گر کے قدموں پہ سر بزم تڑپنا دیکھا
گر کے قدموں پہ سر بزم تڑپنا دیکھا مرنے والے کا مری جان تماشا دیکھا اک جہاں تیرا تماشائی ہے سب کو ہے خبر آئینہ دیکھ کے مجھ کو یہ بتا کیا دیکھا کھول کر نامہ مرا اس نے پڑھا بھی کہ نہیں نامہ بر میری طرف سے اسے کیسا دیکھا دل جسے کہتے ہیں پہلو میں کبھی وہ ہوگا ہم نے تو دل کی جگہ داغ ...