شاعری

جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں

جینے والے قضا سے ڈرتے ہیں زہر پی کر دوا سے ڈرتے ہیں زاہدوں کو کسی کا خوف نہیں صرف کالی گھٹا سے ڈرتے ہیں آپ جو کچھ کہیں ہمیں منظور نیک بندے خدا سے ڈرتے ہیں دشمنوں کو ستم کا خوف نہیں دوستوں کی وفا سے ڈرتے ہیں عزم و ہمت کے باوجود شکیلؔ عشق کی ابتدا سے ڈرتے ہیں

مزید پڑھیے

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی ہے آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا کبھی تقدیر کا ماتم کبھی دنیا کا گلہ منزل عشق میں ہر گام پہ رونا آیا مجھ پہ ہی ختم ہوا سلسلۂ نوحہ گری اس قدر گردش ایام پہ رونا آیا جب ہوا ذکر زمانے ...

مزید پڑھیے

اٹھی پھر دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہ

اٹھی پھر دل میں اک موج شباب آہستہ آہستہ کچھ آیا زندگی میں انقلاب آہستہ آہستہ سما کر مجھ میں وہ جان شباب آہستہ آہستہ بنا دے گا مجھے اپنا جواب آہستہ آہستہ یہ محفل زاہدان خشک کی محفل ہے اے رندو ذرا اس بزم میں ذکر شراب آہستہ آہستہ مری نظریں مجھی کو رفتہ رفتہ بھول جاتی ہیں ہوئے ...

مزید پڑھیے

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں

مری زندگی پہ نہ مسکرا مجھے زندگی کا الم نہیں جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں مرا کفر حاصل زہد ہے مرا زہد حاصل کفر ہے مری بندگی وہ ہے بندگی جو رہین دیر و حرم نہیں مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں انہیں اعتبار وفا تو ہے مجھے اعتبار ستم نہیں وہی کارواں ...

مزید پڑھیے

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے

میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے میرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے مجھے چھوڑ دے مرے حال پر ترا کیا بھروسہ ہے چارہ گر یہ تری نوازش مختصر مرا درد اور ...

مزید پڑھیے

زر پرستی حیات ہو جائے

زر پرستی حیات ہو جائے اس سے بہتر وفات ہو جائے پھر میں دنیا میں گھوم سکتا ہوں جسم سے گر نجات ہو جائے محور عشق سے ذرا سا ہٹے منتشر کائنات ہو جائے دل کسی کھیل میں نہیں لگتا جب محبت میں مات ہو جائے ایک دیوی کی آنکھ ایسے لگی جیسے مندر میں رات ہو جائے کتنے بیمار عشق بچ جائیں حسن پر ...

مزید پڑھیے

محبت اک سمندر ہے ذرا سے دل کے اندر ہے

محبت اک سمندر ہے ذرا سے دل کے اندر ہے ذرا سے دل کے اندر ہے مگر پورا سمندر ہے محبت رات کی رانی کا ہلکا سرد جھونکا ہے محبت تتلیوں کا گل کو چھو لینے کا منظر ہے محبت باغباں کے ہاتھ کی مٹی کو کہتے ہیں رخ گل کے مطابق خاک یہ سونے سے بہتر ہے جہان نو جسے محبوب کی آنکھوں کا حاصل ہو فقیہ عشق ...

مزید پڑھیے

ہم سفر ہو تو ایک کام کرو

ہم سفر ہو تو ایک کام کرو گفتگو کے بنا کلام کرو پلکیں کب تک رکوع میں رکھو گے حسن کا واسطہ قیام کرو ایک پل آنکھیں چار کر کے مجھے عمر بھر کے لیے غلام کرو لیلیٰ بننے سے نہ کرو انکار پیار چاہے برائے نام کرو اس کا سورج غروب ہوتا نہیں حسن کی مملکت میں شام کرو گیسوئے یار سے گزارش ...

مزید پڑھیے

حسن والے وہ کام کرتے ہیں

حسن والے وہ کام کرتے ہیں لفظ جھک کر سلام کرتے ہیں عمر بھر یہ غلام نہ سمجھا آپ کیسے غلام کرتے ہیں خوش نصیبی گلوں پہ ختم ہوئی ان کی زلفوں میں شام کرتے ہیں قصۂ عشق آگے بڑھ نہ سکا وہ مرا احترام کرتے ہیں با ادب با ملاحظہ گھر میں اب کبوتر قیام کرتے ہیں فتویٰ تعبیر پر ہے لاگو ...

مزید پڑھیے

غرور حسن میں شاہی جلال ہوتا ہے

غرور حسن میں شاہی جلال ہوتا ہے پری رخوں کا سبھی کچھ کمال ہوتا ہے تراش ایسی کہ رکتی ہے سانس دھڑکن کی پھر اس پہ چلنا قیامت کی چال ہوتا ہے قسم خدا کی اے لفظوں سے ماورا لڑکی بدن اور ایسا بدن خال خال ہوتا ہے پناہ بادلوں میں ڈھونڈھتا ہے ماہ تمام جو بے حجاب وہ زہرہ جمال ہوتا ہے خدا ہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 697 سے 4657