شاعری

سنائے اس نے جب اشعار میرے

سنائے اس نے جب اشعار میرے کئی مصرعے ہوئے گل بار میرے سفر دریا کی رو پر منحصر ہے نہیں ہیں ہاتھ میں پتوار میرے کہانی میں نمایاں ہو گئے ہیں وہی ہیں ثانوی کردار میرے وہ ان راہوں سے ہجرت کر گئے ہیں شجر جتنے تھے سایہ دار میرے ہوا منظوم ہو کر آ رہی ہے ابھی کچھ لوگ ہیں اس پار ...

مزید پڑھیے

ایسے رہتے ہیں اپنے گھر میں اسیر

ایسے رہتے ہیں اپنے گھر میں اسیر روشنی جیسے بام و در میں اسیر یوں ہیں فکر و خیال ہم آہنگ لفظ معنی کے ہے اثر میں اسیر نام کیا پوچھتے کہ حیراں تھے ہم ہوئے کیسے اس سحر میں اسیر بس شباہت تلاش کرنا ہے وہ ہے خود اپنے ہی ہنر میں اسیر ہم ہوئے متن میں نظر انداز صاحب دہر ہے دہر میں ...

مزید پڑھیے

محبوب سا انداز بیاں بے ادبی ہے

محبوب سا انداز بیاں بے ادبی ہے منصور اسی جرم میں گردن زدنی ہے خود اپنے ہی چہرے کا تعین نہیں ہوتا حالانکہ مرا کام ہی آئینہ گری ہے آنے دو ابھی جبہ و دستار پہ پتھر کچھ کعبہ نشینوں میں ابھی بولہبی ہے خالی ہی رہا دیدۂ پر شوق کا دامن اندھوں کی عقیدت میں وسیع النظری ہے ہر پاؤں سے ...

مزید پڑھیے

لوگ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں مجھے پتھر لے کر

لوگ کیوں ڈھونڈ رہے ہیں مجھے پتھر لے کر میں تو آیا نہیں کردار پیمبر لے کر مجھ کو معلوم ہے معدوم ہوئی نقد وفا پھر بھی بازار میں بیٹھا ہوں مقدر لے کر روح بیتاب ہے چہروں کا تاثر پڑھ کر یعنی بے گھر ہوا میں شہر میں اک گھر لے کر کس نئے لہجے میں اب روح کا اظہار کروں سانس بھی چلتی ہے ...

مزید پڑھیے

زیر زمیں دبی ہوئی خاک کو آساں کہو

زیر زمیں دبی ہوئی خاک کو آساں کہو حرف خراب و خستہ کو ضد ہے کہ داستاں کہو آب سیاہ پھیر دو باب وفا کے نقش پر شہر انا میں جب کبھی قصۂ دیگراں کہو کون شریک درد تھا آتش سرد کے سوا راکھ حقیر تھی مگر راکھ کو مہرباں کہو دور خلا کے دشت میں مثل شرار ثبت ہیں کس نے انہیں خفا کیا کیوں ہوئے بد ...

مزید پڑھیے

وہ جو تم نے نام خدا لیا سبھی رنجشوں کو بھلا دیا (ردیف .. ن)

وہ جو تم نے نام خدا لیا سبھی رنجشوں کو بھلا دیا مجھے اب یقین یہ آ گیا کہ زمانہ اتنا برا نہیں اسے کب ہمارا خیال ہے مرے دل کو کیوں یہ ملال ہے کبھی اس نے ایسا کہا نہیں کبھی ہم نے ایسا سنا نہیں نہ رقیب ہے نہ حبیب ہے مرا اس سے رشتہ عجیب ہے وہ ملے تو دل کو سکوں ملے نہ ملے تو کوئی گلہ ...

مزید پڑھیے

ابھی اس تک کہاں پہنچا سمندر

ابھی اس تک کہاں پہنچا سمندر وہ اپنی ذات میں ایسا سمندر زمیں اوڑھے ہے میری سبز چادر مرے آنچل میں ہے نیلا سمندر مجھے بادل کی محمل میں بٹھا کے تمہارے شہر تک لایا سمندر مرا پیرایۂ اظہار دیکھیں میں ہوں مٹی ہوا شعلہ سمندر مجھے محدود ذہنوں سے شکایت بہت اچھا لگا پھیلا سمندر محبت ...

مزید پڑھیے

وہی بے یقینی کی ہے فضا وہی گرد باد شمال ہے

وہی بے یقینی کی ہے فضا وہی گرد باد شمال ہے میں چراغ جاں ہوں لیے ہوئے وہی شام شہر ملال ہے وہ مسافتیں بھی گزر گئیں کہ دعا کے پھول تھے ہاتھ میں یہ محبتوں کا دیار ہے یہی میرا مال و منال ہے ترے حرف حرف میں رمز ہے تری گفتگو بھی کمال ہے کبھی مل کے تجھ سے خوشی ملی کبھی تو ہی وجہ ملال ...

مزید پڑھیے

جب بھی وہ آسماں جناب آئے

جب بھی وہ آسماں جناب آئے سایہ کرتا ہوا سحاب آئے حرف مٹنے لگے ہیں ذہنوں سے پھر کوئی صاحب کتاب آئے جب کو ڈوبے ہوئے زمانہ ہوا یاد کچھ ایسے آفتاب آئے زندگی بحر بیکراں ہی سہی ہم تو بس صورت حباب آئے جیسے خالی مکاں پہ دستک ہو در و دیوار سے جواب آئے ورق زندگی پلٹتے رہے کامرانی کا ...

مزید پڑھیے

اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے

اب قیس ہے کوئی نہ کوئی آبلہ پا ہے دل آٹھ پہر اپنی حدیں ڈھونڈ رہا ہے احساس کی وادی میں کوئی صوت نہ صورت یہ منزل عرفان تک آنے کا صلہ ہے زخموں کے بیاباں میں کوئی پھول نہ پتھر یادوں کے جزیرے میں نہ بت ہیں نہ خدا ہے اک خاک کے پیکر کا تماشہ ہے سڑک پر ہر شخص یہاں قہر کی تصویر بنا ہے مٹی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 648 سے 4657