ہم کو جہاں کی عشرت و راحت سے کیا غرض
ہم کو جہاں کی عشرت و راحت سے کیا غرض دنیائے بے ثبات کی دولت سے کیا غرض گمنام رہنا اپنے مقدر میں ہے لکھا ہم کو کسی کے گوہر شہرت سے کیا غرض ماضی کا تلخ جام ہے اپنے نصیب میں ہم کو شراب حال کی لذت سے کیا غرض الزام سے بچے نہ پیمبر بھی ہے خبر یاران جہل کی ہمیں تہمت سے کیا غرض دیکھے نہ ...