شاعری

کچھ درد بڑھا ہے تو مداوا بھی ہوا ہے

کچھ درد بڑھا ہے تو مداوا بھی ہوا ہے ہر سو دل بیتاب کا چرچا بھی ہوا ہے پرزے بھی اڑے ہیں مری وحشت کے سر راہ نظروں میں ہماری یہ تماشا بھی ہوا ہے پھوٹے ہیں کہیں آہ بھرے دل کے پھپھولے پامال کوئی شہر تمنا بھی ہوا ہے مانا کہ کڑی دھوپ میں سائے بھی ملے ہیں اس راہ میں ہر موڑ پر دھوکا بھی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں دیکھی بات کہانی لگتی ہے

آنکھوں دیکھی بات کہانی لگتی ہے نئی نئی سی ریت پرانی لگتی ہے دشت نوردی لگتی ہے سوغات تری شب بے داری کوئی نشانی لگتی ہے تاشوں کا تھا کھیل سہانا بچپن کا چھو منتر سی بھری جوانی لگتی ہے شام ہوئی تو کالے سائے امڈ پڑے صبح کو تو ہر چیز سہانی لگتی ہے مریم جیسی دھلی دھلی اک مورت سی میرا ...

مزید پڑھیے

رگ رگ میں میری پھیل گیا ہے یہ کیسا زہر

رگ رگ میں میری پھیل گیا ہے یہ کیسا زہر کیوں ڈوبنے لگا ہے دھندلکوں میں سارا شہر مجھ کو جھنجھوڑ دیتی ہیں لمحوں کی آہٹیں اٹھتی ہے میرے جسم میں اک بے بسی کی لہر یہ شب مرے وجود پہ یوں ٹوٹ پڑتی ہے جیسے کوئی بلا ہو کہ آسیب ہو کہ قہر پھوٹا نہ مدتوں سے کوئی چشمۂ امید سوکھی پڑی ہوئی ہے ...

مزید پڑھیے

ہر در و دیوار پہ لرزاں کوئی پیکر لگے

ہر در و دیوار پہ لرزاں کوئی پیکر لگے کتنی شکلوں کا پری خانہ ہمارا گھر لگے دوڑتی جائیں رگوں میں نیلگوں خاموشیاں دور تک پھیلا ہوا یوں دھند کا منظر لگے بند کمرے میں بلائے جاں ہے احساس سکوت اور باہر ہر طرف آواز کا پتھر لگے جیسے جیسے ٹوٹتا جائے نگاہوں کا بھرم شخصیت اپنی بھی اپنے ...

مزید پڑھیے

رات ایسی کہ کبھی جس کا سویرا نہ ہوا

رات ایسی کہ کبھی جس کا سویرا نہ ہوا درد ایسا کہ کوئی جس کا مسیحا نہ ہوا راز اک دل میں لیے پھرتے ہیں صحرا صحرا کوئی ہم راز تو ہو شہر میں ایسا نہ ہوا میرے احساس کی قسمت میں ہی محرومی تھی کبھی سوچا نہ ہوا اور کبھی چاہا نہ ہوا دل کے آئینے میں ہر عکس ہے دھندلا دھندلا لاکھ صورت ہے مگر ...

مزید پڑھیے

غم کی تہذیب اذیت کا قرینہ سیکھیں

غم کی تہذیب اذیت کا قرینہ سیکھیں آؤ اس شہر میں جینا ہے تو جینا سیکھیں موت آنے کی صدا لمحہ بہ لمحہ چاہیں زیست کرنے کا ہنر زینہ بہ زینہ سیکھیں ہر نہیں ہاں سے بڑی ہے یہ حقیقت سمجھیں ہاں بہت سیکھ چکے اب تو کوئی نا سیکھیں جھانک کر آنکھوں میں سینے میں اتر کر دیکھیں نقشۂ دل سے کوئی ...

مزید پڑھیے

بام و در ٹوٹ گئے بہہ گیا پانی کتنا

بام و در ٹوٹ گئے بہہ گیا پانی کتنا اور برباد کرے گی یہ جوانی کتنا رنگ کمھلا دیا بالوں میں پرو دی چاندی طول کھینچے گی ابھی اور کہانی کتنا یہ تلاطم یہ انا آبلہ پائی یہ جنوں ہم بھی دیکھیں گے کہ ہے جوش جوانی کتنا درمیاں آ گیا ابہام کا اک کوہ گراں ڈھونڈتے رہ گئے ہم دشت معانی ...

مزید پڑھیے

حقیقتوں سے الجھتا رہا فسانہ مرا

حقیقتوں سے الجھتا رہا فسانہ مرا گزر گیا ہے مجھے روند کے زمانہ مرا سمندروں میں کبھی تشنگی کے صحرا میں کہاں کہاں نہ پھرا لے کے آب و دانہ مرا تمام شہر سے لڑتا رہا مری خاطر مگر اسی نے کبھی حال دل سنا نہ مرا جو کچھ دیا بھی تو محرومیوں کا زہر دیا وہ سانپ بن کے چھپائے رہا خزانہ مرا وہ ...

مزید پڑھیے

بوئے پیراہن صدا آئے

بوئے پیراہن صدا آئے کھڑکیاں کھول دو ہوا آئے منزلیں اپنے نام ہوں منسوب اپنی جانب بھی راستہ آئے جلتے بجھتے چراغ سا دل میں آرزوؤں کا سلسلہ آئے خامشی لفظ لفظ پھیلی تھی بے زبانی میں کچھ سنا آئے ڈوب کر ان اداس آنکھوں میں اک جہان طرب لٹا آئے دل میں رہ رہ کے اک خلش اٹھے بے سبب اک ...

مزید پڑھیے

کشتی رواں دواں تھی سمندر کھلا ہوا

کشتی رواں دواں تھی سمندر کھلا ہوا آنکھوں میں بس گیا ہے وہ منظر کھلا ہوا بستر تھا ایک جسم تھے دو خواہشیں ہزار دونوں کے درمیان تھا خنجر کھلا ہوا الجھا ہی جا رہا ہوں میں گلیوں کے جال میں کب سے ہے انتظار میں اک گھر کھلا ہوا اک حرف مدعا تھا سو وہ بھی دبی زبان الزام دے رہا ہے ستم گر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 745 سے 4657