شاعری

سفینہ وہ کبھی شایان ساحل ہو نہیں سکتا

سفینہ وہ کبھی شایان ساحل ہو نہیں سکتا جو ہر طوفاں سے ٹکرانے کے قابل ہو نہیں سکتا گزر جائے جو آداب جنوں سے تیری محفل میں وہ دیوانہ تری محفل کے قابل ہو نہیں سکتا حوادث کے تھپیڑوں سے الجھ طوفاں سے ٹکرا جا کہ غم جب تک نہ ہو انسان کامل ہو نہیں سکتا مجھے طغیانیوں سے کھیلنا آتا ہے ہنس ...

مزید پڑھیے

جب شکایت تھی کہ طوفاں میں سہارا نہ ملا

جب شکایت تھی کہ طوفاں میں سہارا نہ ملا اب کنارے پہ بھی آئے تو کنارا نہ ملا بے سہاروں کو کہیں کوئی سہارا نہ ملا کوئی طوفاں نہ ملا کوئی کنارا نہ ملا ہاتھ اٹھے ہی نہیں ساغر و مینا کی طرف ہم کو جب تک تری آنکھوں کا اشارا نہ ملا چل نہ سکتا تھا کبھی اہل ہوس کا جادو تجھ کو اے دوست کوئی ...

مزید پڑھیے

ترے اہل درد کے روز و شب اسی کشمکش میں گزر گئے

ترے اہل درد کے روز و شب اسی کشمکش میں گزر گئے کبھی غم میں ڈوب کے رہ گئے کبھی ڈوبتے ہی ابھر گئے یہ مقام عشق ہے کون سا نہ شکایتیں ہیں نہ شکریہ جو ترے ستم پہ نثار تھے وہ ترے کرم سے بھی ڈر گئے سر راہ دیر و حرم کہیں جو ملے بھی ہوں تو عجب نہیں ہمیں کیا خبر تری جستجو میں کہاں کہاں سے گزر ...

مزید پڑھیے

نہ پوچھ کب سے یہ دم گھٹ رہا ہے سینے میں

نہ پوچھ کب سے یہ دم گھٹ رہا ہے سینے میں کہ موت کا سا مزہ آ رہا ہے جینے میں نہ جانے کیوں یہ تلاطم ڈبو نہیں دیتا کہ ناخدا بھی نہیں اب مرے سفینے میں قدم قدم پہ بچایا ہے ٹھوکروں سے مگر خراش آ ہی گئی دل کے آبگینے میں مہک رہی ہے صبا صبح سے نہ جانے کیوں نہا کے آئی ہے شاید ترے پسینے ...

مزید پڑھیے

جب صبح کا منظر ہوتا ہے یا چاندنی راتیں ہوتی ہیں

جب صبح کا منظر ہوتا ہے یا چاندنی راتیں ہوتی ہیں اس وقت تصور میں ان سے کچھ اور ہی باتیں ہوتی ہیں جب دل سے دل مل جاتا ہے وہ دور محبت آہ نہ پوچھ کچھ اور ہی دن ہو جاتے ہیں کچھ اور ہی راتیں ہوتی ہیں طوفان کی موجوں میں گھر کر پہونچا بھی ہے کوئی ساحل تک سب یاس کے عالم میں دل کو سمجھانے کی ...

مزید پڑھیے

دنیائے محبت میں ہم سے ہر اپنا پرایا چھوٹ گیا

دنیائے محبت میں ہم سے ہر اپنا پرایا چھوٹ گیا اب کیا ہے جس پر ناز کریں اک دل تھا وہ بھی ٹوٹ گیا ساقی کے ہاتھ سے مستی میں جب کوئی ساغر چھوٹ گیا مے خانے میں یہ محسوس ہوا ہر میکش کا دل ٹوٹ گیا جب دل کو سکوں ہی راس نہ ہو پھر کس سے گلہ ناکامی کا ہر بار کسی کا ہاتھوں میں آیا ہوا دامن چھوٹ ...

مزید پڑھیے

جو ہنس ہنس کے ہر غم گوارا کرے ہے

جو ہنس ہنس کے ہر غم گوارا کرے ہے یہ ہمت بھی اک غم کا مارا کرے ہے کنارا بھی جس سے کنارا کرے ہے مدد اس کی طوفاں کا دھارا کرے ہے جو دیر و حرم سے کنارا کرے ہے ہر اک شے میں تیرا نظارا کرے ہے پڑا ہے جو دیوانہ تیری گلی میں خدا جانے کس کو پکارا کرے ہے ترے ساتھ ہنس کر گزاری ہے جس نے وہ اب ...

مزید پڑھیے

ساحل پہ لائی اور سفینے ڈبو دیے

ساحل پہ لائی اور سفینے ڈبو دیے یوں زندگی نے ہم کو ہنسایا کہ رو دیے اہل چمن نے جشن بہاراں کے نام سے وہ داستاں سنائی کہ دامن بھگو دیے ضبط غم فراق کی مجبوریاں نہ پوچھ دل میں کسی کا نام لیا اور رو دیے فریاد کی ہے بات مگر اب سنے گا کون اک ناخدا نے کتنے سفینے ڈبو دیے اے وائے سعیٔ ضبط ...

مزید پڑھیے

کیوں ہمیں موت کے پیغام دئے جاتے ہیں

کیوں ہمیں موت کے پیغام دئے جاتے ہیں یہ سزا کم تو نہیں ہے کے جیے جاتے ہیں ہم ہیں ایک شمع مگر دیکھ کے بجھتے بجھتے روشنی کتنے اندھیروں کو دئے جاتے ہیں نشہ دونوں میں ہے ساقی مجھے غم دے کے شراب مے بھی پی جاتی ہے آنسو بھی پئے جاتے ہیں ان کے قدموں پہ نہ رکھ سر کے ہے یہ بے ادبی پائے نازک ...

مزید پڑھیے

الفت میں بگڑ کر بھی اک وضع نکالی ہے

الفت میں بگڑ کر بھی اک وضع نکالی ہے دیوانے کی سج دھج ہی دنیا سے نرالی ہے ڈالی ہے دو عالم پر مٹی ابھی ڈالی ہے بس کچھ نہیں اب ہم میں یا ہمت عالی ہے ملتی ہے بڑی راحت اک خاک نشینی میں میں نے تو طبیعت ہی مٹی کی بنا لی ہے اس گھر میں بہت کم ہے اب آمد و رفت اس کی دنیا کی طرف ہم نے دیوار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 645 سے 4657