شاعری

ردائے آہنی ہر آدمی کے سر پر ہے

ردائے آہنی ہر آدمی کے سر پر ہے کہ جیسے سنگ کی بارش اسی نگر پر ہے نہ کھو جو مٹھی میں انگلی کسی کی ہم سفرو ہمارا قافلہ انجانی رہ گزر پر ہے بچا رہا تھا جو کل رات کالی آندھی سے وہ پھل چڑھا ہوا ہر شخص کی نظر پر ہے وہ کون روئی تھی کاجل لگا کے آنکھوں میں یہ دھبہ دھبہ سیاہی رخ سحر پر ...

مزید پڑھیے

اپنا سایہ دیکھ کر میں بے تحاشہ ڈر گیا

اپنا سایہ دیکھ کر میں بے تحاشہ ڈر گیا ہو بہ ہو ویسا لگا جو میرے ہاتھوں مر گیا ہلکے سے حسن تبسم کا بھی اندازہ ہوا بوجھ سارے دن کا لے کر جب میں اپنے گھر گیا پھل لدے اس پیڑ پر پھر پڑ گیا پہرہ کڑا پتیوں کو چومتا جب سن سے اک پتھر گیا کچھ مکینوں میں عجب تبدیلیاں پائی گئیں اس بڑی بلڈنگ ...

مزید پڑھیے

جو چہرے کے باہر ہے وہ اندر نہ ملے گا

جو چہرے کے باہر ہے وہ اندر نہ ملے گا چٹکی میں سمندر کی سمندر نہ ملے گا دکھ ہوگا سوا دکھ کو نمائش میں سجا کے ہر چہرہ پہ ہمدردی کا لشکر نہ ملے گا سوکھے ہوئے تالاب کی کیا جیب تلاشی صدیوں کا وہ پھینکا ہوا پتھر نہ ملے گا وہ کتنی دفعہ توڑ کے پھر جوڑا گیا ہے انگشت نظر سے تمہیں چھو کر نہ ...

مزید پڑھیے

رکنے کا اب نام نہ لے ہے راہی چلتا جائے ہے

رکنے کا اب نام نہ لے ہے راہی چلتا جائے ہے بوڑھا برگد اپنے سائے میں خود ہی سستائے ہے بھینی بھینی مہوا کی بو دور گاؤں سے آئے ہے بھولی بسری کوئی کہانی نس نس آگ لگائے ہے الجھی سانسیں سرگوشی اور چوڑی کی مدھم آواز پاس کا کمرہ روز رات کی نیند اڑا لے جائے ہے کم کیا ہوتی لجا کی یہ دوری ...

مزید پڑھیے

ہچکیاں لیتا ہوا دنیا سے دیوانہ چلا

ہچکیاں لیتا ہوا دنیا سے دیوانہ چلا جاں کنی کے وقت بھی تیرا ہی افسانہ چلا میں جنون عشق میں جانے کہاں تک آ گیا شہر کے ہر موڑ سے پتھر جداگانہ چلا خون کی گردش میں شامل ہو گئی دل کی امنگ کوئے قاتل کی طرف بے اختیارانہ چلا موسم گل زرد ہے خون تمنا کے بغیر نقد جاں لے کر چمن میں سرفروشانہ ...

مزید پڑھیے

نیند آنکھوں میں سمو لوں تو سیہ رات کٹے

نیند آنکھوں میں سمو لوں تو سیہ رات کٹے یہ زمیں اوڑھ کے سو لوں تو سیہ رات کٹے قطرۂ اشک بھی لو دیتے ہیں جگنو کی طرح دو گھڑی پھوٹ کے رو لوں تو سیہ رات کٹے رونے دھونے سے نہیں اگتا خوشی کا سورج قہقہے ہونٹ پہ بولوں تو سیہ رات کٹے آنکھ نا دیدہ مناظر کے تجسس کا ہے نام موتیاں آنکھ میں ...

مزید پڑھیے

تو یاد آیا اور مری آنکھ بھر گئی

تو یاد آیا اور مری آنکھ بھر گئی اکثر ترے بغیر قیامت گزر گئی اول تو مفلسوں کی کوئی آرزو نہیں پیدا کبھی ہوئی بھی تو گھٹ گھٹ کے مر گئی اک عشق جیسے لفظ میں مضمر ہو کائنات اک حسن جیسے دھوپ چڑھی اور اتر گئی ناز و ادا سے پاؤں اٹھے اور لرز گئے اچھا ہوا کہ اس کی بلا اس کے سر گئی طارقؔ ...

مزید پڑھیے

کسی سے پوچھیں کون بتائے کس نے محشر دیکھا ہے

کسی سے پوچھیں کون بتائے کس نے محشر دیکھا ہے چپ چپ ہے آئینہ جس نے سارا منظر دیکھا ہے منزل منزل چل کر جب بھی آئی لہو میں ڈوبی رات آہٹ آہٹ قتل ہوا ہے قدموں میں سر دیکھا ہے تو ہی بتا رخسار پہ اس کے کتنے تل ہیں کتنے داغ تو نے تو اے دیدۂ بینا پھول کو پتھر دیکھا ہے محفل محفل جس کے چرچے ...

مزید پڑھیے

پہونچا میں کوئے یار میں جب سر لیے ہوئے

پہونچا میں کوئے یار میں جب سر لیے ہوئے نازک بدن نکل پڑے پتھر لیے ہوئے اے دوست زندگی کی مجھے بد دعا نہ دے میں خاک ہو چکا ہوں مقدر لیے ہوئے چلتی ہے روندتی ہوئے پل پل مرا وجود ہر سانس خواہشات کا لشکر لیے ہوئے پرچھائیوں کے دیس میں بے اصل کچھ نہیں منظر بھی ہے یہاں پس منظر لیے ...

مزید پڑھیے

ذکر جس کا سحر و شام سے وابستہ ہے

ذکر جس کا سحر و شام سے وابستہ ہے روشنی ذہن کی اس نام سے وابستہ ہے جیسے ذرہ کبھی سورج کے مقابل آ جائے یوں مرا نام ترے نام سے وابستہ ہے دن کے صحرا میں بہت دیر سے شام آتی ہے اس سے ملنے کی دعا شام سے وابستہ ہے درد مندی بھی محبت بھی رواداری بھی کام کتنا دل ناکام سے وابستہ ہے زندگی زد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 647 سے 4657