شاعری

لطف سے تیرے سوا درد مہک جاتا ہے

لطف سے تیرے سوا درد مہک جاتا ہے یہ وہ شعلہ ہے بجھاؤ تو بھڑک جاتا ہے اک زمانے کو رکھا تیرے تعلق سے عزیز سلسلہ دل کا بہت دور تلک جاتا ہے تم مرے ساتھ چلے ہو تو مرے ساتھ رہو کہ مسافر سر منزل بھی بھٹک جاتا ہے ہم تو وہ ہیں ترے وعدہ پہ بھی جی سکتے ہیں غنچہ پیغام صبا سے بھی چٹک جاتا ...

مزید پڑھیے

ہر مرگ آرزو کا نشاں دیر تک رہا

ہر مرگ آرزو کا نشاں دیر تک رہا جب شمع گل ہوئی تو دھواں دیر تک رہا وہ وقت ہائے سوئے حرم جب چلے تھے ہم دامان کش خیال بتاں دیر تک رہا کلیاں اداس پھول فسردہ صبا خموش اب کے چمن پہ رنگ خزاں دیر تک رہا مدت گزر چکی پہ خوشا لذت وصال ہر ماہ وش پہ اس کا گماں دیر تک رہا دار و رسن کا ذکر چھڑا ...

مزید پڑھیے

مبتلا روح کے عذاب میں ہوں (ردیف .. ی)

مبتلا روح کے عذاب میں ہوں کب سے دل کو کھرچ رہا ہے کوئی جانے کس صبح کی تمنا میں رات بھر شمع ساں جلا ہے کوئی فرصت زندگی بہت کم ہے اور بہت دیر آشنا ہے کوئی تم بھی سچے ہو میں بھی سچا ہوں کب یہاں جھوٹ بولتا ہے کوئی

مزید پڑھیے

مرے قریب سے گزرا اک اجنبی کی طرح

مرے قریب سے گزرا اک اجنبی کی طرح وہ کج ادا جو ملا بھی تو زندگی کی طرح ملا نہ تھا تو گماں اس پہ تھا فرشتوں کا جو اب ملا ہے تو لگتا ہے آدمی کی طرح کرن کرن اتر آئی ہے روزن دل سے کسی حسیں کی تمنا بھی روشنی کی طرح مری نگاہ سے دیکھو تو ہم زباں ہو جاؤ کہ دشمنی بھی کسی کی ہے دوستی کی ...

مزید پڑھیے

اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کر دے

اے خدا ریت کے صحرا کو سمندر کر دے یا چھلکتی ہوئی آنکھوں کو بھی پتھر کر دے تجھ کو دیکھا نہیں محسوس کیا ہے میں نے آ کسی دن مرے احساس کو پیکر کر دے قید ہونے سے رہیں نیند کی چنچل پریاں چاہے جتنا بھی غلافوں کو معطر کر دے دل لبھاتے ہوئے خوابوں سے کہیں بہتر ہے ایک آنسو کہ جو آنکھوں کو ...

مزید پڑھیے

وار ہوا کچھ اتنا گہرا پانی کا

وار ہوا کچھ اتنا گہرا پانی کا نکلا چٹانوں سے رستہ پانی کا دیکھا خون تو آنکھوں سے آنسو نکلے جوڑ گیا دونوں کو رشتہ پانی کا تیروں کی بوچھاڑ بھی سہنا ہے مجھ کو میرے ہاتھ میں ہے مشکیزہ پانی کا اڑتی ریت پہ لکھنا ہے تفسیر اسے جس نے سمجھ لیا ہے لہجہ پانی کا پگھلا سونا آنکھوں میں بھر ...

مزید پڑھیے

اجلے موتی ہم نے مانگے تھے کسی سے تھال بھر

اجلے موتی ہم نے مانگے تھے کسی سے تھال بھر اور اس نے دے دئیے آنسو ہمیں رومال بھر جس قدر پودے کھڑے تھے رہ گئے ہیں ڈال بھر دھوپ نے پھر بھی رویے کو نہ بدلا بال بھر یوں لگا آکاش جیسے مٹھیوں میں بھر لیا میرے قبضے میں پرندے آ گئے جب جال بھر اس کی آنکھوں کا بیاں اس کے سوا کیا ...

مزید پڑھیے

سمندروں میں اگر خلفشار آب نہ ہو

سمندروں میں اگر خلفشار آب نہ ہو سروں پہ سایہ فگن یہ غبار آب نہ ہو وہ آسمان سمجھتا ہے اپنی آنکھوں کو اسے بھی میری طرح انتظار آب نہ ہو ہر ایک لب پہ ہیں نغمات خشک سالی کے اب اس طرف کرم بے شمار آب نہ ہو کہیں فریب نہ نکلے پکار دریا کی ہم آب سمجھے ہیں جس کو غبار آب نہ ہو پھر اہتمام سے ...

مزید پڑھیے

اک سبز رنگ باغ دکھایا گیا مجھے

اک سبز رنگ باغ دکھایا گیا مجھے پھر خشک راستوں پہ چلایا گیا مجھے طے ہو چکے تھے آخری سانسوں کے مرحلے جب مژدۂ حیات سنایا گیا مجھے پہلے تو چھین لی مری آنکھوں کی روشنی پھر آئنے کے سامنے لایا گیا مجھے رکھے تھے اس نے سارے سوئچ اپنے ہاتھ میں بے وقت ہی جلایا بجھایا گیا مجھے چاروں طرف ...

مزید پڑھیے

ہر ارادہ مضمحل ہر فیصلہ کمزور تھا

ہر ارادہ مضمحل ہر فیصلہ کمزور تھا دور رہ کر تم سے اپنا حال ہی کچھ اور تھا اپنے ہی اندر کہیں سمٹا ہوا بیٹھا تھا میں گھر کے باہر جب گرجتے بادلوں کا شور تھا اک اشارے پر کسی کے جس نے کاٹے تھے پہاڑ سوچتا ہوں بازوؤں میں اس کے کتنا زور تھا؟ کر لیا ہے اس نے کیوں تاریک شب کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 767 سے 4657