شاعری

گر کے قدموں پہ سر بزم تڑپنا دیکھا

گر کے قدموں پہ سر بزم تڑپنا دیکھا مرنے والے کا مری جان تماشا دیکھا اک جہاں تیرا تماشائی ہے سب کو ہے خبر آئینہ دیکھ کے مجھ کو یہ بتا کیا دیکھا کھول کر نامہ مرا اس نے پڑھا بھی کہ نہیں نامہ بر میری طرف سے اسے کیسا دیکھا دل جسے کہتے ہیں پہلو میں کبھی وہ ہوگا ہم نے تو دل کی جگہ داغ ...

مزید پڑھیے

رخ نظر کا کبھی ادھر نہ ہوا

رخ نظر کا کبھی ادھر نہ ہوا دل کو حسرت رہی جگر نہ ہوا ہجر کی شب تو جان لیوا تھی دن جدائی کا بھی بسر نہ ہوا اس کے الفاظ دل میں چبھتے ہیں کوئی فقرہ بھی بے اثر نہ ہوا بزم میں سو مقام بدلے ہیں رخ تمہارا کبھی ادھر نہ ہوا وصل لکھا تھا میری قسمت میں بے کسی دیکھیے مگر نہ ہوا ہجر نے دم پہ ...

مزید پڑھیے

گلشن میں جنوں کا مجھے ساماں نظر آیا

گلشن میں جنوں کا مجھے ساماں نظر آیا جو پھول کھلا چاک گریباں نظر آیا ہر شے میں ترا حسن درخشاں نظر آیا جس چیز کو دیکھا مہ تاباں نظر آیا جس نے اسے دیکھا وہ گرفتار بلا تھا تصویر کا آئینہ بھی حیراں نظر آیا یا رب کوئی حد بھی ہے پریشان نظر کی فرقت میں چمن مجھ کو بیاباں نظر آیا گلشن ...

مزید پڑھیے

آؤ تو بہل جائے میرا دل دیوانہ

آؤ تو بہل جائے میرا دل دیوانہ گلشن ہے بہاراں ہے لبریز ہے پیمانہ جب غور سے سنتے ہیں وہ عشق کا افسانہ کس طرح مچلتا ہے میرا دل دیوانہ آنکھ اٹھنے لگی تیری اور شرم ذرا کم ہو شیشے میں دکھا دوں گا پھر تجھ کو پری خانہ اس شوخ نگاہی کی تعریف نہیں ممکن لڑتی ہے نظر جس سے بن جاتی ہے ...

مزید پڑھیے

برا کہنے سے مجھ کو مدعا کیا

برا کہنے سے مجھ کو مدعا کیا کوئی پوچھے تو اس نے یہ کہا کیا سنیں ہم بھی کہ دشمن نے کہا کیا بھلا جھوٹی شکایت کا گلا کیا محبت کی یہ باتیں ہیں مری جاں وفا کی ابتدا کیا انتہا کیا نہ کیجے مجھ سے غیروں کی شکایت بھلا دی آپ نے طرز وفا کیا سنا ہے قیس تھا لیلیٰ کا عاشق محبت ہو تو پھر اچھا ...

مزید پڑھیے

رنگ لائے گی التجا میری

رنگ لائے گی التجا میری سن ہی لے گا کبھی خدا میری ضبط غم کو دعائیں دیتا ہوں رہ گئی گھٹ کے ہر صدا میری اس کی بندہ نوازیاں دیکھو بخش دیتا ہے ہر خطا میری سننے والوں کے دل تڑپ اٹھے ساز غم بن گئی صدا میری وصل ممکن نہیں وصال سہی اب تو کچھ اور ہے دعا میری بے سہاروں کا آسرا تو ہے کون ...

مزید پڑھیے

ہر نظر آشنا نہیں ہوتی

ہر نظر آشنا نہیں ہوتی لطف میں کیا جفا نہیں ہوتی وصل کی بھی دعا نہیں ہوتی ہم سے اب التجا نہیں ہوتی ساری دنیا کے کام آتے ہیں ایک تم سے وفا نہیں ہوتی دل میں اک آرزو ہے برسوں سے لفظ بن کر ادا نہیں ہوتی عشق تو ایک ہی سے ہوتا ہے ساری دنیا خدا نہیں ہوتی ٹھوکروں میں تری قیامت تھی اب ...

مزید پڑھیے

سوز دل سے پر نم ہو گئی

سوز دل سے پر نم ہو گئی اب تو یہ آتش بھی شبنم ہو گئی جب طبیعت خوگر غم ہو گئی رفتہ رفتہ ہر خلش کم ہو گئی زخم دل کے ہو چکے تھے لا علاج اک نگاہ لطف مرہم ہو گئی ہے محبت کا یہ معراج کمال زندگی خود تشنۂ غم ہو گئی کر چکے ہیں ان سے ہم عہد و وفا اور یہ زنجیر محکم ہو گئی غم پہ تھا سارا مدار ...

مزید پڑھیے

آہ شرمندۂ اثر نہ ہوئی

آہ شرمندۂ اثر نہ ہوئی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی ملتفت آپ کی نظر نہ ہوئی شاخ امید بارور نہ ہوئی ہم نے دن جس جگہ گزار دیا رات اپنی وہاں بسر نہ ہوئی عیب اوروں کے ڈھونڈتے ہیں ہم اپنے افعال پر نظر نہ ہوئی قصۂ غم اگر نہ تھا کوتاہ زندگانی بھی مختصر نہ ہوئی رہ گئی دل میں داغ دل بن ...

مزید پڑھیے

کہاں کہاں تری رنگینئ شباب نہیں

کہاں کہاں تری رنگینئ شباب نہیں مرا مذاق نظر پھر بھی کامیاب نہیں کسی نظر میں تمہیں دیکھنے کی تاب نہیں نقاب رخ بھی الٹ دو تو بے نقاب نہیں وہ سن کے عرض تمنا کو ہو گئے خاموش مرے سوال کا شاید کوئی جواب نہیں کچھ اور مست نگاہوں سے دیکھ اے ساقی بقدر ظرف ابھی نشۂ شراب نہیں بڑے بڑوں کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 620 سے 4657