شاعری

اہل دنیا کے لیے یہ ماجرا ہے مختلف

اہل دنیا کے لیے یہ ماجرا ہے مختلف پتھروں کے شہر میں ایک آئنہ ہے مختلف میرے بچے کتنے حیراں ہیں کہ ان کے واسطے پیش رو کے نقش پا کا سلسلہ ہے مختلف ڈولتی ہے سانس کے طوفاں میں کشتی زیست کی بادبانی کے لیے اب کے ہوا ہے مختلف ساعتوں کی دھوپ نے جب بھی تسلی دی گھنی قد و قامت اپنے سائے کا ...

مزید پڑھیے

تصور سے تیرے جو آباد ہوگی

تصور سے تیرے جو آباد ہوگی تو پھر دل کی دنیا نہ برباد ہوگی چھلک جائیں گے خود ہی شبنم کے آنسو لبوں پہ جو بلبل کے فریاد ہوگی مرے بعد بھی چین پا نہ سکو گے تمہیں میری ہر اک ادا یاد ہوگی ذرا سوچ لے اے مٹا دینے والے مرے بعد پھر کس پہ بیداد ہوگی

مزید پڑھیے

اٹھا ہی لیتے ہیں دیوار و در سلیقے سے

اٹھا ہی لیتے ہیں دیوار و در سلیقے سے بنانے والے بناتے ہیں گھر سلیقے سے نظر میں رکھتے ہیں وہ زندگی شہادت کی کٹانے والے کٹاتے ہیں سر سلیقے سے سلیقہ مند ہے کتنی یہ گردش دوراں کہ آج اگتے ہیں شام و سحر سلیقے سے سنا ہے اشک ندامت کی ہے بڑی قیمت سجا لے پلکوں پہ تو یہ گہر سلیقے ...

مزید پڑھیے

چراغ درد جلاؤ کہ روشنی کم ہے

چراغ درد جلاؤ کہ روشنی کم ہے جنوں کی بزم سجاؤ کہ روشنی کم ہے نہ چھیڑو ذکر تعفن بھرے زمانے کا گلاب زخم کھلاؤ کہ روشنی کم ہے نہ جانے چھپ گئی منزل کہاں اندھیروں میں مرے قریب تر آؤ کہ روشنی کم ہے تمہارے شہر کی شاید ہے صبح شب پرور یہ کیا ہے ورنہ بتاؤ کہ روشنی کم ہے نہ بزم فکر ہے روشن ...

مزید پڑھیے

غافل نہ رہنا نبض کی رفتار دیکھنا

غافل نہ رہنا نبض کی رفتار دیکھنا سر پر لٹکتی وقت کی تلوار دیکھنا خالی ہیں دونوں ہاتھ ضرورت پہ ہے نظر دم توڑتے ہیں آج کے فن کار دیکھنا سب کھا رہے ہیں بیچ کے گہنے ضمیر کے ہیں لوگ کتنے آج کے نادار دیکھنا داڑھی بڑھی ہیں بال بڑھے کپڑے گیروے ہیں یہ جدید دور کے اوتار دیکھنا ہے سمت ...

مزید پڑھیے

پلٹ پلٹ کے میں اپنے پہ خود ہی وار کروں

پلٹ پلٹ کے میں اپنے پہ خود ہی وار کروں وہ میری زد میں کھڑا ہے میں کیا شکار کروں گھروں پہ خون چھڑکتی ہوا میں گزری ہیں عبادتوں کو گنوں یا گنہ شمار کروں دھوئیں کے پھول منڈیروں پہ روز کھلتے ہیں میں کیا رتوں کے تغیر پہ اعتبار کروں پرندے جب بھی بسیروں کو لوٹتے دیکھوں میں گھر میں ...

مزید پڑھیے

کس نے کہا منت کش مے خانہ ہوا ہوں

کس نے کہا منت کش مے خانہ ہوا ہوں اپنا ہی لہو پیتا ہوں دیوانہ ہوا ہوں ہر رات طلسمات کے قصوں کا ہوں کردار ہر روز الف لیلوی افسانہ ہوا ہوں اپنوں کے دلوں میں ہوں ہوں اوروں کی زباں پر دنیا کے لئے میں کہاں بیگانہ ہوا ہوں ٹھہرا ہوں گدا اک نگہہ وقت میں لیکن اپنے لئے تو عظمت شاہانہ ہوا ...

مزید پڑھیے

راہزن راہوں میں اپنے جال پھیلاتے رہے

راہزن راہوں میں اپنے جال پھیلاتے رہے ہم مگر اپنی ہی دھن میں جھومتے گاتے رہے دور جتنی دور تک تھیں رات کی تاریکیاں دور اتنی دور ہم راہوں کو چمکاتے رہے منحصر ہے اپنے اپنے عزم پر منزل رسی قافلے یوں تو بہت آتے رہے جاتے رہے ہر تسلی دشمن آرام جاں بنتی گئی آپ کے خط اور دل کے زخم گہراتے ...

مزید پڑھیے

درد و غم کا بیاں نہیں معلوم

درد و غم کا بیاں نہیں معلوم پیار کی داستاں نہیں معلوم راہ میں ہم اکیلے بیٹھے ہیں کب گیا کارواں نہیں معلوم حشر ساماں ہیں آج کے حالات ہوں گے کل ہم کہاں نہیں معلوم احتراماً ہیں لوگ جور پہ چپ کب کھلے گی زباں نہیں معلوم دل زمانے سے ہم لگا بیٹھے اس کا سود و زیاں نہیں معلوم ہے دھواں ...

مزید پڑھیے

عکس رنج و ملال ہیں ہم لوگ

عکس رنج و ملال ہیں ہم لوگ زندگی کا مآل ہیں ہم لوگ گاہ سادہ فسانہ ہیں ہمدم گاہ رنگیں خیال ہیں ہم لوگ ساز ماضی رباب فردا کبھی اور کبھی چنگ حال ہیں ہم لوگ جس کا اب تک جواب بن نہ پڑا ایک ایسا سوال ہیں ہم لوگ دکھ جھپٹتے ہیں ہم پہ یوں جیسے اک غنیمت کا مال ہیں ہم لوگ پیتے ہیں زہر اشک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 787 سے 4657