شاعری

یوں مجھے تیری صدا اپنی طرف کھینچتی ہے

یوں مجھے تیری صدا اپنی طرف کھینچتی ہے جیسے خوشبو کو ہوا اپنی طرف کھینچتی ہے یہ مجھے نیند میں چلنے کی جو بیماری ہے مجھ کو اک خواب سرا اپنی طرف کھینچتی ہے مجھے دریا سے نہیں ہے کوئی لینا دینا کیوں مجھے موج بلا اپنی طرف کھینچتی ہے کھینچتی ہے مجھے رہ رہ کے محبت اس کی جیسے فانی کو ...

مزید پڑھیے

عجیب خوف ہے جذبوں کی بے لباسی کا

عجیب خوف ہے جذبوں کی بے لباسی کا جواز پیش کروں کیا میں اس اداسی کا یہ دکھ ضروری ہے رشتے خلا پذیر ہوئے ادا ہوا ہے مگر قرض خود شناسی کا نہ خواب اور نہ خوف شکست خواب رہا سبب یہی ہے نگاہوں کی بے ہراسی کا کوئی ہے اپنے سوا بھی مسافت شب میں سحر جو ہو تو کھلے راز خوش قیاسی کا وہ سیل اشک ...

مزید پڑھیے

ہوا سرکش اندھیرا سخت جاں ہے

ہوا سرکش اندھیرا سخت جاں ہے چراغوں کو مگر کیا کیا گماں ہے یقیں تو جوڑ دیتا ہے دلوں کو کوئی شے اور اپنے درمیاں ہے ابھی سے کیوں لہو رونے لگی آنکھ پس منظر بھی کوئی امتحاں ہے وہی بے فیض راتوں کا تسلسل وہی میں اور وہی خواب گراں ہے مرے اندر ہے ان پیاسا کنارہ مرے اطراف اک دریا رواں ...

مزید پڑھیے

زندگی میں یوں تو ہر اک حادثہ ناگاہ تھا

زندگی میں یوں تو ہر اک حادثہ ناگاہ تھا جسم کے پرچھائیں بننے کا عمل جانکاہ تھا اب تو سارے دشت و دریا ان نگاہوں میں رہیں دن گئے ذوق سفر میں جب کوئی گمراہ تھا خالی پن اپنی جگہ کچھ تلخیاں رکھتا تو ہے کھوکھلے پن سے رفاقت کے بھی دل آگاہ تھا تیور دریا کا شکوہ ہے نہ طوفاں کا گلا میری ...

مزید پڑھیے

پھولوں سے سج گئی کہیں سبزہ پہن لیا

پھولوں سے سج گئی کہیں سبزہ پہن لیا بارش ہوئی تو دھرتی نے کیا کیا پہن لیا جب سے پڑھی چٹائی نشینوں کی زندگی موٹا مہین جو بھی ملا کھا پہن لیا اک جسم ہے جو روز بدلتا ہے کچھ لباس اک روح ہے کہ اس نے جو پہنا پہن لیا ایسا لگا کہ خود بھی بڑا ہو گیا ہوں میں جب بھی بڑوں کا میں نے اتارا پہن ...

مزید پڑھیے

زندگی میری ہوئی ہے پھر نڈھال

زندگی میری ہوئی ہے پھر نڈھال یہ امید بے ثباتی کا کمال جب چلی اے زیست مستقبل کی بات بن گیا ہوں آپ خود اپنا سوال شعر کہہ کر پاس رکھ لیتا ہوں میں فن کی دنیا میں نہ ہو پھر قیل و قال پوچھنا کیا شہر سنگ و خشت سے رنگ بدلا ہے زمانے کی مثال میں کہ ہر شعر میں شاہدؔ نہیں صرف پیش لفظ ہے میرا ...

مزید پڑھیے

جو دل میں جاگی وہی طلب ہے

جو دل میں جاگی وہی طلب ہے خوشی ہماری بڑی طلب ہے کہاں ہوا ہے سکوں میسر ابھی بھی ہم کو تری طلب ہے کمال دکھ ہے نئی محبت نئے دنوں کی نئی طلب ہے وہ مجھ سے اکتا گیا ہے کب کا اسے کہاں اب مری طلب ہے یہ دل جسے سب اجاڑتے ہیں خدا کی بھیجی ہوئی طلب ہے ہمارے ہونٹوں کو جان کشورؔ دعا میں ڈوبی ...

مزید پڑھیے

مجھے محبت سے دیکھتی ہیں تمہاری آنکھیں

مجھے محبت سے دیکھتی ہیں تمہاری آنکھیں بڑے قرینے سے چومتی ہیں تمہاری آنکھیں میں آسماں کا طواف کرنے لگوں تو پہلے کلام کر کے سنبھالتی ہیں تمہاری آنکھیں دلوں میں جھانکیں تو ایک پل میں بڑے سکوں سے دلوں سے نفرت نکالتی ہیں تمہاری آنکھیں چمکتی جاتی ہیں تیرگی میں خموش رہ کر کمال ...

مزید پڑھیے

اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے

اپنے ہاتھوں سے نشیمن کو جلایا ہم نے عشق کی راکھ کو سینے سے لگایا ہم نے درد کی آگ کو شعلوں سے شناسا کر کے لذت ہجر کی حدت کو چھپایا ہم نے روح کی پیاس بجھانے کا ارادہ باندھا وادیٔ عشق میں اک پھول کھلایا ہم نے ایک بے پردہ محبت کو سمجھ کر سچ ہے جبر کو صبر کا ہم راز بنایا ہم نے راہ کی ...

مزید پڑھیے

تری نظر سے چھپا کے رکھوں

تری نظر سے چھپا کے رکھوں میں کیسے خود کو بچا کے رکھوں زمانے تجھ کو گلہ ہے مجھ سے میں کیسے دنیا بسا کے رکھوں مری نظر آسمان پر ہے زمیں پہ کیسے جھکا کے رکھوں رقیب رکھتے ہیں لاکھ شکوے حبیب کیسے منا کے رکھوں درخت مجھ پر ہیں جان دیتے میں پھول کیسے سجا کے رکھوں فلک سے اترے ہیں چاند ...

مزید پڑھیے
صفحہ 752 سے 4657