شاعری

میسر عشق میں صبر و قرار دل نہیں ہوتا

میسر عشق میں صبر و قرار دل نہیں ہوتا جہاں طوفان ہوتا ہے وہاں ساحل نہیں ہوتا اگر کوشش نہ کی جائے تو کچھ حاصل نہیں ہوتا کہ بے سعیٔ عمل تعمیر مستقبل نہیں ہوتا نہیں ہوتا جسے احساس اوروں کی مصیبت کا وہ اک پتھر تو ہو سکتا ہے لیکن دل نہیں ہوتا حدیں میرے جنون شوق کی ہیں کس قدر آگے سر ...

مزید پڑھیے

کتنا دل کش فریب ہستی ہے

کتنا دل کش فریب ہستی ہے زندگی موت کو ترستی ہے یہ نشیب و فراز ہستی ہے ہر بلندی کو ایک پستی ہے دیکھ کر کیا کرو گے دل کی طرف ایک اجڑی ہوئی سی بستی ہے موت آ کر جسے اٹھائے گی زندگی وہ حجاب ہستی ہے جان دے کر ملے جو اس کی رضا پھر بھی مہنگی نہیں ہے سستی ہے رخ گھٹا کا ہے سوئے مے ...

مزید پڑھیے

ان کی صورت نظر نہیں آتی

ان کی صورت نظر نہیں آتی شب غم کی سحر نہیں آتی یوں تو گردش میں ہے نظر ان کی ہم جدھر ہیں ادھر نہیں آتی قتل بیمار کو کرو آ کر چارہ سازی اگر نہیں آتی آنے والی تو تھی مگر کب تک موت کی کچھ خبر نہیں آتی جمع ہیں میکدے میں متوالے کیوں گھٹا جھوم کر نہیں آتی کون سی وہ بلا ہے ہجر کی شب جو ...

مزید پڑھیے

مقدر اپنا برگشتہ مخالف آسماں اپنا

مقدر اپنا برگشتہ مخالف آسماں اپنا وہ کیا روٹھا کہ دشمن ہو گیا سارا جہاں اپنا الٰہی ہو گیا بے وجہ دشمن باغباں اپنا کہاں لے جائیں گلشن سے اٹھا کر آشیاں اپنا بگڑ جائے نہ گلچیں ہے زمانے کی ہوا بگڑی بنایا تو ہے بلبل شاخ گل پر آشیاں اپنا فسانہ بن کے اپنا عشق دنیا کی زباں پر ہے دیا ...

مزید پڑھیے

دل اگر داغ دار ہو جاتا

دل اگر داغ دار ہو جاتا اک سراپا بہار ہو جاتا دامن صبر ہجر کے ہاتھوں کیوں نہ یوں تار تار ہو جاتا وائے مجبوریاں محبت کی ضبط پر اختیار ہو جاتا میں نے یوں شکوۂ جفا نہ کیا وہ اگر شرمسار ہو جاتا پاس ہوتا اگر وہ جان بہار بے نیاز بہار ہو جاتا اک نگاہ کرم جو ہو جاتی پھر تو بیڑا ہی پار ...

مزید پڑھیے

چمن چمن ہی نہیں ہے جو لالہ زار نہیں

چمن چمن ہی نہیں ہے جو لالہ زار نہیں ہم اس کو دل نہیں کہتے جو داغدار نہیں میں چل رہا ہوں زمانے کے ساتھ ساتھ مگر فضا زمانے کی پھر بھی تو سازگار نہیں رقیب جھوٹ کہے گا تو سچ سمجھ لو گے کہیں گے سچ بھی اگر ہم تو اعتبار نہیں میں ان کے حسن کو الزام دینے والا کون جب اپنے دل پہ مجھے خود ہی ...

مزید پڑھیے

غم دوست کو آسائش دنیا سے غرض کیا

غم دوست کو آسائش دنیا سے غرض کیا بیمار محبت کو مسیحا سے غرض کیا سر تا بہ قدم بندۂ تسلیم و رضا ہوں مجھ عاشق صادق کو تمنا سے غرض کیا کوچہ ہے ترا اور ہے دن رات کا چکر وحشی کو ترے گلشن و صحرا سے غرض کیا وعدہ نہ کرو جلوۂ دیدار دکھاؤ امروز کے مشتاق کو فردا سے غرض کیا تم باغ میں جاتے ہو ...

مزید پڑھیے

عشق کو کامیاب ہونا تھا

عشق کو کامیاب ہونا تھا آپ کو بے نقاب ہونا تھا کیا شکایت ترے تغافل کی ختم میرا شباب ہونا تھا آپ نے ہوش کھو دئے میرے آج ہی بے نقاب ہونا تھا کیوں نہ دل چھین کر وہ لے جاتے زندگی کو خراب ہونا تھا ان حسینوں کے ظلم سہنے کو میرا ہی انتخاب ہونا تھا کیوں زلیخا کا خواب بن نہ گیا گر مجھے ...

مزید پڑھیے

مجھے بخشی خدا نے کون روکے گا زباں میری

مجھے بخشی خدا نے کون روکے گا زباں میری تمہیں ہر حال میں سننی پڑے گی داستاں میری کبھی تو شاہراہ زندگی تھی کہکشاں میری مگر اب کارواں میرا نہ گرد کارواں میری ابھی لوگوں کے دل میں خار کی صورت کھٹکتا ہوں ابھی تک یاد ہے اہل چمن کو داستاں میری مرے گزرے ہوئے تیور ابھی بھولی نہیں ...

مزید پڑھیے

مجھ سے روٹھی مری تقدیر تھی وہ آج بھی ہے

مجھ سے روٹھی مری تقدیر تھی وہ آج بھی ہے آہ بیگانۂ تاثیر تھی وہ آج بھی ہے آپ کی چشم عنایت کے تصرف کی قسم بزم کی بزم جو دلگیر تھی وہ آج بھی ہے انقلابات کی یورش ہے الٰہی توبہ دل میں اک حسرت تعمیر تھی وہ آج بھی ہے وسعت خواب ازل اتنی سمجھ میں آئی روشنی کوشش تعبیر تھی وہ آج بھی ہے اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 621 سے 4657