شاعری

جاتے کہاں جنون کے طوفاں میں آ گئے

جاتے کہاں جنون کے طوفاں میں آ گئے آخر کو چارہ گر مرے زنداں میں آ گئے وہ شور و غل وہ شہر کا طوفان زندگی اچھے رہے وہی جو بیاباں میں آ گئے وہ ان کی سیر باغ وہ ذوق بہار ناز پھول آپ ٹوٹ ٹوٹ کے داماں میں آ گئے اس گل کی آرزو میں خلش اس قدر ہے کیوں کانٹے کہاں سے حسرت و ارماں میں آ گئے جو ...

مزید پڑھیے

با وفائی کی ادا پانے لگا ہوں تجھ میں

با وفائی کی ادا پانے لگا ہوں تجھ میں اے جفا دوست یہ کیا دیکھ رہا ہوں تجھ میں تو نے اب تک مجھے کانٹوں کے سوا کچھ نہ دیا میں تو اک پھول کی مانند کھلا ہوں تجھ میں تو وہ دریا ہے کہ جس کا کوئی ساحل ہی نہیں میں سفینے کی طرح ڈوب گیا ہوں تجھ میں میرا دعویٰ ہے کہ تو نے بھی نہ دیکھے ہوں ...

مزید پڑھیے

آج جینے کی کچھ امید نظر آئی ہے

آج جینے کی کچھ امید نظر آئی ہے مدتوں بعد تری راہ گزر آئی ہے زندگی کا کوئی احساس ہی باقی نہ رہا زندگی لے کے مجھے آج کدھر آئی ہے آپ دیکھیں تو ذرا خون تمنا کی بہار کتنی سرخی مری آنکھوں میں اتر آئی ہے کس کے پیراہن رنگیں کی مہک ہے اس میں آج یہ باد صبا ہو کے کدھر آئی ہے تو نے خود ترک ...

مزید پڑھیے

ہمارے ساتھ جسے موت سے ہو پیار چلے

ہمارے ساتھ جسے موت سے ہو پیار چلے کوئی چلے نہ چلے ہم تو سوئے دار چلے نہ دور جام نہ اب قصۂ بہار چلے انہیں کا ذکر چلے اور بار بار چلے رخ زمانہ بدلنے چلے تھے دیوانے ترے حضور مگر کس کا اختیار چلے حیات عشق کا حاصل تھے بس وہی لمحے جو تیری انجمن ناز میں گزار چلے ادھر منائے گئے خوب ...

مزید پڑھیے

آ ہی جاتی ہے کبھی اپنے سکون دل کی یاد

آ ہی جاتی ہے کبھی اپنے سکون دل کی یاد درمیان قعر دریا جیسے ہو ساحل کی یاد دل کو کچھ الفت سی ہے ماضی کے صبح و شام سے اپنی تنہائی کی ہو یا آپ کی محفل کی یاد رخ پہ زلفیں ہیں پریشاں کچھ فسردہ سے ہیں وہ آ گئی ہے بھول کر شاید کسی بسمل کی یاد مٹ گئے ہم جس نگاہ ناز کے اک وار سے دل میں ...

مزید پڑھیے

فسانۂ غم دل آپ کو سنا دیتے

فسانۂ غم دل آپ کو سنا دیتے غرور حسن کو ہم اور کچھ بڑھا دیتے نگاہ شوق پہ الزام حشر آ جاتا جو آپ حشر سے پہلے نقاب اٹھا دیتے نگاہ ناز سے اک بار دیکھ لیتے ادھر تمہاری نظروں کو ہم عمر بھر دعا دیتے خطا معاف نہ ہوتی یہ گرمی محفل ہم اپنا دل نہ اگر شمع ساں جلا دیتے متاع زیست اسی درد کو ...

مزید پڑھیے

فرصت ہو تو سن لیجے بیتا ہوا افسانہ (ردیف .. ا)

فرصت ہو تو سن لیجے بیتا ہوا افسانہ کیوں ہوش گنوا بیٹھا یہ آپ کا دیوانہ تم ہی تو تمنا ہو ہر شیخ و برہمن کی سجدہ تمہیں کرتے ہیں کعبہ ہو کہ بت خانہ طوفان محبت کا خاموش تھا مدت سے کیوں آج چھلک اٹھا یہ صبر کا پیمانہ ہم آتش الفت میں اس طور سے جلتے ہیں خود شمع ہیں محفل میں اور آپ ہی ...

مزید پڑھیے

میرا سر آپ کے قدموں پہ جھکا آج کے دن

میرا سر آپ کے قدموں پہ جھکا آج کے دن اپنی قسمت پہ مجھے ناز ہوا آج کے دن جھوم کر کالی گھٹا چھا گئی ہر چار طرف کس نے زلفوں کو پریشان کیا آج کے دن سارا عالم ہے مرے دیدۂ حیراں کی مثال جلوہ گر کون سر بزم ہوا آج کے دن نگہ شوق ترے رخ سے ہٹائی نہ گئی دل میں ایک درد نیا اور اٹھا آج کے دن ہو ...

مزید پڑھیے

وعدے پر اعتبار کی گھڑیاں

وعدے پر اعتبار کی گھڑیاں اضطراب و قرار کی گھڑیاں دل کی دھڑکن پہ گن رہے ہیں ہم آپ کے انتظار کی گھڑیاں کچھ یقیں کچھ گماں میں کاٹی ہیں ہم نے لیل و نہار کی گھڑیاں یاد ماضی امید مستقبل دل کے غرق اور ابھار کی گھڑیاں ہیں میسر جنوں کے صدقے میں دشت میں بھی بہار کی گھڑیاں آپ کی ایک نظر ...

مزید پڑھیے

کوئی شے ڈوبے تو دریا میں لہر جاگے ہے

کوئی شے ڈوبے تو دریا میں لہر جاگے ہے کب اذاں مرغ کے دینے سے سحر جاگے ہے کنکری مارے سے پانی میں اثر جاگے ہے اک ذرا خواہش پرواز سے پر جاگے ہے ان کو منبر کی بلندی سے تشفی نہ ہوئی جن کی آواز پہ تحریک کا سر جاگے ہے نیند کی کائی سے بوجھل ہے ہر اک آنکھ مگر سنگ کے خوف سے شیشے کا نگر جاگے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 646 سے 4657