آنسو مری آنکھوں سے ٹپک جائے تو کیا ہو
آنسو مری آنکھوں سے ٹپک جائے تو کیا ہو طوفاں کوئی پھر آ کے دھمک جائے تو کیا ہو بس اس لیے رہبر پہ نہیں مجھ کو بھروسہ بدھو ہے وہ خود راہ بھٹک جائے تو کیا ہو اچھی یہ تصور کی نہیں دست درازی انگیا کہیں اس بت کی مسک جائے تو کیا ہو واعظ یہ گلستاں یہ بہاریں یہ گھٹائیں ساغر کوئی ایسے میں ...