حادثوں نے اسے بھی توڑ دیا (ردیف .. ی)
حادثوں نے اسے بھی توڑ دیا ریزہ ریزہ بکھر گئی میں بھی اک بھنور میں رہا ہے وہ بھی سدا اور کنارے نہ لگ سکی میں بھی اس نے صحرا کی ریت کو اوڑھا خاک میں خاک ہو گئی میں بھی اس نے خود کو بدل لیا آخر اور پہلی سی کب رہی میں بھی میرے دل کو بھی وہ نہ راس آیا اس کے دل سے اتر گئی میں بھی اس کے ...