بے گناہی کا ہر احساس مٹا دے کوئی
بے گناہی کا ہر احساس مٹا دے کوئی مجھ کو اس دور میں جینے کی سزا دے کوئی نقش یادوں کے سبھی دل سے مٹا دے کوئی ہوش میں ہوں مجھے دیوانہ بنا دے کوئی کوئی اس شہر میں سنتا نہیں دل کی آواز کس توقع پہ کہیں جا کے صدا دے کوئی آج بھی جن کو ہے اپنوں سے وفا کی امید میری تصویر انہیں جا کے دکھا دے ...