ردائے آہنی ہر آدمی کے سر پر ہے
ردائے آہنی ہر آدمی کے سر پر ہے کہ جیسے سنگ کی بارش اسی نگر پر ہے نہ کھو جو مٹھی میں انگلی کسی کی ہم سفرو ہمارا قافلہ انجانی رہ گزر پر ہے بچا رہا تھا جو کل رات کالی آندھی سے وہ پھل چڑھا ہوا ہر شخص کی نظر پر ہے وہ کون روئی تھی کاجل لگا کے آنکھوں میں یہ دھبہ دھبہ سیاہی رخ سحر پر ...