آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے
آنکھوں میں ہجر چہرے پہ غم کی شکن تو ہے مجھ میں سجی ہوئی مگر اک انجمن تو ہے سانسوں کو اس کی یاد سے نسبت ہے آج بھی مجھ میں کسی بھی طور سہی بانکپن تو ہے ہر صبح چہچہاتی ہے چڑیا منڈیر پر ویران گھر میں آس کی کوئی کرن تو ہے ممکن ہے اس کا وصل میسر نہ ہو مجھے لیکن اس آرزو سے مرا گھر چمن تو ...