شاعری

بہت گھٹن ہے بہت اضطراب ہے مولا

بہت گھٹن ہے بہت اضطراب ہے مولا ہمارے سر پہ یہ کیسا عذاب ہے مولا سنا تھا میں نے یہی دن ہیں پھول کھلنے کے مرے لیے تو یہ موسم خراب ہے مولا کوئی بتائے ہماری سمجھ سے باہر ہے کسے گناہ کہیں کیا ثواب ہے مولا ازل سے تیری زمیں پر کھڑے ہیں تیرے غلام سروں پہ ان کے وہی آفتاب ہے مولا گناہ ...

مزید پڑھیے

آسماں کا رنگ میری ذات میں گھل جائے گا

آسماں کا رنگ میری ذات میں گھل جائے گا دیکھنا اک دن غبار جسم بھی دھل جائے گا ایک اک کر کے پرندے اڑ رہے ہیں شاخ سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے موسم گل جائے گا خوف کی دیوی کو آخر مل گیا اس کا پتہ اس کے شعروں سے بھی اب رنگ تغزل جائے گا درد کے جھونکوں سے بچنا اب کہاں ممکن شمیمؔ بند ہوگا ایک ...

مزید پڑھیے

دیوار کی صورت تھا کبھی در کی طرح تھا

دیوار کی صورت تھا کبھی در کی طرح تھا وہ دھند میں لپٹے ہوئے منظر کی طرح تھا دیکھا تو شگفتہ سا لگا پھول کی صورت اترا تو مری روح میں خنجر کی طرح تھا میں آج تہی دست ہوں اک خاص سبب سے ورنہ میں زمانے میں سکندر کی طرح تھا کچھ وقت نے ترتیب بگاڑی مرے گھر کی کچھ گھر بھی مرا میرے مقدر کی ...

مزید پڑھیے

زمیں کو کھینچ کے میں سوئے آسماں لے جاؤں

زمیں کو کھینچ کے میں سوئے آسماں لے جاؤں یہ دل کا درد ہے اس درد کو کہاں لے جاؤں یہ دل عجیب سی اک کشمکش سے ہے دو چار نتیجہ ایک سا ہوگا اسے جہاں لے جاؤں یہاں تو گل بھی سماتے نہیں ان آنکھوں میں بتا کہاں میں یہ چہرہ دھواں دھواں لے جاؤں لکھا تو ہے مری بے خواب سی ان آنکھوں میں میں اپنے ...

مزید پڑھیے

دور تک پھیلی ہوئی ہے تیرگی باتیں کرو

دور تک پھیلی ہوئی ہے تیرگی باتیں کرو ڈس نہ لے ہم کو کہیں یہ خامشی باتیں کرو آؤ پلکوں سے چنیں بکھرے ہوئے لمحات کو نیند آ جائے نہ جب تک خواب کی باتیں کرو بس یہی لمحے غنیمت ہیں کہ ہم تم ساتھ ہیں کون جانے مل بھی پائیں پھر کبھی باتیں کرو صرف اک کرب مسلسل ہی نہیں ہے زندگی مختصر وقفے ...

مزید پڑھیے

ستارہ ٹوٹ کے بکھرا اور اک جہان کھلا

ستارہ ٹوٹ کے بکھرا اور اک جہان کھلا عجیب رخ سے اندھیرے میں آسمان کھلا طلوع صبح سے پہلے میں چھوڑ جاؤں گا سیاہ رات کے پہلو میں اک مکان کھلا پھر اس کے بعد کوئی راہ واپسی کی نہ تھی ہوا کے دوش پہ اس طرح بادبان کھلا میں جس کو ڈھونڈ رہا تھا اداس راتوں میں ستارہ بن کے وہ پلکوں کے درمیان ...

مزید پڑھیے

پلکوں پہ ستارہ سا مچلنے کے لیے تھا

پلکوں پہ ستارہ سا مچلنے کے لیے تھا وہ شخص ان آنکھوں میں پگھلنے کے لیے تھا وہ زلف ہواؤں میں بکھرنے کے لیے تھی اور جسم مرا دھوپ میں جلنے کے لیے تھا جس روز تراشے گئے یہ زخم اسی روز اک زخم مری روح میں پلنے کے لیے تھا اس خواب کی تعبیر مجھے ملتی بھی کیسے وہ خواب تو افسانوں میں ڈھلنے ...

مزید پڑھیے

ڈوبتے سورج کا منظر وہ سہانی کشتیاں

ڈوبتے سورج کا منظر وہ سہانی کشتیاں پھر بلاتی ہیں کسی کو بادبانی کشتیاں اک عجب سیلاب سا دل کے نہاں خانے میں تھا ریت ساحل دور تک پانی ہی پانی کشتیاں موج دریا نے کہا کیا ساحلوں سے کیا ملا کہہ گئیں کل رات سب اپنی کہانی کشتیاں خامشی سے ڈوبنے والے ہمیں کیا دے گئے ایک انجانے سفر کی ...

مزید پڑھیے

جو سامنے ہے مرے وہ غبار کیا ہوگا

جو سامنے ہے مرے وہ غبار کیا ہوگا اب اس سے بڑھ کے مرا انتشار کیا ہوگا تمام ذرے بکھر کر سمیٹ لیں گے مجھے یہ جانتا ہوں سر کہسار کیا ہوگا ہر ایک عہد میں ٹوٹا ہوں پھر بھی جانتا ہوں شکستہ لوگوں میں میرا شمار کیا ہوگا ہر ایک شخص جہاں اپنے آپ میں گم ہو وہاں ہم اہل ہنر کا شمار کیا ...

مزید پڑھیے

اس سے پہلے کہ چراغوں کو وہ بجھتا دیکھے

اس سے پہلے کہ چراغوں کو وہ بجھتا دیکھے اس سے کہنا کہ وہ آئے مرا چہرہ دیکھے اس سے کہنا مرے چہرے سے یہ آنکھیں لے جائے اس سے کہنا کہ کہاں تک کوئی رستہ دیکھے میں نے دیکھا ہے سمندر میں اترتا سورج اس سے کہنا کہ مشیت کا اشارا دیکھے اس سے کہنا یہ منادی بھی کرا دی جائے کوئی اس عہد میں اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 657 سے 4657