شاعری

غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی

غم کا خزانہ تیرا بھی ہے میرا بھی یہ نذرانہ تیرا بھی ہے میرا بھی اپنے غم کو گیت بنا کر گا لینا راگ پرانا تیرا بھی ہے میرا بھی کون ہے اپنا کون پرایا کیا سوچیں چھوڑ زمانہ تیرا بھی ہے میرا بھی شہر میں گلیوں گلیوں جس کا چرچا ہے وہ افسانہ تیرا بھی ہے میرا بھی تو مجھ کو اور میں تجھ کو ...

مزید پڑھیے

ہر آئنہ میں بدن اپنا بے لباس ہوا

ہر آئنہ میں بدن اپنا بے لباس ہوا میں اپنے زخم دکھا کر بہت اداس ہوا جو رنگ بھر دو اسی رنگ میں نظر آئے یہ زندگی نہ ہوئی کانچ کا گلاس ہوا میں کوہسار پہ بہتا ہوا وہ جھرنا ہوں جو آج تک نہ کسی کے لبوں کی پیاس ہوا قریب ہم ہی نہ جب ہو سکے تو کیا حاصل مکان دونوں کا ہر چند پاس پاس ہوا کچھ ...

مزید پڑھیے

تم سے ملتے ہی بچھڑنے کے وسیلے ہو گئے

تم سے ملتے ہی بچھڑنے کے وسیلے ہو گئے دل ملے تو جان کے دشمن قبیلے ہو گئے آج ہم بچھڑے ہیں تو کتنے رنگیلے ہو گئے میری آنکھیں سرخ تیرے ہاتھ پیلے ہو گئے اب تری یادوں کے نشتر بھی ہوئے جاتے ہیں کند ہم کو کتنے روز اپنے زخم چھیلے ہو گئے کب کی پتھر ہو چکی تھیں منتظر آنکھیں مگر چھو کے جب ...

مزید پڑھیے

کیا فرض ہے یہ جسم کے زنداں میں سزا دے

کیا فرض ہے یہ جسم کے زنداں میں سزا دے میں خاک اگر ہوں تو ہواؤں میں اڑا دے اک عمر سے محسوس کیے جاتا ہوں خود کو کوئی مجھے چھوکر مرے ہونے کا پتا دے میں جنبش انگشت میں محفوظ رہوں گا ہر چند مجھے ریت پہ تو لکھ کے مٹا دے اجڑا ہوا یہ پیڑ بھی دے جائے گا منظر سوکھی ہوئی شاخوں میں کوئی چاند ...

مزید پڑھیے

فقط اک لفظ ہوں تنہا اگر تفصیل ہو جاؤں سنور جاؤں

فقط اک لفظ ہوں تنہا اگر تفصیل ہو جاؤں سنور جاؤں ابھی تو خاک ہوں میں خاک میں تحلیل ہو جاؤں سنور جاؤں ابھی تک شخصیت ایک نا مکمل خواب جیسی ہے ادھوری ہے کسی دن معجزہ ہو آپ ہی تکمیل ہو جاؤں سنور جاؤں مجھے شب کے اندھیروں میں ابھی کتنا جھلسنا ہے سمجھنا ہے مگر جلتے ہوئے یوں ہی کبھی ...

مزید پڑھیے

نیند سے آنکھ کھلی ہے ابھی دیکھا کیا ہے

نیند سے آنکھ کھلی ہے ابھی دیکھا کیا ہے دیکھ لینا ابھی کچھ دیر میں دنیا کیا ہے باندھ رکھا ہے کسی سوچ نے گھر سے ہم کو ورنہ اپنا در و دیوار سے رشتہ کیا ہے ریت کی اینٹ کی پتھر کی ہو یا مٹی کی کسی دیوار کے سائے کا بھروسا کیا ہے گھیر کر مجھ کو بھی لٹکا دیا مصلوب کے ساتھ میں نے لوگوں سے ...

مزید پڑھیے

کچھ دیر کالی رات کے پہلو میں لیٹ کے

کچھ دیر کالی رات کے پہلو میں لیٹ کے لایا ہوں اپنے ہاتھوں میں جگنو سمیٹ کے دو چار داؤں کھیل کے وہ سرد پڑ گیا اب کیا کرو گے تاش کے پتوں کو پھیٹ کے اس سانولے سے جسم کو دیکھا ہی تھا کہ بس گھلنے لگے زباں پہ مزے چاکلیٹ کے جیسے کوئی لباس نہ ہو اس کے جسم پر یوں راستہ چلے ہے بدن کو سمیٹ ...

مزید پڑھیے

ٹھکراؤ اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں

ٹھکراؤ اب کہ پیار کرو میں نشے میں ہوں جو چاہو میرے یار کرو میں نشے میں ہوں اب بھی دلا رہا ہوں یقین وفا مگر میرا نہ اعتبار کرو میں نشے میں ہوں اب تم کو اختیار ہے اے اہل کارواں جو راہ اختیار کرو میں نشے میں ہوں گرنے دو تم مجھے مرا ساغر سنبھال لو اتنا تو میرے یار کرو میں نشے میں ...

مزید پڑھیے

ریت کی لہروں سے دریا کی روانی مانگے

ریت کی لہروں سے دریا کی روانی مانگے میں وہ پیاسا ہوں جو صحراؤں سے پانی مانگے تو وہ خود سر کہ الجھ جاتا ہے آئینوں سے میں وہ سرکش کہ جو تجھ سے ترا ثانی مانگے وہ بھی دھرتی پہ اتاری ہوئی مخلوق ہی ہے جس کا کاٹا ہوا انسان نہ پانی مانگے ابر تو ابر شجر بھی ہیں ہوا کی زد میں کس سے دم بھر ...

مزید پڑھیے

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے

اندر کا سکوت کہہ رہا ہے مٹی کا مکان بہہ رہا ہے شبنم کے عمل سے گل تھا لرزاں سورج کا عتاب سہہ رہا ہے بستر میں کھلا کہ تھا اکہرا وہ جسم جو تہہ بہ تہہ رہا ہے پتھر کو نچوڑنے سے حاصل ہر چند ندی میں رہ رہا ہے آئینہ پگھل چکا ہے شاہدؔ ساکت ہوں میں عکس بہہ رہا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 755 سے 4657