یہ دن یہ رات یہ شام و سحر سمیٹ لئے
یہ دن یہ رات یہ شام و سحر سمیٹ لئے غزل کے شوق نے کتنے پہر سمیٹ لئے فضا میں ایسا تعصب کا زہر پھیل گیا نہ جانے کتنے پرندوں نے پر سمیٹ لئے سماج تیری مرمت نہ ہو سکے گی کہیں جو ہم غریبوں نے دست و ہنر سمیٹ لئے یہ سوچ کر کہ اندھیرے نہ زندگی بن جائیں جہاں جہاں ملے شمس و قمر سمیٹ ...