شاعری

حاصل انتظار کچھ بھی نہیں

حاصل انتظار کچھ بھی نہیں یعنی انجام کار کچھ بھی نہیں حسرت وصل کے مقابل میں کلفت انتظار کچھ بھی نہیں دشت میں کچھ نہیں سراب تو ہے باغ میں گل نہ خار کچھ بھی نہیں کس سے اپنی شناخت لیتے ہو آئنہ جز غبار کچھ بھی نہیں دل میں جھانکو مرے اگر تو کھلے دامن تار تار کچھ بھی نہیں کون ہم سے ...

مزید پڑھیے

بے نشہ بہک رہا ہوں کب سے

بے نشہ بہک رہا ہوں کب سے دوزخ ہوں دہک رہا ہوں کب سے پتھر ہوئے کان موت کے بھی سولی پہ لٹک رہا ہوں کب سے جھڑتی نہیں گرد آگہی کی دامن کو جھٹک رہا ہوں کب سے لاہور کے کھنڈروں میں یا رب بلبل سا چہک رہا ہوں کب سے روشن نہ ہوئیں غزل کی شمعیں شعلہ سا بھڑک رہا ہوں کب سے تاریک ہیں راستے وفا ...

مزید پڑھیے

آؤ کہ ابھی چھاؤں ستاروں کی گھنی ہے

آؤ کہ ابھی چھاؤں ستاروں کی گھنی ہے پھر شام تلک دشت غریب الوطنی ہے کچھ بھی ہو مگر حسن کی فطرت میں ابھی تک پابندیٔ رسم و رہ خاطر شکنی ہے مت پوچھ کہ کیا رنگ ہے ضبط غم دل میں ہر اشک جو پیتا ہوں وہ ہیرے کی کنی ہے شاعر کے تخیل سے چراغوں کی لوؤں تک ہر چیز تری بزم میں تصویر بنی ہے تم جس ...

مزید پڑھیے

جانے کیا بات ہے مانوس بہت لگتا ہے

جانے کیا بات ہے مانوس بہت لگتا ہے یہ جو اک غیر سا اس بزم میں آ بیٹھا ہے عمر بھر تو نے زمانے کا کہا مانا ہے دل کی آواز بھی سن دیکھ تو کیا کہتا ہے مل بھی جائے جو کوئی ناؤ تو اب کیا حاصل اب تو دریا مرے دروازے پہ آ پہنچا ہے اس نے دل جان کے چھیڑا اسے معلوم نہ تھا میرے پہلو میں دہکتا ...

مزید پڑھیے

وہ پاس آئے آس بنے اور پلٹ گئے

وہ پاس آئے آس بنے اور پلٹ گئے کتنے ہی پردے آنکھوں کے آگے سے ہٹ گئے ہر باغ میں بہار ہوئی خیمہ زن مگر دامن کے ساتھ ساتھ یہاں دل بھی پھٹ گئے گمراہیوں کا لپکا کچھ ایسا پڑا کہ ہم منزل قریب آئی تو رہبر سے کٹ گئے دل دے کے اس طرح سے طبیعت سنبھل گئی گویا تمام عمر کے جھگڑے نپٹ گئے برسوں ...

مزید پڑھیے

اپنوں سے مروت کا تقاضا نہیں کرتے

اپنوں سے مروت کا تقاضا نہیں کرتے صحراؤں میں سائے کی تمنا نہیں کرتے مجنوں پہ نہ کر رشک کہ جو اہل وفا ہیں مر جاتے ہیں معشوق کو رسوا نہیں کرتے ٹک دیکھ لیا آنکھوں ہی آنکھوں میں ہنسے بھی پر یوں تو علاج دل شیدا نہیں کرتے کیا ہو گیا اس شہر کے لوگوں کے دلوں کو خنجر بھی اتر جائے تو دھڑکا ...

مزید پڑھیے

کوٹھے اجاڑ کھڑکیاں چپ راستے اداس

کوٹھے اجاڑ کھڑکیاں چپ راستے اداس جاتے ہی ان کے کچھ نہ رہا زندگی کے پاس دو پل برس کے ابر نے دریا کا رخ کیا تپتی زمیں سے پہروں نکلتی رہی بھڑاس مٹی کی سوندھ جاتے ہوئے ساتھ لے اڑی ڈالی کا لوچ پات کی سبزی کلی کی باس اشکوں سے کس کو پیار ہے آہوں سے کس کو انس لیکن یہ دل کہ جس کو خوشی آ ...

مزید پڑھیے

کچھ حشر سے کم گرمئ بازار نہیں ہے

کچھ حشر سے کم گرمئ بازار نہیں ہے وہ جنس ہوں میں جس کا خریدار نہیں ہے اس رات کے گمبھیر اندھیرے میں ہے کیا کیا حاصل تجھے پر دیدۂ بے دار نہیں ہے ممکن ہو تو سینے میں اتر کر تو مرے دیکھ وہ لاش ہوں میں جس کا عزا دار نہیں ہے اک تیرے تغافل نے کمر توڑ کے رکھ دی ورنہ غم دنیا تو مجھے بار ...

مزید پڑھیے

ہر چند سہارا ہے ترے پیار کا دل کو

ہر چند سہارا ہے ترے پیار کا دل کو رہتا ہے مگر ایک عجب خوف سا دل کو وہ خواب کہ دیکھا نہ کبھی لے اڑا نیندیں وہ درد کہ اٹھا نہ کبھی کھا گیا دل کو یا سانس کا لینا بھی گزر جانا ہے جی سے یا معرکۂ عشق بھی اک کھیل تھا دل کو وہ آئیں تو حیران وہ جائیں تو پریشان یارب کوئی سمجھائے یہ کیا ہو ...

مزید پڑھیے

بزم سنواروں غزلیں گاؤں

بزم سنواروں غزلیں گاؤں جینے کے انداز بناؤں ہر دم رو رو خون کے آنسو کیوں آنکھوں کی آب گنواؤں کب تک دل کے بہکانے پر تارے گن گن رات بتاؤں ان کو میرا دھیان نہیں ہے میں کیوں اپنی جان گنواؤں میرا غم کس نے کھایا ہے میں کیوں دنیا کا غم کھاؤں سب سے ترک تعلق کر لوں خود سے رسم و راہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 557 سے 4657