شاعری

رات ہے شہر بتاں ہے اور ہم

رات ہے شہر بتاں ہے اور ہم آرزوئے بے کراں ہے اور ہم کون گزرا ہے سر راہ خیال دور تک اک کہکشاں ہے اور ہم رات کی ڈھلتی جوانی کے رفیق صرف اک پیر مغاں ہے اور ہم بجھ چلے ہیں سارے یاروں کے چراغ اب چراغوں کا دھواں ہے اور ہم ہر زمانے میں ملی حق کو صلیب یہ قمیص خوں چکاں ہے اور ہم بے ستوں ...

مزید پڑھیے

کس کس کے آنسو پوچھو گے اور کس کس کو بہلاؤ گے

کس کس کے آنسو پوچھو گے اور کس کس کو بہلاؤ گے اک دن آئے گا تم بھی شامل ان میں ہو جاؤ گے رنگ ہوا میں تیر رہے ہیں تتلی کا بہروپ لیے سارے رنگ اتر جائیں گے تم گر ہاتھ لگاؤ گے عمر عزیز گنوائی اپنی سایوں کا پیچھا کرتے سائے کس کے ہاتھ آئے ہیں اور تم بھی کیا پاؤ گے چوتھے کھونٹ کو جا تو رہے ...

مزید پڑھیے

دیئے ہیں رنج سارے آگہی نے

دیئے ہیں رنج سارے آگہی نے اندھیرے میں رکھا ہے روشنی نے مری راہوں میں جتنے پیچ و خم ہیں یہ سب بخشے ہیں تیری سادگی نے جہاں ہر آشنا ہے سنگ در دست کوئی پتھر نہ مارا اجنبی نے حساب دوستاں در دل بھی کیوں ہو کسی کو کیا دیا آخر کسی نے اندھیروں میں پناہیں ڈھونڈھتا ہوں دیئے ہیں زخم اتنے ...

مزید پڑھیے

غیر کی آگ میں کوئی بھی نہ جلنا چاہے

غیر کی آگ میں کوئی بھی نہ جلنا چاہے ایک پروانہ جو یہ ریت بدلنا چاہے دل کہ ہر گہرے سمندر میں اترنا چاہے تیز رو عمر کہ دم بھر نہ ٹھہرنا چاہے قسمت ایسی کہ جو اپنے تھے ہوئے بیگانے اور دل وہ جو کسی سے نہ بچھڑنا چاہے ذرہ ذرہ جسے اک عمر سمیٹا ہے وہ ذات صرف اک ٹھیس پہنچنے پہ بکھرنا ...

مزید پڑھیے

لذت سنگ نہ پوچھو لوگو عمر اگر ہاتھ آئے پھر

لذت سنگ نہ پوچھو لوگو عمر اگر ہاتھ آئے پھر مجنوں بن کر صحرا صحرا کوئی اسے گنوائے پھر ہم نے تو اس ایک آس پر سارے دیپ جلائے پھر رات کبھی ساتھ آئے کسی کے شاید اور نہ جائے پھر یوں بھی اپنا عہد جوانی خواب تھا دل کش چہروں کا اور غبار وقت نے تو وہ چہرے بھی دھندلائے پھر سب کے اپنے اپنے ...

مزید پڑھیے

مہتاب ہے نہ عکس رخ یار اب کوئی

مہتاب ہے نہ عکس رخ یار اب کوئی کاٹے تو کس طرح یہ شب تار اب کوئی ممکن ہے دست و بازوئے قاتل تو تھک بھی جائے شاید تھمے نہ دیدۂ خونبار اب کوئی اہل جفا سے کہنا تراشیں صلیب و دار شایان سر‌و قامت دل دار اب کوئی ہر عہد میں اگرچہ رہا جرم حرف حق شاید نہ آئے ہم سا گنہ گار اب کوئی ہاں اے ...

مزید پڑھیے

نہ خدا ہے نہ ناخدا ہے کوئی

نہ خدا ہے نہ ناخدا ہے کوئی زندگی گویا سانحہ ہے کوئی نہ تو بے قفل ہے دریچۂ ذہن نہ در دل کھلا ہوا ہے کوئی نہ مزا گمرہی میں ملتا ہے نہ سنبھلنے کا راستہ ہے کوئی میں کہ تنہا تھا اب بھی تنہا ہوں پھر بھی مجھ سے بچھڑ گیا ہے کوئی ذات مت دیکھ کرب ذات کو دیکھ کیسے اندر سے ٹوٹتا ہے ...

مزید پڑھیے

پھر اسی شوخ کی تصویر اتر آئی ہے

پھر اسی شوخ کی تصویر اتر آئی ہے مرے اشعار میں مضمر مری رسوائی ہے دیکھنے دیتا نہیں دور تلک دل کا غبار جس سے ملئے وہ خود اپنا ہی تماشائی ہے شہر میں نکلو تو ہنگامہ کہ ہر ذات ہو گم ذات میں اترو تو اک عالم تنہائی ہے زخم ہر سنگ ہے اس دست حنا کا ہم رنگ خوب اس شوخ کا انداز پذیرائی ہے دل ...

مزید پڑھیے

خوف سے اب یوں نہ اپنے گھر کا دروازہ لگا

خوف سے اب یوں نہ اپنے گھر کا دروازہ لگا تیز ہیں کتنی ہوائیں اس کا اندازہ لگا خشک تھا موسم مگر برسی گھٹا جب یاد کی دل کا مرجھایا ہوا غنچہ تر و تازہ لگا روشنی سی کر گئی قربت کسی کے جسم کی روح میں کھلتا ہوا مشرق کا دروازہ لگا یہ اندھیری رات بے نام و نشاں کر جائے گی اپنے چہرے پر ...

مزید پڑھیے

دل کی دھڑکن ماتمی دھن سانس کو زنجیر کہنا

دل کی دھڑکن ماتمی دھن سانس کو زنجیر کہنا کوئی گر پوچھے تو اپنے عہد کی تفسیر کہنا ہر قدم پر بندشوں پابندیوں کا ذکر کرنا اور اس کو حاکمان وقت کی تحریر کہنا کب تلک معصوم چہروں کو ستم پیشہ لکھو گے آنکھ کو خنجر بتانا زلف کو زنجیر کہنا وہ گھنے اشجار وہ سائے تو رخصت ہو چکے لب دھول کو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 766 سے 4657