شاعری

آنسو مری آنکھوں سے ٹپک جائے تو کیا ہو

آنسو مری آنکھوں سے ٹپک جائے تو کیا ہو طوفاں کوئی پھر آ کے دھمک جائے تو کیا ہو بس اس لیے رہبر پہ نہیں مجھ کو بھروسہ بدھو ہے وہ خود راہ بھٹک جائے تو کیا ہو اچھی یہ تصور کی نہیں دست درازی انگیا کہیں اس بت کی مسک جائے تو کیا ہو واعظ یہ گلستاں یہ بہاریں یہ گھٹائیں ساغر کوئی ایسے میں ...

مزید پڑھیے

کیا جو اعتبار ان پر مریض شام ہجراں نے

کیا جو اعتبار ان پر مریض شام ہجراں نے ٹھنڈائی میں دھتورا دے دیا عیسئ دوراں نے پھرایا در بدر ان کو جہاں بانی کے ارماں نے نچایا خوب یہ بندر جنون فتنہ ساماں نے فجور و فسق کی تاریکیوں میں جب کوئی بھٹکا دکھائی دور سے ہی اس کو لائٹ اس کے ایماں نے سکوں ملتا ہے ان کو اور نہ ہم کو چین ...

مزید پڑھیے

گن کے دیتا ہے بلا نوشوں کو پیمانہ ابھی

گن کے دیتا ہے بلا نوشوں کو پیمانہ ابھی واقعی بالکل گدھا ہے پیر مے خانہ ابھی گفتگو کرتے ہیں باہم جام و پیمانہ ابھی قابل ترمیم ہے آئین مے خانہ ابھی ہو نہ کیوں کر واردات قتل روزانہ ابھی کوئے قاتل میں نہیں چوکی ابھی تھانہ ابھی دیکھتے تو ہیں وہ ہر شے بے نیازانہ ابھی رال گرتی ہے مگر ...

مزید پڑھیے

اے ہم سفیر تلخئ طرز بیاں نہ چھوڑ

اے ہم سفیر تلخئ طرز بیاں نہ چھوڑ تو گالیاں دیئے جا ہمیں گالیاں نہ چھوڑ واعظ بتوں کے چاہ ذقن کا بیاں نہ چھوڑ ورنہ کہیں نہ پائے گا پانی کنواں نہ چھوڑ پہنچا دے مکر و کید کو حد کمال تک اے دوست ناتمام کوئی داستاں نہ چھوڑ ان رہبران قوم سے یارب بچا مجھے چر لیں گی سب چمن مرا یہ بکریاں ...

مزید پڑھیے

ظاہراً یہ بت تو ہیں نازک گل تر کی طرح

ظاہراً یہ بت تو ہیں نازک گل تر کی طرح دل مگر ہوتا ہے کم بختوں کا پتھر کی طرح جلوہ گاہ ناز میں دیکھ آئے ہیں سو بار ہم رنگ روئے یار ہے بالکل چقندر کی طرح مونس تنہائی جب ہوتا نہیں ہے ہم خیال گھر میں بھی جھنجھٹ ہوا کرتا ہے باہر کی طرح آپ بے حد نیک طینت نیک سیرت نیک خو حرکتیں کرتے ہیں ...

مزید پڑھیے

اک جفا جو سے محبت ہو گئی

اک جفا جو سے محبت ہو گئی ہائے یہ کیسی حماقت ہو گئی ہو گیا جس پر مسیحا مہرباں بند اس کے دل کی حرکت ہو گئی آ گئی ان کی جوانی آ گئی ہو گئی برپا قیامت ہو گئی یہ تصور کی کرشمہ سازیاں دیکھا جس شے کو وہ عورت ہو گئی لیجے وہ اٹھی نگاہ التفات لیجے تکمیل حماقت ہو گئی جب نگاہ ناز کمسن کی ...

مزید پڑھیے

ادھر ہے باد سموم نالاں ادھر ہے برق تپاں بھی عاجز

ادھر ہے باد سموم نالاں ادھر ہے برق تپاں بھی عاجز مری بہاروں سے ہو گئی اب حرام زادی خزاں بھی عاجز یہ ہوش و عقل و خرد کی خامی پہ حرص رہبر کی تشنہ کامی کہ جس کو سیراب کرتے کرتے ہوا ہے اکثر کنواں بھی عاجز کیا ہے یوں عزم مستقل نے خلاف ان کے محاذ قائم کہ آج کل ہے ستم گروں کی چنیں بھی ...

مزید پڑھیے

مہ جبینوں کی محبت کا نتیجہ نہ ملا

مہ جبینوں کی محبت کا نتیجہ نہ ملا مرغیاں پالیں مگر ایک بھی انڈا نہ ملا حسن خود بیں نہ ملا حسن خود آرا نہ ملا جب میں سسرال گیا ایک بھی سالا نہ ملا کس طرح جاتا کوئی منزل مقصد کی طرف کوئی یکہ کوئی تانگہ کوئی رکشا نہ ملا نظر آیا نہ کہیں ناصح ناداں میرا جستجو جس کی تھی وہ مٹی کا ببوا ...

مزید پڑھیے

نہ جب دیکھی گئی میری تڑپ میری پریشانی

نہ جب دیکھی گئی میری تڑپ میری پریشانی پکڑ کر ان کو جھونٹے کھینچ لایا شوق عریانی لباس ایجاد کر ایسا کوئی اے عقل انسانی کہ تن پوشی کی تن پوشی ہو عریانی کی عریانی معاذ اللہ وہ کافر ادا کا حسن پنہانی کہ اب خطرے میں ہے ہر اک مسلماں کی مسلمانی بتا دیتی ہے بڑھ کر ان کے جلووں کی ...

مزید پڑھیے

ترک لذات پہ مائل جو بظاہر ہے مزاج

ترک لذات پہ مائل جو بظاہر ہے مزاج آج تو بگلا بھگت جیسے بنے ہیں مہراج حسن مغرور و سیہ فام کا کیسے ہو علاج شکل و صورت تو چڑیلوں کی ہے پریوں کے مزاج چھوڑ آئے حرم پاک میں جنس ایماں لاد کر لا نہ سکے جب کہ وطن تک حجاج ایسے بھی بانیٔ بیداد ہیں کچھ دنیا میں فلک پیر بھی دیتا ہے جنہیں جھک ...

مزید پڑھیے
صفحہ 602 سے 4657