شاعری

دیواروں میں در رکھتے ہیں

دیواروں میں در رکھتے ہیں روشن ہر منظر رکھتے ہیں سیج سجاتے ہیں پھولوں کی کانٹوں کا بستر رکھتے ہیں اپنے اندر سو ہنگامے گم گم بام و در رکھتے ہیں دیواریں ہیں قدم قدم پر جس بستی میں گھر رکھتے ہیں کچھ بھی ہوں چیزوں کی شکلیں ہم بھی ایک نظر رکھتے ہیں گرمی سردی کا اندازہ بے گھر ہی ...

مزید پڑھیے

نئی فضا میں رہے ہم نئے سفر میں رہے

نئی فضا میں رہے ہم نئے سفر میں رہے یہ اور بات کہ اپنے ہی بال و پر میں رہے ہوا تھی اپنی مخالف کہ تیرگی تھی حریف چراغ بن کے جلے اور رہ گزر میں رہے مذاق در بدری ہر قدم کے ساتھ رہا سفر میں جب نہ رہے خواہش سفر میں رہے مخالفت میں کسی کی جو تیرے ساتھ ہوئے یہ مت سمجھ کہ تیرے حلقۂ اثر میں ...

مزید پڑھیے

رحم اے غم جاناں بات آ گئی یاں تک

رحم اے غم جاناں بات آ گئی یاں تک دشت گردش دوراں اور مرے گریباں تک اک ہمیں لگائیں گے خار و خس کو سینے سے ورنہ سب چمن میں ہیں موسم بہاراں تک میری دستک وحشت آج روک لو ورنہ فاصلہ بہت کم ہے ہاتھ سے گریباں تک ہے شمیمؔ ازل ہی سے سلسلہ محبت کا حلقۂ سلاسل سے گیسوئے پریشاں تک

مزید پڑھیے

ہر نفس دیدۂ دل میں تری یادوں کا ہجوم

ہر نفس دیدۂ دل میں تری یادوں کا ہجوم ہر گھڑی مجھ پہ قیامت کا گزر نا معلوم آنکھ سے دل میں اترتی ہوئی یادوں کی برات دشت تنہائی میں ٹوٹے ہوئے تاروں کا ہجوم اس قدر پاس کہ جیسے مرے دل کی آواز اس قدر دور کہ جیسے ہو صدائے موہوم اے دل‌ خاک‌ بسر تیری تباہی تسلیم ہاں دل سادہ نظر تیری ...

مزید پڑھیے

کتنی مشکل سے غم دوست بیاں ہوتا ہے

کتنی مشکل سے غم دوست بیاں ہوتا ہے اشک تھمتا ہے نہ آنکھوں سے رواں ہوتا ہے مطرب وقت کا آہنگ بدل دیتا ہوں جب ترے عارض و گیسو کا بیاں ہوتا ہے رنگ و بو بن کے جو اڑتا ہے شبستانوں میں وہ بھی حسرت کے چراغوں کا دھواں ہوتا ہے زندگی جبر کے دامن میں جنم لیتی ہے آدمی دار کے سائے میں جواں ہوتا ...

مزید پڑھیے

یہ کس کا جلوۂ حیرت فزا نگاہ میں ہے

یہ کس کا جلوۂ حیرت فزا نگاہ میں ہے کہ پائے شوق گزر گاہ مہر و ماہ میں ہے ہزار منزل راہ جنوں تمام ہوئی ہزار منزل اہل جنوں نگاہ میں ہے بلندیوں سے گزر کر خرد کا حال نہ پوچھ بس اک غبار تحیر لیے نگاہ میں ہے عزیز تر تری باتیں کہ اس سکوت کے ساتھ تمام شوخیٔ لفظ و بیاں نگاہ میں ہے فروغ ...

مزید پڑھیے

یہ کیا انداز ہیں دست جنون فتنہ ساماں کے

یہ کیا انداز ہیں دست جنون فتنہ ساماں کے اڑائے جا رہے ہیں چاک کیوں صحرا کے داماں کے ابھی تم نے نہیں دیکھے شرارے آہ سوزاں کے ابھی شعلے کہاں بھڑکے ہیں دل میں درد پنہاں کے حوادث کی ہواؤں نے گھٹا دی لو محبت کی دیئے مدھم سے ہوتے جا رہے ہیں بزم جاناں کے وفا کے گل ہی وہ گل ہیں کہ جو دائم ...

مزید پڑھیے

روشنی لینے چلے تھے اور اندھیرے چھا گئے

روشنی لینے چلے تھے اور اندھیرے چھا گئے مسکرانے بھی نہ پائے تھے کہ آنسو آ گئے آج کتنے دوست مجھ کو دیکھ کر کترا گئے اللہ اللہ اب محبت میں یہ دن بھی آ گئے جب بھی آیا ہے کسی کو بھول جانے کا خیال یک بیک آواز آئی لیجئے ہم آ گئے آہ وہ منزل جو میری غفلتوں سے گم ہوئی ہائے وہ رہبر جو مجھ کو ...

مزید پڑھیے

آج میری شب فرقت کی سحر آئی ہے

آج میری شب فرقت کی سحر آئی ہے مدتوں بعد تری راہ گزر آئی ہے دیکھ تو لیجے مرے خون تمنا کی بہار جس کی سرخی مری آنکھوں میں اتر آئی ہے تو نے تو ترک محبت کی قسم کھائی تھی کیوں تری آنکھ مجھے دیکھ کے بھر آئی ہے ان کے پیراہن رنگیں کی مہک ہے اس میں آج کیا باد صبا ہو کے ادھر آئی ہے اس میں ...

مزید پڑھیے

گو تہی دامن ہوں لیکن غم نہیں

گو تہی دامن ہوں لیکن غم نہیں تیرے دامن کا سہارا کم نہیں آج ہی یہ بات اے ہمدم نہیں ایک مدت سے کوئی عالم نہیں جز ترے دل میں کسی کا غم نہیں تجھ سے اتنا رابطہ بھی کم نہیں جب قدم اٹھے تو رکتے ہیں کہیں آج منزل ہی نہیں یا ہم نہیں آنکھ ہم آشفتہ حالوں سے ملائے گردش دوراں میں اتنا دم ...

مزید پڑھیے
صفحہ 643 سے 4657