شاعری

شام کے ساحل پہ سورج کا سفینہ آ لگا

شام کے ساحل پہ سورج کا سفینہ آ لگا ڈوبتی آنکھوں کو یہ منظر بہت اچھا لگا درد کے پتھر سبھی آب رواں میں گھل گئے شور تھا کتنا مگر آنکھوں کو سناٹا لگا چار سو پھیلی ہوئی موج نفس کی گونج تھی مجھ کو پیاسی ریت کا صحرا بھی اک دریا لگا ان گنت سائے تری تصویر میں ڈھلتے گئے چاندنی جاگی تو ہر ...

مزید پڑھیے

طلسم ہے کہ تماشا ہے کائنات اس کی

طلسم ہے کہ تماشا ہے کائنات اس کی چراغ ہجر سے روشن رہے گی رات اس کی زمین ہو کہ زماں سب اسی کے مہرے ہیں بچھی ہوئی ہے بہت دور تک بساط اس کی ہمارے ساتھ بھی ہوتے ہیں تجربے اس کے ہمارے حال میں شامل ہے واردات اس کی شکست و فتح میں کیا فرق ہے نہیں معلوم یہ کیا کہ جیت ہماری ہے اور مات اس ...

مزید پڑھیے

تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو

تمہارے چاک پر اے کوزہ گر لگتا ہے ڈر ہم کو عجب پاگل سی اک پرچھائیں آتی ہے نظر ہم کو یہ کیسی بات ہے دن کی گھڑی ہے اور اندھیرا ہے چمکتی دھوپ میں سونا پڑا ہے رات بھر ہم کو ہمیں گھر سے نکالا تھا تو یہ بھی سوچ لینا تھا کہ صاحب پھر کبھی آنا نہیں ہے لوٹ کر ہم کو ابھی تھوڑا سا شاید اور کچھ ...

مزید پڑھیے

ہجر کا قصہ بہت لمبا نہیں بس رات بھر ہے

ہجر کا قصہ بہت لمبا نہیں بس رات بھر ہے ایک سناٹا مگر چھایا ہوا احساس پر ہے اک سمندر بے حسی کا ایک کشتی آرزو کی ہائے کتنی مختصر لوگوں کی روداد سفر ہے میں ازل سے چل رہا ہوں تھک گیا ہوں سوچتا ہوں کیا تری دنیا میں ہر منزل نشان رہ گزر ہے اس فصیل غم کو سر کرنے پہ بھی کیا مل سکے گا ایک ...

مزید پڑھیے

سفر نصیب اگر ہو تو یہ بدن کیوں ہے

سفر نصیب اگر ہو تو یہ بدن کیوں ہے دیار غیر تمہارے لئے وطن کیوں ہے ہوائے شبنم و گل ہے تو بے خودی کیسی حصار ذات میں آشوب ما و من کیوں ہے بس ایک عکس نظارہ ہے انکشاف وجود کلاہ شیشہ گراں میں یہ بانکپن کیوں ہے نشاط بے طلبی جادۂ نجات ہوا خبر نہیں کہ اسی راہ میں چمن کیوں ہے لباس خاک شفق ...

مزید پڑھیے

کئی راتوں سے بس اک شور سا کچھ سر میں رہتا ہے

کئی راتوں سے بس اک شور سا کچھ سر میں رہتا ہے کہ وہ بت بھی نہیں پھر کس طرح پتھر میں رہتا ہے وہاں صحرا بھی ہے جنگل بھی دریا بھی چٹانیں بھی عجب دنیا بسا رکھی ہے وہ جس گھر میں رہتا ہے کھلے گی دھوپ جب پرچھائیاں پیڑوں سے نکلیں گی یہ منظر بھی اسی سمٹے ہوئے منظر میں رہتا ہے بلند و پست کی ...

مزید پڑھیے

وہ ایک شور سا زنداں میں رات بھر کیا تھا

وہ ایک شور سا زنداں میں رات بھر کیا تھا مجھے خود اپنے بدن میں کسی کا ڈر کیا تھا کوئی تمیز نہ کی خون کی شرارت نے اک ابر او باد کا طوفاں تھا دشت و در کیا تھا زمیں پہ کچھ تو ملا چند الجھنیں ہی سہی کوئی نہ جان سکا آسمان پر کیا تھا مرے زوال کا ہر رنگ تجھ میں شامل ہے تو آج تک مری حالت سے ...

مزید پڑھیے

اس طرح عشق میں برباد نہیں رہ سکتے

اس طرح عشق میں برباد نہیں رہ سکتے اتنے قصے تو ہمیں یاد نہیں رہ سکتے ہم محبت کے خرابوں کے مکیں ہیں پھر بھی عمر بھر مائل فریاد نہیں رہ سکتے آپ ہی آپ کھنچے جاتے ہیں اپنی جانب لوگ چاہیں بھی تو آزاد نہیں رہ سکتے ایک آواز سی آتی ہے عجب کانوں میں شہر اب دیر تک آباد نہیں رہ سکتے

مزید پڑھیے

شعلہ شعلہ تھی ہوا شیشۂ شب سے پوچھو

شعلہ شعلہ تھی ہوا شیشۂ شب سے پوچھو یا مرا حال مری تاب طلب سے پوچھو جانے کس موڑ پہ ان آنکھوں نے موتی کھوئے بستیاں دید کی ویران ہیں کب سے پوچھو راستے لوگوں کو کس سمت لیے جاتے ہیں کیا خبر کون بتا پائے گا سب سے پوچھو دن نکلتے ہی ستاروں کے سفینے ڈوبے دل کے بجھنے کا سبب موج طرب سے ...

مزید پڑھیے

سمجھ سکے نہ جسے کوئی بھی سوال ایسا

سمجھ سکے نہ جسے کوئی بھی سوال ایسا بنا ہے سانس کے دھاگوں نے ایک جال ایسا کبھی دماغ تھا مجھ کو بھی خود پرستی کا پلٹ کے ذہن میں آیا نہ پھر خیال ایسا میں آسماں تو نہ تھا جس میں چاند چھپ جاتے ہوا نہ ہوگا کسی کا کبھی زوال ایسا تمام عمر نئے لفظ کی تلاش رہی کتاب درد کا مضموں تھا پائمال ...

مزید پڑھیے
صفحہ 649 سے 4657