شاعری

یہ جو اظہار کرنا ہوتا ہے

یہ جو اظہار کرنا ہوتا ہے کار بے کار کرنا ہوتا ہے قبر وہ ناؤ ہے کہ جس میں ہمیں آسماں پار کرنا ہوتا ہے خال و خد سے گریز کرنا بھی لمس بیدار کرنا ہوتا ہے عشق وہ کار یک بیک ہے جسے مرحلہ وار کرنا ہوتا ہے اپنے اندر خلا پری کے لیے خود کو مسمار کرنا ہوتا ہے ہم پس دار سیکھ آتے ہیں جو سر ...

مزید پڑھیے

زر سرشک فضا میں اچھالتا ہوا میں

زر سرشک فضا میں اچھالتا ہوا میں بکھر چلا ہوں خوشی کو سنبھالتا ہوا میں ابھی تو پہلے پروں کا بھی قرض ہے مجھ پر جھجک رہا ہوں نئے پر نکالتا ہوا میں کسی جزیرۂ پر امن کی تلاش میں ہوں خود اپنی راکھ سمندر میں ڈالتا ہوا میں پھلوں کے ساتھ کہیں گھونسلے نہ گر جائیں خیال رکھتا ہوں پتھر ...

مزید پڑھیے

ضبط غم ہے مری پوشاک مری عزت رکھ

ضبط غم ہے مری پوشاک مری عزت رکھ آتش دیدۂ نمناک مری عزت رکھ کھل نہ جائے یہ مری عکس فریبی کسی دن آئنہ خانۂ ادراک مری عزت رکھ میری مٹی سے چراغ در و دیوار بنا در بدر کر کے مری خاک مری عزت رکھ پرتو داغ گزشتہ رخ فردا پہ نہ ڈال گردش ساعت سفاک مری عزت رکھ بڑی مشکل سے بنائی ہے یہ عزت میں ...

مزید پڑھیے

رات سی نیند ہے مہتاب اتارا جائے

رات سی نیند ہے مہتاب اتارا جائے اے خدا مجھ میں زر خواب اتارا جائے کیا ضروری ہے کہ ناؤ کو بچانے کے لیے ہر مسافر تہ گرداب اتارا جائے روز اترتا ہے سمندر میں سلگتا سورج کبھی صحرا میں بھی تالاب اتارا جائے سو چراغوں کے جلانے سے کہیں اچھا ہے اک ستارہ سر محراب اتارا جائے پتھروں میں ...

مزید پڑھیے

زنجیر کٹ کے کیا گری آدھے سفر کے بیچ

زنجیر کٹ کے کیا گری آدھے سفر کے بیچ میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا رہ گزر کے بیچ اترا لحد میں خواہشوں کے ساتھ آدمی جیسے مسافروں بھری ناؤ بھنور کے بیچ دشمن سے کیا بچائیں گی یہ جھاڑیاں مجھے بچتے نہیں یہاں تو پیمبر شجر کے بیچ جتنا اڑا میں اتنا الجھتا چلا گیا اک تار کم نما تھا مرے بال و پر ...

مزید پڑھیے

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

اب تری یاد سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو زخم کھلتے ہیں اذیت نہیں ہوتی مجھ کو اب کوئی آئے چلا جائے میں خوش رہتا ہوں اب کسی شخص کی عادت نہیں ہوتی مجھ کو ایسا بدلا ہوں ترے شہر کا پانی پی کر جھوٹ بولوں تو ندامت نہیں ہوتی مجھ کو ہے امانت میں خیانت سو کسی کی خاطر کوئی مرتا ہے تو حیرت نہیں ...

مزید پڑھیے

بن مانگے مل رہا ہو تو خواہش فضول ہے

بن مانگے مل رہا ہو تو خواہش فضول ہے سورج سے روشنی کی گزارش فضول ہے کسی نے کہا تھا ٹوٹی ہوئی ناؤ میں چلو دریا کے ساتھ آپ کی رنجش فضول ہے نابود کے سراغ کی صورت نکالئے موجود کی نمود و نمائش فضول ہے میں آپ اپنی موت کی تیاریوں میں ہوں میرے خلاف آپ کی سازش فضول ہے اے آسمان تیری عنایت ...

مزید پڑھیے

بس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے

بس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے جو کچھ بھی ہے زمینی زمانی فریب ہے رنگ اپنے اپنے وقت پہ کھلتے ہیں آنکھ پر اول فریب ہے کوئی ثانی فریب ہے سوداگران شعلگیٔ شر کے دوش پر مشکیز گاں سے جھانکتا پانی فریب ہے اس گھومتی زمیں پہ دوبارہ ملیں گے ہم ہجرت فرار نقل مکانی فریب ہے دریا کی اصل ...

مزید پڑھیے

یوں تو نہیں کہ پہلے سہارے بنائے تھے

یوں تو نہیں کہ پہلے سہارے بنائے تھے دریا بنا کے اس نے کنارے بنائے تھے کوزے بنانے والے کو عجلت عجیب تھی پورے نہیں بنائے تھے سارے بنائے تھے اب عشرت و نشاط کا سامان ہوں تو ہوں ہم نے تو دیپ خوف کے مارے بنائے تھے دی ہے اسی نے پیاس بجھانے کو آگ بھی پانی سے جس نے جسم ہمارے بنائے ...

مزید پڑھیے

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے

یار بھی راہ کی دیوار سمجھتے ہیں مجھے میں سمجھتا تھا مرے یار سمجھتے ہیں مجھے جڑ اکھڑنے سے جھکاؤ ہے مری شاخوں میں دور سے لوگ ثمر بار سمجھتے ہیں مجھے کیا خبر کل یہی تابوت مرا بن جائے آپ جس تخت کا حق دار سمجھتے ہیں مجھے نیک لوگوں میں مجھے نیک گنا جاتا ہے اور گنہ گار گنہ گار سمجھتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 751 سے 4657