شاعری

آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے

آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے مجھ میں سجی ہوئی مگر اک انجمن تو ہے سانسوں کو اس کی یاد سے نسبت ہے آج بھی مجھ میں کسی بھی طور سہی بانکپن تو ہے ہر صبح چہچہاتی ہے چڑیا منڈیر پر ویران گھر میں آس کی کوئی کرن تو ہے ممکن ہے اس کا وصل میسر نہ ہو مجھے لیکن اس آرزو سے مرا گھر چمن تو ...

مزید پڑھیے

مرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں

مرے اطراف یہ کیسی صدائیں رقص کرتی ہیں کہ یوں لگتا ہے مجھ میں اپسرائیں رقص کرتی ہیں اسی امید پر شاید کبھی خوشبو کوئی اترے مری یادوں کے آنگن میں ہوائیں رقص کرتی ہیں میسر ہی نہیں آتی مجھے اک پل بھی تنہائی کہ مجھ میں خواہشوں کی خادمائیں رقص کرتی ہیں مجھے ہر شام اک سنسان جنگل ...

مزید پڑھیے

روح کو اپنی تہہ دام نہیں کر سکتا

روح کو اپنی تہہ دام نہیں کر سکتا میں کبھی صبح سے یوں شام نہیں کر سکتا عمر بھر ساتھ تو رہ سکتا ہوں تیرے لیکن اپنی آنکھیں میں ترے نام نہیں کر سکتا تجھ کو اتنا نہیں معلوم مرے بارے میں شرط رکھ کر میں کوئی کام نہیں کر سکتا مجھ پہ ہر اک سے محبت کی یہ تہمت نہ لگا میں کہ اس جذبے کو یوں ...

مزید پڑھیے

میں نے ہاتھوں میں کچھ نہیں رکھا

میں نے ہاتھوں میں کچھ نہیں رکھا ایسی باتوں میں کچھ نہیں رکھا اک سوا تیرے درد کے میں نے اپنی آنکھوں میں کچھ نہیں رکھا میری راتوں کا پوچھتے کیا ہو میری راتوں میں کچھ نہیں رکھا اک تسلی سی ہے روشؔ ورنہ رشتے ناطوں میں کچھ نہیں رکھا

مزید پڑھیے

دل بھی بضد ہے اور تقاضائے یار بھی

دل بھی بضد ہے اور تقاضائے یار بھی اک بوجھ ہے انا کا لبادہ اتار بھی اپنی شکستگی کا مجھے غم نہیں مگر بکھرے پڑے ہوئے ہیں یہاں وضع دار بھی وہ قہر ہے کہ دشت و بیاباں پہ بس نہیں اڑتی ہے خاک اب کے سر کہسار بھی گھٹ جائے گا شکستہ بدن کے حصار میں تو اپنے آپ کو کہیں رک کر پکار بھی خود کو ...

مزید پڑھیے

دن مہینے سال سب کے سب لگے بیمار سے

دن مہینے سال سب کے سب لگے بیمار سے جھانکتی ہیں ہڈیاں اب وقت کی دیوار سے اب سیاہی کی گھنی شاخوں کا ماتم کیجئے پتیاں جھڑنے لگی ہیں رات کے اشجار سے لگ گئی ہے چپ سی اب ذہن ہنر خاموش ہے رابطہ جس دن سے ٹوٹا ہے لب اظہار سے دیکھتے ہیں مجھ کو ننگی دھوپ شرمندہ ہوئی سایۂ دیوار نے کیا کہہ ...

مزید پڑھیے

ہر گوشے میں بکھرے ہوئے سناٹوں کے ڈر سے

ہر گوشے میں بکھرے ہوئے سناٹوں کے ڈر سے ویرانیاں گھبرا کے نکل آئی ہیں گھر سے اس درجہ تھکے ماندے نظر آتے ہیں چہرے لوٹا ہو کوئی جیسے بہت لمبے سفر سے جس سمت گھنی چھاؤں کے خیمے سے تنے ہیں گزرا ہے کڑی دھوپ کا لشکر بھی ادھر سے اکثر ہوا ایسا کہ بھرے گھر میں سر شام تنہائی کے آسیب در و ...

مزید پڑھیے

لہو لہان تھا منظر ہوا شکستہ تھی

لہو لہان تھا منظر ہوا شکستہ تھی ہمارے چاروں طرف اک عجیب دنیا تھی مری نگاہ اترتی چلی گئی اندر ہر ایک شکل مرے سامنے برہنہ تھی کسی صدی کا بھی طوفان ڈھا سکا نہ اسے یہ اور بات کہ دیوار وقت خستہ تھی گزر چکی ہے جو اب اس کی جستجو نہ کرو وہ زندگی تو کسی خواب کا کرشمہ تھی ہزاروں عکس پس ...

مزید پڑھیے

ردائے خاک طلب دور تک بچھا بھی دے

ردائے خاک طلب دور تک بچھا بھی دے برہنہ راہ کو پیراہن صدا بھی دے میں ایک سادہ ورق ہوں تری کہانی کا جو ہو سکے تو مجھے داستاں بنا بھی دے ہمارے درمیاں حائل ہے دشمنوں کی طرح جو ہو سکے تو یہ دیوار خوف ڈھا بھی دے جنم جنم سے ہم اپنی تلاش میں گم ہیں ہم اہل درد کو ہم سے کبھی ملا بھی ...

مزید پڑھیے

نہ سنگ راہ نہ سد قیود کی صورت

نہ سنگ راہ نہ سد قیود کی صورت میں ڈھ رہا ہوں اب اپنے وجود کی صورت جگہ پہ اپنی جما ہے وہ سنگ کی مانند بکھر رہا ہوں میں دیوار دود کی صورت جبیں پہ خاک تقدس ہوں مجھ کو پہچانو چمک رہا ہوں میں نقش سجود کی صورت مری نظر میں تیقن کی دھوپ روشن ہو کبھی تو پھیلے وہ رنگ شہود کی صورت گذشتہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 658 سے 4657