شاعری

جو دل میں رواں ہے روایت نہیں ہے

جو دل میں رواں ہے روایت نہیں ہے یہ سچ ہے محبت سہولت نہیں ہے تمہیں بھول جانے کی کوشش بہت ہے اگرچہ بھلانے کی طاقت نہیں ہے مجھے اس نے چھوڑا مرا دل بھی توڑا مجھے اس پہ کوئی بھی حیرت نہیں ہے نہ پندار میرا یوں کرتے فنا تم کہ اب غم اٹھانے کی ہمت نہیں ہے ضرورت ٹھکانے لگا دی ہے ...

مزید پڑھیے

جو بھی ملتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہوں میں

جو بھی ملتا ہے اسی کو پوجنے لگتا ہوں میں کیا کروں مجبوریوں ہیں گاؤں سے آیا ہوں میں کل بھی احساسات کے شعلوں پہ تھا میرا وجود آج بھی ہر لمحہ سونے کی طرح لگتا ہوں میں مجھ سے ہی قائم ہے اب تک تیرا تہذیبی وقار توڑ مت مجھ کو کہ گھر کا صدر دروازہ ہوں میں میں ترے ساحل پہ آیا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

کیسے توڑی گئی یہ حد ادب پوچھتے ہیں

کیسے توڑی گئی یہ حد ادب پوچھتے ہیں پھول شاخوں سے لچکنے کا سبب پوچھتے ہیں شاخ جس شاخ سے ٹکرائی ہے جھوم اٹھی ہے پیڑ آپس میں کہاں نام و نسب پوچھتے ہیں کوئی اندازہ کرے چاند کی بے چینی کا جب ستارے کبھی سورج کا لقب پوچھتے ہیں آنکھ جیسے ہی جھپکتی ہے ہمیشہ کچھ خواب کتنے دن بعد میسر ...

مزید پڑھیے

چھاؤں اوروں کے لئے ہے تو ثمر اوروں کے

چھاؤں اوروں کے لئے ہے تو ثمر اوروں کے کام آتے ہیں ہمیشہ ہی شجر اوروں کے وہ ہے آئینہ اسے فکر ہو کیوں کر اپنی وہ بتاتا ہے فقط عیب و ہنر اوروں کے جنگ میدان سے کمروں میں سمٹ آئی ہے گھر نہ جانا کبھی بے خوف و خطر اوروں کے عہد نو تیری سیاست کا کرم ہے کہ یہاں جسم اپنے ہیں مگر جسموں پہ سر ...

مزید پڑھیے

روز دہرائیں گے جب شام و سحر کی تاریخ

روز دہرائیں گے جب شام و سحر کی تاریخ کیسے بدلے گی بھلا آپ کے گھر کی تاریخ ان فضاؤں میں کوئی بڑھ کے دکھائے تو کمال خود بہ خود ہوگی رقم بازوئے پر کی تاریخ اپنے بچوں کو نہ دیں پائے کبھی کوئی خوشی صرف ہم لکھتے رہے اپنے ہنر کی تاریخ لوٹنے والے کبھی لوٹ نہ پائیں گے مجھے میں بتا دوں گا ...

مزید پڑھیے

گھر ہو یا باہر وہی کڑوی کسیلی گفتگو

گھر ہو یا باہر وہی کڑوی کسیلی گفتگو کب تلک سنتے رہیں ہم ایک جیسی گفتگو چند لمحوں میں بھٹک جائے جو موضوعات سے بے سبب وہ کیوں کیا کرتا ہے علمی گفتگو اس کے لہجے میں تو ہلکی سی ندامت بھی نہیں اک طرف ہم بھول جائیں پچھلی ساری گفتگو پل میں رتی پل میں ماشا پل میں رائی کا پہاڑ پک چکے ہیں ...

مزید پڑھیے

نئے خیالوں سے رابطہ کر نئی زمینوں پہ شاعری کر

نئے خیالوں سے رابطہ کر نئی زمینوں پہ شاعری کر جو عشق کرتی ہیں شاعری سے اب ان حسینوں پہ شاعری کر سیاہ راتیں اداس جگنو اور اس پہ سورج کی بے نیازی اب ایک مصرع تراش ایسے تو آج تینوں پہ شاعری کر سمندروں کے وہ شاہزادے تمام لہروں سے آشنا تھے جنہوں نے دریا کے پاؤں باندھے تھے ان سفینوں ...

مزید پڑھیے

اداس دھوپ سے رشتہ بحال کرنے میں

اداس دھوپ سے رشتہ بحال کرنے میں درخت سوکھ گئے یہ کمال کرنے میں ہر ایک بار غموں کا مزاج بدلا تھا خوشی سے آنکھ ملا کر ملال کرنے میں ہمارا دل بھی رہا ذمے دار مان لیا تمہیں کیوں وقت لگا استعمال کرنے میں بدن کی آنچ سروں پر اٹھانی پڑتی ہے کسی چراغ سے خود کو مشعل کرنے میں ادھوری ...

مزید پڑھیے

چاہتا ہوں کہ ترا ہجر مصیبت نہ لگے

چاہتا ہوں کہ ترا ہجر مصیبت نہ لگے اب کوئی زخم ترے غم کی بدولت نہ لگے اس کی یادوں کا سفر ختم کروں روئے بغیر غیر ممکن ہے کہ اس کام میں حکمت نہ لگے ظرف ٹوٹے ہوئے کشکول سے گر سکتا ہے ایسی امداد سے بچنا جو سخاوت نہ لگے شہر در شہر مجھے خاک اڑانی ہے مگر اس پہ یہ شرط مسافت بھی مسافت نہ ...

مزید پڑھیے

پہاڑ ہونے کا سارا غرور کانپ اٹھا

پہاڑ ہونے کا سارا غرور کانپ اٹھا بس اک ذرا سی تجلی سے طور کانپ اٹھا ہوا نے جیسے ہی تیور دکھائے ہیں اپنے نکل رہا تھا دیئے سے جو نور کانپ اٹھا پڑھی جو جبر و تشدد کی داستان کہیں کبھی شعور کبھی لا شعور کانپ اٹھا لبوں پہ آ نہ سکی اپنے دل کی ایک بھی بات کہ جب بھی پہنچا میں اس کے حضور ...

مزید پڑھیے
صفحہ 753 سے 4657