شاعری

نظر سمیٹیں بٹور کر انتظار رکھ دیں

نظر سمیٹیں بٹور کر انتظار رکھ دیں جو اس پہ تھا اب تلک ہمیں اعتبار رکھ دیں بس ایک خواہش مدار تھی اپنی زندگی کا کسی کے ہاتھوں میں اپنا دار و مدار رکھ دیں تجھے جکڑ لے کبھی سلیقہ یہی نہیں ہے ہے جی میں سب نوچ کر نگاہوں کے تار رکھ دیں بڑی ہی نرمی سے اس کی آنکھیں مصر ہوئی تھیں ہم اس کے ...

مزید پڑھیے

تو کیا جانے تیری بابت کیا کیا سوچا کرتے ہیں

تو کیا جانے تیری بابت کیا کیا سوچا کرتے ہیں آنکھیں موندے رہتے ہیں اور تجھ کو سوچا کرتے ہیں دور تلک لہریں بنتی ہیں پھیلتی ہیں کھو جاتی ہیں دل کے باسی ذہن کی جھیل میں کنکر پھینکا کرتے ہیں ایک گھنا سا پیڑ تھا برسوں پہلے جس کو کاٹ دیا شام ڈھلے کچھ پنچھی ہیں اب بھی منڈلایا کرتے ...

مزید پڑھیے

تنہائی کا غم ڈھوئیں اور رو رو جی ہلکان کریں

تنہائی کا غم ڈھوئیں اور رو رو جی ہلکان کریں اس سے بہتر ہوگا کہ وہ مشق تیر و کمان کریں وقت کا رونا رونے والے وقت کو ضائع کرتے ہیں پلکوں سے لمحوں کی کرچیں چننے کا سامان کریں سڑکوں کے چوراہوں پر جن کو تنہائی گھیرے ہو اس سیمابی دنیا میں کیوں جینے کا ارمان کریں باہر کی دنیا میں جن ...

مزید پڑھیے

ذات کا گہرا اندھیرا ہے بکھر جا مجھ میں

ذات کا گہرا اندھیرا ہے بکھر جا مجھ میں ڈوبتی شام کے سورج تو اتر جا مجھ میں ابن آدم ہوں میں شہزادۂ تعمیر حیات تو جو بگڑا ہو تو اے وقت سنور جا مجھ میں پھر سے اک شکل نئی تجھ کو عطا کر دوں گا اے مری زیست کسی روز تو مر جا مجھ میں آئے اور بیت گئے کتنے ہی ساون لیکن کوئی جذبہ کوئی بادل ...

مزید پڑھیے

یہ کہو یہ نہ کہو ایسے کہو ایسے نہیں

یہ کہو یہ نہ کہو ایسے کہو ایسے نہیں سن اے نقاد تری گود کے ہم پالے نہیں ہم چھڑے چھانٹ یک و تنہا ادب کا میداں کوئی ہم زلف نہیں اور سسر سالے نہیں مومن و کافر و مشرک نہ تو مرتد ملحد اپنے ڈانڈے تو کسی سے بھی کہیں ملتے نہیں روکھی پھیکی سی کبھی چٹنی کہیں سادی سی دال اپنی غزلوں کے مقدر ...

مزید پڑھیے

تم میں تو کچھ بھی واہیات نہیں

تم میں تو کچھ بھی واہیات نہیں جاؤ تم آدمی کی ذات نہیں دل میں جو ہے وہی زبان پے ہے اور کوئی ہم میں خاص بات نہیں سب کو دھتکارا درکنار کیا ایک بس خود ہی سے نجات نہیں کھل کے ملتے ہیں جس سے ملتے ہیں ذہن میں کوئی چھوت چھات نہیں اک تعلق سبھی سے ہے لیکن سب سے جائز تعلقات نہیں شاعری ہے ...

مزید پڑھیے

زمیں چلائی چیخی بلبلا کے

زمیں چلائی چیخی بلبلا کے نہ جوں تک رینگی کانوں پر خدا کے میں تیرے قہر کے صدقے خدایا ادھورے رہ گئے جملے دعا کے کریدے راکھ ڈھونڈے خاک کوئی سبھی ناپید ہے جب جل جلا کے تمنا آرزو ارمان حسرت پرندے اڑ گئے پر پھڑپھڑا کے پڑی ہے زندگی ڈھانپے لپیٹے فنا دوڑے پھرے ہے دندنا کے پھٹا مجھ ...

مزید پڑھیے

اب تک جو بقایا ہے ادا کر دو سبھی اب اچھا ہے یہی اب

اب تک جو بقایا ہے ادا کر دو سبھی اب اچھا ہے یہی اب وہ باتیں ملاقاتیں کئی راتیں مری اب سب آج ابھی اب سر میں ترے سر اپنا کوئی کاہے ملائے جو کھائے وہ گائے چلتی جو چلی آئی نہ چلنے کی تری اب ہے باری مری اب چاہا نہ ملا جو نہیں چاہا ملا اکثر ہیرا ہو کہ پتھر ہر مال نرا کھوٹا کھری دھوکا ...

مزید پڑھیے

ہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیں

ہم جرم محبت کی سزا پائے ہوئے ہیں بے وجہ نہیں ہے کہ جو شرمائے ہوئے ہیں تھی جن کی تب و تاب سے اس بزم کی رونق دیپک وہ سر شام ہی کجلائے ہوئے ہیں ہر سمت سیاہی ہے گھٹا ٹوپ اندھیرا کیا زلف دوتا آج وہ بکھرائے ہوئے ہیں ہم خوگر تسلیم و رضا آج ہیں ورنہ ماضی میں بہت ٹھوکریں بھی کھائے ہوئے ...

مزید پڑھیے

بھگت رہا ہوں خود اپنے کئے کا خمیازہ

بھگت رہا ہوں خود اپنے کئے کا خمیازہ ٹپک رہا ہے جو آنکھوں سے یہ لہو تازہ کسی کی یاد کے سائے کو ہم سفر سمجھا لگا سکو تو لگا لو جنوں کا اندازہ کسے مجال کہ اب میرے دل میں گھر کر لے ہے گرچہ اب بھی کھلا اپنے دل کا دروازہ نگار وقت نے ہر سو کمند ڈالی ہے بکھر نہ جائے کہیں انجمن کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 675 سے 4657