ دیا ایسا ہوا ویسا ہوا دل کسی صورت بہلتا ہی نہیں آج موسم ہے ذرا بدلا ہوا کیا کہا میں آپ کا ہوں ہم نوا آپ کو شاید کوئی دھوکا ہوا آئنے میں ...

مزید پڑھیے

گر درد میں بھی لطف و مزہ ڈھونڈ لیں گے لوگ

گر درد میں بھی لطف و مزہ ڈھونڈ لیں گے لوگ ممکن ہے زہر میں بھی شفا ڈھونڈ لیں گے لوگ سایہ جو دے رہا ہے انہیں پھل کے ساتھ ساتھ اک روز اس شجر میں خدا ڈھونڈ لیں گے لوگ گم ہونا چاہتا ہوں پر اس کشمکش میں ہوں مجھ کو نہ ڈھونڈ پائیں گے یا ڈھونڈ لیں گے لوگ کچھ بھی نہیں ملے گا سخن کے سوا ...

مزید پڑھیے

بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی

بے خیالی میں نہ جانے کیا سے کیا لکھتی رہی ایک پتھر کو محبت کا خدا لکھتی رہی بارہا مظلوم غنچوں کو تڑپتا دیکھ کر زرد پتوں پر لہو سے کربلا لکھتی رہی کارواں لٹنے پہ اب خود سے بہت بیزار ہوں جانے کیوں میں رہزنوں کو رہنما لکھتی رہی وہ سر بازار سودائے وفا کرتا رہا نام جس کا میں ہمیشہ ...

مزید پڑھیے

مانا مرے مکان کی حالت خراب ہے

مانا مرے مکان کی حالت خراب ہے پر دولت خلوص یہاں بے حساب ہے خوشبو بکھیرتا ہوں بکھرنے کے بعد بھی فطرت ذرا ذرا مری مثل گلاب ہے میری نظر میں کوئی نہیں خوار اور ذلیل ہر آدمی جہان میں عزت مآب ہے مجھ کو گریز اہل جہاں سے نہیں مگر ہیں چند لوگ جن سے مجھے اجتناب ہے رکھتا نہیں ہوں دل میں ...

مزید پڑھیے

یہ کیسے ظلم و ستم اور اذیتیں کیسی

یہ کیسے ظلم و ستم اور اذیتیں کیسی پڑی ہیں میرے ہی پیچھے مصیبتیں کیسی ہوں گھر میں چین سے بھوکے ہیں میرے ہمسائے کسی کے کام نہ آئے تو دولتیں کیسی ہماری سڑکوں پہ بہتی ہیں دودھ کی نہریں ہمیں پتہ ہے کہ ہوتی ہیں جنتیں کیسی جو بھوک سے ہیں پریشاں وہ کب سمجھتے ہیں کہ کیا ہے ذائقہ ہوتی ...

مزید پڑھیے

میں میل کا پتھر نہ ڈگر دیکھ رہا ہوں

میں میل کا پتھر نہ ڈگر دیکھ رہا ہوں پیروں پہ جمی گرد سفر دیکھ رہا ہوں تاریکی نظر آتی ہے کچھ لوگوں کو لیکن میں حمل میں اس شب کے سحر دیکھ رہا ہوں یہ امن کی دھرتی ہے مگر آج یہاں پر تکرار کا عالم ہے جدھر دیکھ رہا ہوں واقف نہیں ہمسائے کے احوال سے لیکن ٹی وی پہ زمانے کی خبر دیکھ رہا ...

مزید پڑھیے

انسان کے دلوں میں جب آئیں محبتیں

انسان کے دلوں میں جب آئیں محبتیں پھر دور نفرتوں کو بھگائیں محبتیں نفرت کے پیڑ دیں گے ہمیں نفرتوں کے پھل چاہت کے بیج بوئیں اگائیں محبتیں کرتی نہیں ہیں فرق وہ اولاد میں کبھی دیتی ہیں سب کو ایک سی مائیں محبتیں دیتا ہے اس کو نام ہوس کا سدا جہاں اوڑھیں نہ شرم کی جو قبائیں ...

مزید پڑھیے

شدت درد کو کچھ اور بڑھا سکتا ہے

شدت درد کو کچھ اور بڑھا سکتا ہے قید تنہائی کا غم آپ کو کھا سکتا ہے منتظر رہتا نہیں ہے وہ کسی لمحے کا غم کا بادل تو کسی وقت بھی چھا سکتا ہے یا وہ قطرہ ہے مرا دل جو رہے آنکھوں میں یا وہ دریا ہے جو کوزے میں سما سکتا ہے غم بھلانے کو اسے دے دوں دلاسہ لیکن یہ دلاسہ اسے غم یاد دلا سکتا ...

مزید پڑھیے

گل مری جانب اٹھا کر پھینکیے

گل مری جانب اٹھا کر پھینکیے بعد میں چاہیں تو نشتر پھینکیے آتش الفت نہ بجھنے پائے گی لاکھ اب اس پر سمندر پھینکیے یہ نہیں کہتی صفائی کی مہم گھر کے کچرے کو سڑک پر پھینکیے پاپ گنگا میں بہا دیجے گا اور نیکیاں دریا میں جا کر پھینکیے اس طرح سمجھوتہ ہو سکتا نہیں آپ پہلے اپنا خنجر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 823 سے 4657