شاعری

یہ دن یہ رات یہ شام و سحر سمیٹ لئے

یہ دن یہ رات یہ شام و سحر سمیٹ لئے غزل کے شوق نے کتنے پہر سمیٹ لئے فضا میں ایسا تعصب کا زہر پھیل گیا نہ جانے کتنے پرندوں نے پر سمیٹ لئے سماج تیری مرمت نہ ہو سکے گی کہیں جو ہم غریبوں نے دست و ہنر سمیٹ لئے یہ سوچ کر کہ اندھیرے نہ زندگی بن جائیں جہاں جہاں ملے شمس و قمر سمیٹ ...

مزید پڑھیے

کہیں کا غصہ کہیں کی گھٹن اتارتے ہیں

کہیں کا غصہ کہیں کی گھٹن اتارتے ہیں غرور یہ ہے کاغذ پہ فن اتارتے ہیں سنی ہے ٹوٹتے پتوں کی ہم نے سرگوشی یہ پیڑ پودے بھی کیا پیرہن اتارتے ہیں سیاسی لوگوں سے امید کیسی خاک وطن وطن کا قرض کہیں راہزن اتارتے ہیں زمیں پہ رکھ دیں اگر آپ اپنی شمشیریں تو ہم بھی اپنے سروں سے کفن اتارتے ...

مزید پڑھیے

کتاب دل کے ورق جو الٹ کے دیکھتا ہے

کتاب دل کے ورق جو الٹ کے دیکھتا ہے وہ کائنات کو اوروں کو ہٹ کے دیکھتا ہے اگر نہیں ہے بچھڑنے کا رنج کچھ بھی اسے وہ بار بار مجھے کیوں پلٹ کے دیکھتا ہے ندی بڑھی ہو کہ سوکھی ہر ایک صورت میں کنارہ اپنے ہی پانی سے ہٹ کے دیکھتا ہے کسی کو تیرگی پاگل نہ کر سکے جب تک کہاں چراغ کی لو سے پلٹ ...

مزید پڑھیے

گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا آج دھوئیں کے بادل پر میں بارش کو چٹھی لکھوں گا اس زنداں کے کچھ قیدی ہی میری بات سمجھ پائیں گے جب پتھر کی دیواروں پر مٹی سے مٹی لکھوں گا مجھ جیسے کچھ دیوانے ہی زندہ دل ہوتے ہیں صاحب میں اتنا کمزور نہیں جو پنکھا اور رسی لکھوں گا کب تک ...

مزید پڑھیے

قفس میں پھیلائے گا یہ پر تو خلا میں دست طلب بنے گا

قفس میں پھیلائے گا یہ پر تو خلا میں دست طلب بنے گا اور ایک دن پھر یہی پرندہ رہائیوں کا سبب بنے گا سیاہ کاغذ پہ روشنی کے کچھ استعارے تلاش کرنا پھر اس اجالے میں دیکھ لینا ہمارا نام و نسب بنے گا جو خط لفافے میں تھا اچانک ہی اس کے ہاتھوں میں آ گیا ہے تمام لفظوں کے آئینے میں ہمارا ...

مزید پڑھیے

حق بیانی کے چراغوں کو جلا کر آ گیا

حق بیانی کے چراغوں کو جلا کر آ گیا اس کے دل کو روشنی کا گھر بنا کر آ گیا ایک دیوانہ جسے پیاسا سمجھتے تھے سبھی وہ جھلستی ریت پہ دریا بہا کر آ گیا تھا سکوں درکار مجھ کو خامشی کے شہر میں اس لئے آواز مٹی میں دبا کر آ گیا شرط تھی غرقاب ہونا ہاں مگر تیری رضا پھر سمندر پر کوئی رستہ بنا ...

مزید پڑھیے

اپنے جیسے دیوانوں کی تھوڑی تو امداد کروں

اپنے جیسے دیوانوں کی تھوڑی تو امداد کروں سوچ رہا ہوں ہشیاری سے پاگل پن ایجاد کروں ضرب لگا کر ایسا چیخوں سناٹے بھی ڈر جائیں لیکن پہلے آوازیں تو پنجرے سے آزاد کروں پتھر کھانے سے اچھا ہے پتھر کو ہی توڑا جائے عشق اجازت دے تو خود کو مجنوں سے فرہاد کروں تو بادل میں پانی بھر کے رکھ ...

مزید پڑھیے

جو تم پہ یوں ہی لٹائی میں نے اب اس کی قیمت تو چاہیے نا

جو تم پہ یوں ہی لٹائی میں نے اب اس کی قیمت تو چاہیے نا تمہاری نظروں میں ہے محبت اگر تجارت تو چاہیے نا جو مجھ سے ملنے کی خواہشیں ہوں تو ایک لمحہ طویل کر لو مسافتوں کو سمیٹنا ہے ذرا سی مدت تو چاہیے نا تمہارے لہجے میں طنز ہے پر سنو کچھ اس میں مزہ نہیں ہے تم اس کو تھوڑا سا تلخ کر لو ...

مزید پڑھیے

تیری پرچھائی کو اب دھوپ دکھانی ہے مجھے

تیری پرچھائی کو اب دھوپ دکھانی ہے مجھے اس لیے خواب کی دیوار گرانی ہے مجھے حسرتوں کا ابھی لوبان سلگ جائے ذرا پھر دھوئیں پر تیری تصویر بنانی ہے مجھے دھیمے لہجے میں بہت چیخ لیا ہے میں نے اب تو آواز کی رفتار بڑھانی ہے مجھے جو مقدر میں لکھا ہے وہ میسر ہے مگر آخری بار وہ زنجیر ہلانی ...

مزید پڑھیے

پایا نہیں وہ جو کھو رہا ہوں

پایا نہیں وہ جو کھو رہا ہوں تقدیر کو اپنی رو رہا ہوں اس سوچ میں زندگی بتا دی جاگا ہوا ہوں کہ سو رہا ہوں پھر کس سے اٹھے گا بوجھ میرا اس فکر میں خود کو ڈھو رہا ہوں کانٹوں کو پلا کے خون اپنا راہوں میں گلاب بو رہا ہوں جھرنا ہو ندی ہو یا سمندر کوزے میں سب سمو رہا ہوں ہر رنگ گنوا چکا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 754 سے 4657